در و دیوار بھی حافظہ رکھتے ہیں۔۔۔ربیعہ سلیم مرزا

در و دیوار بھی شاید حافظہ رکھتے ہیں۔ جب بھی لوٹ کر آؤ، یادیں خود بخود دہرانے لگتے ہیں۔
آبائی شہر آئی ہوں تو اکثر "بختے والے" محلے اپنے پیاروں سے ملنے چلی جاتی ہوں۔ آج بھی گھر میں داخل ہوتے ہی ڈیوڑھی کے بعد پھیلا ہوا وسیع صحن یوں بانہیں وا کیے کھڑا تھا جیسے مدتوں بعد کوئی بچھڑا واپس آیا ہو۔
میرے چھوٹے چھوٹے ہاتھ سُتلی سےاُلجھ رہےتھے۔۔۔میرا بھائی محسن۔۔
وہ کبھی ہنستا، کبھی ڈانٹتا،
“دیکھو، ایسے نہیں۔۔۔
پہلے ڈوری کا کنارہ مضبوطی سے تھامو، اسے لٹو پر برابر لپیٹو، پھر جھٹکے سے پھینکو۔۔۔
ڈھیلا چھوڑو گی تو نہیں گھومے گا۔۔۔”
ہم اسی بڑے گھر کے صحن میں بیٹھے تھے جب دھوپ چھن کر زمین پر سنہری جال بچھاتی تو وہ میرے ننھے ہاتھوں میں لٹو تھما دیتا۔ لکڑی کا بھورا سا لٹو، جس کی کیل دھات کی تھی اور جس پر اس کے ہاتھوں کے دھبے آج بھی محفوظ ہیں۔
وہ پہلے خود سُتلی لپیٹ کر دکھاتا ،کتنے سلیقے سے جیسے زندگی کو ترتیب دے رہا ہو۔ پھر ایک جھٹکے سے زمین پر پھینکتا۔ لٹو تیزی سے گھومتا، جیسے اپنی ہی خوشی میں ناچ رہا ہو۔
“اب کھینچو!”
وہ کہتا اور میں گھبرا کر سُتلی واپس کھینچ لیتی۔ کبھی لٹو سیدھا جا کھڑا ہوتا، گھومنے لگتا کبھی لڑکھڑا کر گر پڑتا۔ وہ پھر مسکرا دیتا۔۔۔
“کوئی بات نہیں، گرنا بھی کھیل کا حصہ ہے۔۔۔”
تب مجھے کہاں معلوم تھا کہ وہ مجھے صرف لٹو نہیں، زندگی سکھا رہا ہے۔
وقت کی سُتلی ہم دونوں کے ہاتھوں سے آہستہ آہستہ سِرکتی رہی۔ ابو کے جانے کے بعد اس نے ذمہ داریوں کا بوجھ یوں سنبھالا جیسے لٹو اپنی گردش سنبھالتا ہے۔ پڑھائی چھوڑ دی، مگر ہمت نہ چھوڑی۔ وہ خود گھومتا رہا تاکہ ہماری زندگی کا توازن نہ بگڑے۔ میں دور کھڑی دیکھتی رہتی ۔نہ شکایت، نہ ڈگمگاہٹ۔
پھر ایک دن۔۔۔ جیسے کسی نے سُتلی اچانک کاٹ دی۔
گردش رک گئی۔
صحن وہی ہے۔ دھوپ وہی ہے۔
مگر اب صحن میں کوئی لٹو نہیں ناچتا۔
آج اس کی سالگرہ ہے۔
پانچ سال پہلے، آج ہی کے دن۔۔۔
ہم مبارکباد اور عمر درازی کی دعائیں لے رہے تھے۔
کیا خبر تھی کہ یہی دعائیں ایک دن دعائے مغفرت میں بدل جائیں گی۔
آج میں نے الماری سے وہ پرانا لٹو نکالا۔ سُتلی اب بھی لپٹی ہوئی تھی، بس ذرا سی پیلی پڑ گئی تھی۔ اسے ہاتھ میں لیا تو یوں لگا جیسے اس کا لمس انگلیوں میں اتر آیا ہو۔
میں نے دھیرے سے سُتلی لپیٹی۔
ایک لمحہ ٹھہری۔
پھر زمین پر پھینک دیا۔
لٹو گھومنے لگا۔
میں دیر تک اسے دیکھتی رہی۔ وہ توازن کے ساتھ ناچ رہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ سکھاتا تھا۔ پھر میں نے پور کی جُنبش سے اسے اُچھالا تو وہ سیدھا میری ہتھیلی پر آ گرا۔
اچانک مجھے سمجھ آیا۔۔۔
وہ گیا نہیں۔
اس نے سُتلی میرے ہاتھ میں دے دی ہے۔
اب زندگی جب جب مجھے زمین پر پٹختی ہے، میں گھبراتی نہیں۔
مجھے معلوم ہے،
توازن مضبوطی سے آتا ہےاور گرنا بھی سفر کا حصہ ہے۔!
لِٹو ابھی بھی گھوم رہا ہے۔۔!
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !