چٹا قاری۔۔۔۔۔ واجد امیر

 رمضان آتا ہے تو اپنے بچپن اور نوجوانی کے زمانے کا ماہِ رمضان یاد آجاتا ہے وہ سب لوگ ، وہ لمحے ، وہ جگہیں ، سب کچھ مجسم ہو جاتا ہے رمضان کا چاند دکھائی دیتے ہی تاش کھیلنا ، فلم دیکھنا ، گانے سننا خود پہ حرام کر لیا جاتا اور یہاں تک کے بے تکلفانہ مذاق میں زبان کی پھسلن پہ بھی پابندی عاید کر دی جاتی جو قطعاً خود ساختہ ہوتی جس کی پابندی کی جاتی اور کروائی جاتی ۔
       ہم جس مسجد میں نماز پڑھنے جاتے تھے وہ بہت چھوٹی سی تھی کسی زمانے میں اس میں لاؤڈ اسپیکر تک نہیں ہوتا تھا بلکہ بہت سے مساجد میںلاؤڈ اسپیکر نہیں ہوتا تھا ،روزہ کشائی کے لیے مسجد کی چھت پہ نوبت رکھی ہوتی جسے نوجوان بجاتے اور اور روزہ افطار ہوتا ٹیلی ویثرن تھا مگر کسی کسی کے پاس۔ لوگ گلیوں اور چھتوں پہ چڑھ کے افطاری کے اعلان کا انتظار کرتے یوں نوبت بجنے ، سائیرن بجنے ، تانگے پہ افطاری کے اعلان یا کہیں کہیں کسی مسجد میں اعلان ہونے پہ روزہ افطار کرتے ۔
          ستر کی دھائی کے ابتدائی سال تھے جب ہمارا مسجد مہاجرین سے آخری بس اسٹاپ کی مسجد میں زیادہ آنا جانا شروع ہوا اس زمانے میں مساجد بہت سادہ ہوتی تھی زیادہ تو فرش اینٹوں کے ہوتے مرکزی حال میں سیمنٹ کا فرش ہوتا تھا وہ مخصوس صفیں ہوتیں چند بلب ہوتے یا کہیں کہیں ٹیوب لائٹ لگی ہوتی ۔ماربل ، ٹائل ،چپس ، ٹینٹد گلاس ، ائر کنڈیشن وغیر جیسی دنیاوی آسائیشیں ناپید تھیں جو پنکھے چلتے تھے ان کے نیچے پرانے نمازی پہلے سے آکر بیٹھ جاتے تھے ۔ 
    سو ہم جامعہ مسجد حنفیہ فاروقیہ میں جانا شروع ہوئے چونکہ رمضان تھا جس میں یوں بھی عبادات زوروں پہ ہوتی ہیں سو ہم بہت سے ہم جولیوں اور کزنز کے ساتھ جاتے تھے یہ ہماری مراجعت تھی محلے کی مسجد الکوثر سے بڑی مسجد کی طرف ۔ چھوٹی مسجد کی نسبت یہاں رونق زیادہ تھی سو ہمیں پہلی بار چٹے قاری کو دیکھنے کا موقع ملا ، چٹا قاری ویسا ہی تھا جیسے سورج مکھی ہوتے ہیں،چہرہ جسم ، بال، بھویں ،پلکیں یعنی سب کچھ دودھیا سفیدتھاقاری کی نظر بہت کمزور تھی اور گہرے نیلے رنگ کا نظر کا چشمہ لگاتا درمیانہ قد تھا، اس کی آواز بہت کراری اور تیز تھی ، خود بھی تیز تیز چلتا ، کم آمیز و کم سخن بھی تھا کم ہی کسی سے بے تکلف ہوتا قاری عربوں والا سفید لمبا کرتا جسے توپ کہتے ہیں پہنتا اس پہ پگڑی باندھتا یاد رہے وہ زمانہ قراقلی ٹوپی کا تھا علمائے اکرام و مساجد کے امام قراقلی ٹوپی پہنا کرتے تھے مگر قاری پگڑی باندھتا !تو یہ تھا قاری چٹا ۔
                            نام تو یاد نہیں رہا شاید زبیر تھا ۔ بس یہی یاد رہاقاری کو قرآنِ حکیم کی تلاوت سے عشق تھا آواز بھی بہت اچھی اور کھڑی تھی ،گلا بھی خوب تھاایک تو قرآن سے محبت دوسرے اسے لاؤڈ اسپیکر کا خبط تھا لاؤڈ اسپیکر کا بہت اہتمام کرتا ۔اسے زرا سی بھی لاؤڈ اسپیکر میں کمی بیشی برداشت نہ تھی محلے کے الیکٹریشن اور لاؤڈ اسپیکر مرمت کرنے والے کے ساتھ ہر وقت رابطہ رکھا جاتا تھا اس زمانے میں چونکہ گرمی کے روزے تھے سو مسجد کے صحن ہی میں تراویح اداکی جاتی تھی منبر کے پاس سے تار باہرصحن تک لانے میں کئی قباحتیں تھی تار منقطع ہو جاتی تھی چٹا قاری شروع وقت سے مائک کو ٹھک ٹھکا کر کے چیک کرتا رہتا تھا لاؤڈ اسپیکر سے بار بار چھیڑ چھاڑ کئی تلخ مزاج بابوں کو گراں گزرتی سو کسی کسی وقت چخ چخ بھی ہوہی جاتی تھی،۔
     قاری کئی سال آخری اسٹاپ کی مسجد میں تراویح پڑھاتا رہا اسے قرآن بھی اچھا یاد تھا قرآت بھی اچھی تھی اسے کسی قسم کے پیسوں کی بھی لالچ نہ تھی بلکہ بہت سے اخراجات اپنے پلے سے کر گزرتا تھا کسی کو قاری کے گھر بار کا علم نہ تھا اسے بھی نہیں جسے انور کمار عرف چندا کہتے تھے اور جو ہمارا یار غار تھا بس اسے تو قاری کی ہر ہر حرکت پہ ہنسی آتی تھی وہ بھی بس یہ کہتا کہ قاری ہے بہت امیر آدمی اس کے گھر بار کا کچھ پتا نہ تھا ۔                                          
                                مسجد اوقاف کی تھی مگر محکمہ کو صرف امام ، مؤذن اور کرائے سے دلچسپی تھی باقی انتظامات مسجد کمیٹی چلاتی تھی سو قاری جیسے اوقاف کے کسی کام کے نہ تھے البتہ محلے کے کچھ بوڑھے جن کا کام ہی فساد ڈالنا تھا وہ قاری سے بلا وجہ ناراض رہتے اور اس کی خامیاں تلاش کرتے رہتے لاؤڈ اسپیکر سے قاری کی وابستگی انہیں ایک آنکھ نہ بھاتی انہیں ۔ قاری مسجد کے حجرے میں رہتا اذان بھی دیتا اور نماز بھی پڑھا لیتا مگر ان تمام خوبیوں اور خدمات کے باوجود کہیں اندر ہی اندر کھچڑی پک رہی تھی ۔ پھر وہ وقت بھی آگیا جب مسجد کے بلکل سامنے رہنے والے تایا غلام نبی کی عیارانہ سازش یا مخالفت کا نشانہ بننے میں چٹے قاری کو وقت نہیں لگا ایک دن تایا غلام نبی نے چٹے قاری پہ بد چلنی کا الزام لگا کے اسے مسجد سے نکال باہر کیا مسجد کے معاملات سے کسی شخص کو نکالنے کے لیے تایا غلام نبی کا یہ پُرانا ہتھیار تھا جس کی کند دھار سے کئی قتیل ہوئے جب قاری اپنا سامان سمیٹ رہا تھا تو بہت چپ تھا اس کا رنگ تو پہلے ہی سفید تھا مذید کیا ہوتا بس ہاتھ کپکپا رہے تھے اس پہ امام مسجد کی پراسرار خاموشی کئی سوال کھڑے کر رہی تھی ۔ یہاں سے نکل کے قاری نے وہیں قریب کمر کرائے پہ لے لیا اور پھر بھائی کریم کے مدرسے میں شبینہ پڑھانے لگا اسے اس علاقے سے انسیت تھی کچھ عرصہ قاری کرشن نگر کی مختلف مساجد میں تراویح پڑھاتا رہا یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چل نہ آخرکئی مساجد میں شبینہ اور تراویح پڑھانے کے بعد ہمارے کیمرے کی آنکھ سے ہٹ گیا۔۔۔  رہے نام اللہ کا۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !