سوشل میڈیا پر ۔۔۔ صبغت اللہ وائیں

سوشل میڈیا مسلسل اپنے الٹ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
چند دن پہلے youtube پر ’’انسانی تاریخ کے ایک سو ایک احمقوں‘‘ پر ایک کلپ سامنے آیا جس میں بنانے والے نے آخر میں پوچھا تھا، ’’آپ ان میں سب سے بڑا احمق کس کو کہیں گے؟‘‘

میں اپنی بات کہوں تو مجھے بہت سے احمقوں کے درمیان جو ایک احمق خاص طور پر قابل ذکر نظر آیا تھا وہ دوسری عالمی جنگ کے دور میں فرانس کا جنرل موریسؔ تھا۔ جو جدید ٹیکنالوجی مثلاً تار برقی، ریڈیو وائر لیس، اور ٹیلی فون وغیرہ کے استعمال کے خلاف تھا، اور پرانے طریق کار یعنی ہرکاروں وغیرہ کے استعمال کو ترجیح دیتا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے قلعے پر جرمن قبضہ ہو چکا تھا، اور وہ ہرکارے کے انتظار میں تھا کہ اس کو خبر ملے۔

عام پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا حکمران طبقے کے ہاتھ میں عوام کو passive بنانے اور بنائے رکھنے میں ایک ٹول کے طور پر برتا جاتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے آ جانے سے عوام کسی حد تک ایکٹیو نظر آنے لگے تھے۔

لیکن کچھ عرصے سے سوشل میڈیا، جیسے کہ فیس بُک وغیرہ بھی اسی طرح passive بنانے کا کام کر رہی ہے۔ جیسے ہی کوئی فیس بُک کو کسی ’’ایکٹیویٹی‘‘ کے لیے کھولتا ہے، آگے صارف کی دل چسپی کا ایسا مواد آ جاتا ہے، جو کہ صارف کی مرضی کے ان لوگوں کا نہیں ہوتا، جو کہ اس کے ’’دوستوں‘‘ کی لسٹ میں سے تھے، بلکہ دنیا جہان سے چن کر اس کے سامنے لایا گیا ہوتا ہے۔ صارف کی دل چسپی خود کار طریقے سے مسلسل معلوم کی جاتی ہے، اور اس سے متعلقہ مواد دکھاتے ہوئے اس طرح سے مسلسل تبدیل کی جاتی ہے کہ صارف اسی چکر میں گول گول گھومتا بھی رہے، اور ساتھ میں تھوڑا تھوڑا اس طرف کو جانا بھی شروع کر دے جس جانب گھمانے والا لے جانا چاہتا ہے۔

میں نے اس پر بہت پہلے ایک آرٹیکل ’’دستک‘‘ کے نام سے لکھا تھا اس میں سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں:

//علمِ نفسیات پر سرمایہ کاری کرنے والوں کی سب سے بڑی خواہش انسان کو نفسیاتی الجھنوں سے یا بیماریوں سے نجات دلانا، یا پھر انسان کے ذہن کو سمجھنا نہیں رہا، بلکہ ان کا مقصد انسان کے ذہن کو کنٹرول کرنا اور اس کو اس طرح سے سوچنے پر مجبور کرنا رہا ہے جیسے کہ حکمران طبقے کے یہ سرمایہ کار چاہتے ہیں۔ جو کہ ان کے طبقے کے مفاد میں ہے، یعنی انسان یا عوام الناس کے خود کے مفاد کے برخلاف۔
حوالے کے لیے بعض نفسیات دانوں کے اپنے الفاظ دیے جا سکتے ہیں۔
مثلاً کرداریت پسند نفسیات کے بانی تھارن ڈائیک کے اپنے الفاظ ہیں: انسانی فطرت کا مطالعہ کرنے کا اس وقت تک کوئی جواز نہیں جب تک کہ ہم اس علم کے ذریعے انسان کے اعمال کو کنٹرول نہ کر سکیں۔
واٹسن کا دعویٰ تھا کہ اس کو عام بچے دے دیے جائیں تو وہ ان کو کرداریت کے اصولوں کے ذریعے جو چاہے بنا دے گا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تشریط(Conditioning) کے ذریعے سماجی کنٹرول بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔
سکِنر کا کہنا ہے کہ ”ہم انفرادی وجود کے کردار کی پیشین گوئی کرنا اور اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں“۔//

غور سے دیکھنے والا بالآخر اس سب کے پیچھے معاشیات تک پہنچ جائے گا۔ کہ آخری مقصد عوام کو وہ مال بیچنا ہے، جس کا خریدنا کسی بھی طرح سے ضروری نہیں۔

اس طرح سے ہم ان لوگوں کو بھی جواب دے سکتے ہیں جو کہ ’’خود کاریت‘‘ (automation) کی سو فیصد حصولی کی بات کرتے ہیں، جیسے کہ صرف روبوٹ کام کریں گے، وغیرہ۔ ۔ ۔ جس کو فلسفے کی زبان میں معروضیت کا مطلق حصول کہا جا سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ اس ساری مجہولیت کے پیچھے چھپی حکمران سرمایہ دار طبقے کی سوچی سمجھی سکیم کو دیکھنا اتنا ہی آسان ہے، جتنا کہ دن اور رات کا فرق کر پانا۔ یعنی اصل مقصد منافع خوری اور فضول چیزیں بیچ کر خود کو مڈل کلاس کہنے والوں کو مونڈنا ہے۔ لیکن اس سامنے کی بات کو جاننے کے لیے گہرائی میں سوچنا کیوں ضروری ہے، یہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔

جس کسی نے کرک ڈگلس کی فلم سپارٹیکس 1960 دیکھی ہے، اس کو غلاموں کی بغاوت کا ایک سین اچھی طرح سے یاد ہو گا جس میں وہ جنگلہ جو کہ غلاموں کو قید کرنے کا کام کر رہا تھا، جس کے اوپر تیز دھار بلموں کی انیاں لگی تھیں، غلاموں نے اسی جنگلے کو مل کر اکھاڑ لیا تھا، اور اسی جنگلے کی مدد سے رومن فوج کر کھدیڑ ڈالا تھا۔

اس سین میں بھی کوئی لمبا چوڑا فلسفہ بظاہر تو نظر نہیں آتا، لیکن گہرائی میں سوچنے والوں کے لیے ایک سامنے کی بات موجود ہے۔ کہ ٹول غیر جانب دار ہیں، اور غیر طبقاتی ہیں۔ ان کا استعمال ان کو یہ کردار فراہم کرتا ہے، کہ وہ کس طبقے کے مفاد میں استعمال ہو رہے ہیں۔

ہم محکوم طبقے کے لوگ اگر کسی ٹول کے استعمال کو یہ سمجھ کر رد کر دیں کہ یہ تو حکمران طبقے کا ٹول ہے، تو کیا ہم اپنے استعمال کے لیے نئے ٹولز کے ایجاد ہونے کا انتظار کریں گے؟ کیا ہم اس بنا پر تعلیم کی مخالفت شروع کر دیں کہ یہ انسان کو مطیع کرنے اور اس کو حکمرانوں کی مرضی پر چلانے کے لیے ایجاد کیا گیا آج تک کا سب سے موثر ٹول ہے؟

ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہم بعینہٖ وہی تعلیم حاصل کر کے جس کو حاصل کر کے سرمایہ دار کے محافظ، مینجر، منشی، اور کاسہ لیس پیدا ہوتے ہیں، سرمایہ داری کی جڑیں کاٹنے والے انقلابی پیدا کرتے آئے ہیں۔

لینن کے دور میں سنیما نیا نیا آیا ہوا تھا۔ لیکن لیننؔ نے اس کو دیکھ کر ایسی گہری بات کہی تھی جو آج بھی گہرائی میں سوچنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگرچہ اس کی دنیا کے تمام آرٹ پر گہری نظر تھی، پھر بھی اس کا کہنا تھا کہ یہ اہم ترین آرٹ ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ اس نے اس کے موثر ترین ہونے کو دیکھ لیا تھا۔

لکیر کے فقیر تو لیننؔ کے پیچھے چل پڑیں گے، اور کہیں گے کہ سنیما ہی موثر ترین آرٹ ہے۔ لیکن آج کے دور میں موثر ترین چیزوں میں باوجود سنیما کے ہونے کے بھی ہم اس کو لینن کی طرح نہیں لے سکتے، کہ عام عوام کے پاس سنیما کے لیے بڑی فلم بنانے کے ریسورسز نہیں ہے۔ لیکن دوسری جانب reel یا شارٹ بنانا یاسوشل میڈیا اور حماقت سازی
سوشل میڈیا مسلسل اپنے الٹ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
چند دن پہلے YouTube پر ’’انسانی تاریخ کے ایک سو ایک احمقوں‘‘ پر ایک کلپ سامنے آیا جس میں بنانے والے نے آخر میں پوچھا تھا، ’’آپ ان میں سب سے بڑا احمق کس کو کہیں گے؟‘‘
میں اپنی بات کہوں تو مجھے بہت سے احمقوں کے درمیان جو ایک احمق خاص طور پر قابل ذکر نظر آیا تھا وہ دوسری عالمی جنگ کے دور میں فرانس کا جنرل موریسؔ تھا۔ جو جدید ٹیکنالوجی مثلاً تار برقی، ریڈیو وائر لیس، اور ٹیلی فون وغیرہ کے استعمال کے خلاف تھا، اور پرانے طریق کار یعنی ہرکاروں وغیرہ کے استعمال کو ترجیح دیتا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے قلعے پر جرمن قبضہ ہو چکا تھا، اور وہ ہرکارے کے انتظار میں تھا کہ اس کو خبر ملے۔
عام پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا حکمران طبقے کے ہاتھ میں عوام کو passive بنانے اور بنائے رکھنے میں ایک ٹول کے طور پر برتا جاتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے آ جانے سے عوام کسی حد تک ایکٹیو نظر آنے لگے تھے۔
لیکن کچھ عرصے سے سوشل میڈیا، جیسے کہ فیس بُک وغیرہ بھی اسی طرح passive بنانے کا کام کر رہی ہے۔ جیسے ہی کوئی فیس بُک کو کسی ’’ایکٹیویٹی‘‘ کے لیے کھولتا ہے، آگے صارف کی دل چسپی کا ایسا مواد آ جاتا ہے، جو کہ صارف کی مرضی کے ان لوگوں کا نہیں ہوتا، جو کہ اس کے ’’دوستوں‘‘ کی لسٹ میں سے تھے، بلکہ دنیا جہان سے چن کر اس کے سامنے لایا گیا ہوتا ہے۔ صارف کی دل چسپی خود کار طریقے سے مسلسل معلوم کی جاتی ہے، اور اس سے متعلقہ مواد دکھاتے ہوئے اس طرح سے مسلسل تبدیل کی جاتی ہے کہ صارف اسی چکر میں گول گول گھومتا بھی رہے، اور ساتھ میں تھوڑا تھوڑا اس طرف کو جانا بھی شروع کر دے جس جانب گھمانے والا لے جانا چاہتا ہے۔
میں نے اس پر بہت پہلے ایک آرٹیکل ’’دستک‘‘ کے نام سے لکھا تھا اس میں سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں:
//علمِ نفسیات پر سرمایہ کاری کرنے والوں کی سب سے بڑی خواہش انسان کو نفسیاتی الجھنوں سے یا بیماریوں سے نجات دلانا، یا پھر انسان کے ذہن کو سمجھنا نہیں رہا، بلکہ ان کا مقصد انسان کے ذہن کو کنٹرول کرنا اور اس کو اس طرح سے سوچنے پر مجبور کرنا رہا ہے جیسے کہ حکمران طبقے کے یہ سرمایہ کار چاہتے ہیں۔ جو کہ ان کے طبقے کے مفاد میں ہے، یعنی انسان یا عوام الناس کے خود کے مفاد کے برخلاف۔
حوالے کے لیے بعض نفسیات دانوں کے اپنے الفاظ دیے جا سکتے ہیں۔
مثلاً کرداریت پسند نفسیات کے بانی تھارن ڈائیک کے اپنے الفاظ ہیں: انسانی فطرت کا مطالعہ کرنے کا اس وقت تک کوئی جواز نہیں جب تک کہ ہم اس علم کے ذریعے انسان کے اعمال کو کنٹرول نہ کر سکیں۔
واٹسن کا دعویٰ تھا کہ اس کو عام بچے دے دیے جائیں تو وہ ان کو کرداریت کے اصولوں کے ذریعے جو چاہے بنا دے گا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تشریط(Conditioning) کے ذریعے سماجی کنٹرول بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔
سکِنر کا کہنا ہے کہ ”ہم انفرادی وجود کے کردار کی پیشین گوئی کرنا اور اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں“۔//
غور سے دیکھنے والا بالآخر اس سب کے پیچھے معاشیات تک پہنچ جائے گا۔ کہ آخری مقصد عوام کو وہ مال بیچنا ہے، جس کا خریدنا کسی بھی طرح سے ضروری نہیں۔

اس طرح سے ہم ان لوگوں کو بھی جواب دے سکتے ہیں جو کہ ’’خود کاریت‘‘ (automation) کی سو فیصد حصولی کی بات کرتے ہیں، جیسے کہ صرف روبوٹ کام کریں گے، وغیرہ۔ ۔ ۔ جس کو فلسفے کی زبان میں معروضیت کا مطلق حصول کہا جا سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ اس ساری مجہولیت کے پیچھے چھپی حکمران سرمایہ دار طبقے کی سوچی سمجھی سکیم کو دیکھنا اتنا ہی آسان ہے، جتنا کہ دن اور رات کا فرق کر پانا۔ یعنی اصل مقصد منافع خوری اور فضول چیزیں بیچ کر خود کو مڈل کلاس کہنے والوں کو مونڈنا ہے۔ لیکن اس سامنے کی بات کو جاننے کے لیے گہرائی میں سوچنا کیوں ضروری ہے، یہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔
جس کسی نے کرک ڈگلس کی فلم سپارٹیکس 1960 دیکھی ہے، اس کو غلاموں کی بغاوت کا ایک سین اچھی طرح سے یاد ہو گا جس میں وہ جنگلہ جو کہ غلاموں کو قید کرنے کا کام کر رہا تھا، جس کے اوپر تیز دھار بلموں کی انیاں لگی تھیں، غلاموں نے اسی جنگلے کو مل کر اکھاڑ لیا تھا، اور اسی جنگلے کی مدد سے رومن فوج کر کھدیڑ ڈالا تھا۔
اس سین میں بھی کوئی لمبا چوڑا فلسفہ بظاہر تو نظر نہیں آتا، لیکن گہرائی میں سوچنے والوں کے لیے ایک سامنے کی بات موجود ہے۔ کہ ٹول غیر جانب دار ہیں، اور غیر طبقاتی ہیں۔ ان کا استعمال ان کو یہ کردار فراہم کرتا ہے، کہ وہ کس طبقے کے مفاد میں استعمال ہو رہے ہیں۔
ہم محکوم طبقے کے لوگ اگر کسی ٹول کے استعمال کو یہ سمجھ کر رد کر دیں کہ یہ تو حکمران طبقے کا ٹول ہے، تو کیا ہم اپنے استعمال کے لیے نئے ٹولز کے ایجاد ہونے کا انتظار کریں گے؟ کیا ہم اس بنا پر تعلیم کی مخالفت شروع کر دیں کہ یہ انسان کو مطیع کرنے اور اس کو حکمرانوں کی مرضی پر چلانے کے لیے ایجاد کیا گیا آج تک کا سب سے موثر ٹول ہے؟
ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہم بعینہٖ وہی تعلیم حاصل کر کے جس کو حاصل کر کے سرمایہ دار کے محافظ، مینجر، منشی، اور کاسہ لیس پیدا ہوتے ہیں، سرمایہ داری کی جڑیں کاٹنے والے انقلابی پیدا کرتے آئے ہیں۔
لینن کے دور میں سنیما نیا نیا آیا ہوا تھا۔ لیکن لیننؔ نے اس کو دیکھ کر ایسی گہری بات کہی تھی جو آج بھی گہرائی میں سوچنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگرچہ اس کی دنیا کے تمام آرٹ پر گہری نظر تھی، پھر بھی اس کا کہنا تھا کہ یہ اہم ترین آرٹ ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ اس نے اس کے موثر ترین ہونے کو دیکھ لیا تھا۔
لکیر کے فقیر تو لیننؔ کے پیچھے ہی چل پڑیں گے، اور کہیں گے کہ ہاں ہاں سنیما ہی موثر ترین آرٹ ہے۔ لیکن آج کے دور میں موثر ترین چیزوں میں باوجود سنیما کے ہونے کے بھی ہم اس کو لینن کی طرح نہیں لے سکتے، کہ عام عوام کے پاس سنیما کے لیے بڑی فلم بنانے کے ریسورسز نہیں ہے۔ لیکن دوسری جانب reel یا شارٹ بنانا یا ٹک ٹاک کے لیے ایک چھوٹا سا کلپ بنانے کا ٹول ہر ہاتھ میں موجود ہے۔ مسئلہ صرف اس کے نپے تلے استعمال کے کرنے کا ہے۔
لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مارکسی استاد کہلوانے والے دوست سوشل میڈیا سے بدکتے ہیں، اور اس کو ’’ردِ انقلابی‘‘ اور ’’بورژوا‘‘ بتا کر ’’ڈھائی سو سال پرانے طریق کار‘‘ سے چپکے رہنے کو انقلابی وفاداری بتا رہے ہیں۔ وہ جن کا کام عوام کو تعلیم اور شعور دینا تھا، سوشل میڈیا سے دور رہ کر اور اس کو بدعت بتا کر اور اپنے ان معدودے چند فالوورز کو سوشل میڈیا سے دور رکھ کر، جن کو منجھے ہوئے کیڈرز یا استاد کے طور پر آگے آ کر سوشل میڈیا کے میدان پر قبضہ کرنا چاہیے تھا، حماقت سازی کے اس سارے عمل میں خود ایک ایکٹیو عمل انگیز کا کام کر رہے ہیں جب کہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر وہ لوگ اساتذہ کے رتبے پر براجمان ہیں، جو اپنے خود کے طبقے اور خود کے مفاد کے بارے میں بھی کنفیوز ہیں۔ ٹک ٹاک کے لیے ایک چھوٹا سا کلپ بنانے کا ٹول ہر ہاتھ میں موجود ہے۔ مسئلہ صرف اس کے نپے تلے استعمال کے کرنے کا ہے۔

لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مارکسی استاد کہلوانے والے دوست سوشل میڈیا سے بدکتے ہیں، اور اس کو ’’ردِ انقلابی‘‘ اور ’’بورژوا‘‘ بتا کر ’’ڈھائی سو سال پرانے طریق کار‘‘ سے چپکے رہنے کو انقلابی وفاداری بتا رہے ہیں۔ وہ جن کا کام عوام کو تعلیم اور شعور دینا تھا، سوشل میڈیا سے دور رہ کر اور اس کو بدعت بتا کر اور اپنے ان معدودے چند فالوورز کو سوشل میڈیا سے دور رکھ کر، جن کو منجھے ہوئے کیڈرز یا استاد کے طور پر آگے آ کر سوشل میڈیا کے میدان پر قبضہ کرنا چاہیے تھا، حماقت سازی کے اس سارے عمل میں خود ایک ایکٹیو عمل انگیز کا کام کر رہے ہیں جب کہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر وہ لوگ اساتذہ کے رتبے پر براجمان ہیں، جو اپنے خود کے طبقے اور خود کے مفاد کے بارے میں بھی کنفیوز ہیں۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !