لفظوں کا چارہ گر، ڈاکٹر بیدل حیدری۔۔۔طارق جاوید

بیدل حیدری اردو ادب کے وہ درویش صفت شاعر تھے جنہوں نے لفظوں کو محض قافیہ پیمائی کے لیے نہیں بلکہ انسانی دکھوں کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا۔ ان کی شاعری کسی مصنوعی گل و بلبل کے افسانے کا نام نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت کا عکس ہے جسے ہم معاشرتی ناہمواری اور غربت کہتے ہیں۔
ادب کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو شہرت کی چکا چوند سے دور رہ کر بھی دلوں پر راج کرتے ہیں۔ بیدل حیدری کا شمار بھی ایسے ہی تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جن کی شاعری میں مٹی کی خوشبو اور عام آدمی کے کرب کی تڑپ موجود ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کبیروالا کی گلیوں میں بسر کیا، جہاں وہ ایک کلینک بھی چلاتے تھے، مگر ان کا اصل علاج جسمانی بیماریوں سے زیادہ سماجی ناسوروں کی نشاندہی کرنا تھا۔

بیدل حیدری نے شاعری کے سفر کا آغاز 1944ء میں کیا۔ ان کا تخلیقی کینوس وسیع تھا، جس میں رومانوی لطافت کے ساتھ ساتھ معاشرتی ناہمواری، غربت اور معاشی تنگدستی کے موضوعات غالب رہے۔ ان کی تصانیف ان کے فکری ارتقاء کی گواہ ہیں:
میری نظمیں (1994ء): ان کا پہلا مجموعہ کلام جو ان کی نظم گوئی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پشت پہ گھر (1996ء): یہ مجموعہ تمام تر غزلوں پر مشتمل ہے اور بیدل کے مخصوص لہجے کی نمائندگی کرتا ہے۔
اوراقِ گل: یہ مجموعہ بھی منظرِ عام پر آیا لیکن گردشِ دوراں کی نذر ہو کر نایاب ہو گیا، جو بلاشبہ اردو ادب کا ایک بڑا نقصان ہے۔
فن اور ذاتی کرب کا سنگم
بیدل حیدری کی شاعری محض تخیل نہیں بلکہ ان کے ذاتی تجربات کا نچوڑ ہے۔ معاشی تنگدستی اور زندگی کے تلخ حادثات نے ان کے قلم کو وہ دھار دی جو قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اپنی والدہ کی وفات پر لکھی گئی نظم ہو یا اپنے جوان بیٹے کی المناک موت پر لکھا گیا نوحہ، ان کی شاعری کا ہر لفظ ان کے خونِ جگر سے لکھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان تخلیقات میں غمِ دوراں اور غمِ جاناں اس طرح یکجا ہو گئے ہیں کہ وہ ہر پڑھنے والے کا اپنا دکھ بن جاتے ہیں۔
آخری سفر
شاعری کے اس روشن ستارے نے 07 مارچ 2004ء کو کبیروالا کی زمین پر اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر لیں۔ وہ آج بھی کبیروالا کے مقامی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کو انسانیت سے محبت اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا درس دیتا ہے۔

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچّے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچّے

ان ہواؤں سے تو بارود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچّے

کیا بھروسہ ہے سمندر کا، خدا خیر کرے
سیپیاں چننے گئے ہیں مرے سارے بچّے

ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچّے

یہ ضروری ہے نئے کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچّے ۔

دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا
پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا

وہ ٹاٹ کی قبا تھی کہ کاغذ کا پیرہن
جیسا بھی مل گیا ہمیں ویسا پہن لیا

فاقوں سے تنگ آئے تو پوشاک بیچ دی
عریاں ہوئے تو شب کا اندھیرا پہن لیا

گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی 
ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا

بیدل لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا
اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا 
...................................................

یہ جو چہروں پہ لئے گردِ الم آتے ہیں
یہ تمہارے ہی پشیمانِ کرم آتے ہیں

اِتنا کُھل کر بھی نہ رو، جسم کی بستی کو بچا!
بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں

تُو سنا، تیری مسافت کی کہانی کیا ہے؟
میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں

خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم، شہر میں کم آتے ہیں

وہ تو بیدل کوئی سُوکھا ہوا پتا ہو گا
تیرے آنگن میں کہاں اُن کے قدم آتے ہیں
...............................................

ہم کبھی شہرِ محبت جو بسانے لگ جائیں 
کبھی طوفان کبھی زلزلے آنے لگ جائیں

کبھی اک لمحہء فرصت جو میسر آ جائے 
میری سوچیں مجھے سولی پہ چڑھانے لگ جائیں

رات کا رنگ کبھی اور بھی گہرا ہو جائے 
کبھی آثار سحر کے نظر آنے لگ جائیں

انتظار اس کا نہ اتنا بھی زیادہ کرنا 
کیا خبر برف پگھلنے میں زمانے لگ جائیں

آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں تجھے دن میں ہم لوگ 
شب کو کاغذ پہ ترا چہرہ بنانے لگ جائیں

ہم لکھاری بھی عجب ہیں کہ بیاضِ دل پر 
خود ہی اک نام لکھیں‌خود ہی مٹانے لگ جائیں

گھر میں بیٹھوں تو اندھیرے مجھے نوچیں بیدل
باہر آؤں تو اجالے مجھے کھانے لگ جائیں 
.............................................
رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اُسے
لگنے دے ایک اور بھی ضربِ شدید اُسے

جی ہاں ! وہ اِک چراغ جو سُورج تھا رات کا
تاریکیوں نے مِل کے کِیا ہے شہید اُسے

فاقے نہ جُھگیوں سے سڑک پر نکل پڑیں
آفت میں ڈال دے نہ یہ بحرانِ عید اُسے

فرطِ خُوشی سے وہ کہیں آنکھیں نہ پھوڑ لے
آرام سے سناؤ سحر کی نوید اُسے

ہر چند اپنے قتل میں شامل وہ خُود بھی تھا
پھر بھی گواہ مل نہ سکے چشم دید اُسے

بازار اگر ہے گرم تو کرتب کوئی دِکھا!
سب گاہکوں سے آنکھ بچا کر خرید اُسے

مدت سے پی نہیں ہے تو پھر فائدہ اُٹھا!
وہ چل کے آ گیا ہے تو کر لے کشید اُسے

مشکُوک اگر ہے خط کی لکھائی تو کیا ہوا
جعلی بنا کے بھیج دے تو بھی رسید اُسے
.................................
اَن کہی کو کہی بنانا ہے
اعتبارِ سُخن بڑھانا ہے

میرے اندر کا پانچواں موسم!
کِس نے دیکھا ہے، کِس نے جانا ہے

ڈگڈگی ہی نہیں بجانی مجھے
عشق کو ناچ بھی سِکھانا ہے
تم جو اتنا اُٹھا رہے ہو مجھے

کِس کنوئیں میں مجھے گِرانا ہے
رات کو روز ڈُوب جاتا ہے

چاند کو تیرنا سِکھانا ہے
ہجر میں نِیند کیوں نہیں آتی!

ہجر کا زائچہ بنانا ہے
میں وہ بوسِیدہ قبر ہوں بیدؔل
دفن جس میں مرا زمانہ ہے
.................................

ِری داستانِ الم تو سُن، کوئی زلزلہ نہیں آئے گا
مِرا مدعا نہیں آئے گا، تِرا تذکرہ نہیں آئے گا

کئی گھا ٹیوں پہ محیط ھے مِری زندگی کی یہ رہ گزر
تِری واپسی بھی ھوئی اگر، تجھے راستہ نہیں آئے گا

اگر آئے دشت میں جھیل تو مجھے احتیاط سے پھینکنا
کہ مَیں برگِ خُشک ھوں دوستو مجھے تیرنا نہیں آئے گا

اگر آئے دن تِری راہ میں، تِری کھوج میں، تِری چاہ میں
یوں ہی قافلے جو لٹا کئے کوئی قافلہ نہیں آئے گا

کہیں انتہا کی ملامتیں، کہیں پتھروں سے اٹی چھتیں
تِرے شہر میں مِرے بعد اب کوئی سَر پھرا نہیں آئے گا

کوئی انتظار کا فائدہ مِرے یار بیدل غمزدہ
تجھے چھوڑ کر جو چلا گیا، نہیں آئے گا، نہیں آئے گا
..........................

دیکھ لو گے ابھی دیکھا کیا ھے
تم نہیں جانتے دُنیا کیا ھے !!

ڈال جاتا ھے کوئی خاک میں جان
ورنہ یہ خاک کا پتلا کیا ھے !!

مانگنے والا تو بن، بعد میں دیکھ
دینے والا تجھے___ دیتا کیا ھے !!

خود نہیں چھوڑتا بیدل مَیں یہ شہر
ورنہ اِس شہر میں میرا کیا ھے !!
......................................

چاند کا حال بُرا لگتا ھے
جیسے کشکول پڑا لگتا ھے

جس طرف جاؤں جُھکا لگتا ھے
آسماں پہنچا ھوا لگتا ھے

کرسیءِ عدل گِری پڑتی ھے
کوئی سولی پہ چڑھا لگتا ھے

پاؤں پکڑے ھوئے بیٹھی ھے بہار
پاؤں میں کانٹا چُبھا لگتا ھے

رہگزر چلتی ہوئی لگتی ھے
قافلہ ٹھہرا ھوا لگتا ھے

بس یونہی گھاٹ پہ جا بیٹھتا ہوں
ورنہ دَریا میرا کیا لگتا ھے

عشق کا رُوگ بُرا ھے بیدل
جس کو لگتا ھے، بُرا لگتا ھے

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !