جدید افواہ سازی کی جنگ۔۔۔۔ توقیر بھُملہ

جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں۔ میزائل، ڈرون اور عسکری کارروائیوں کے ساتھ اطلاعات کا سیلاب لیے ہوئے ایک طاقتور محاذ بھی کھل چکا ہے۔ آج ایک ویڈیو، تصویر یا یک سطری پیغام چند منٹوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ کر رائے عامہ کو ہموار، تبدیل یا متاثر کر سکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران یہاں رضاکاروں پر مشتمل ایک ڈیجیٹل نگرانی پروگرام قائم کیا گیا جس کا مقصد جنگی پروپیگنڈا، جعلی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی فوری جانچ تھا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محاذ پر سچ اور جھوٹ کی تحقیق اور تصدیق میں خاکسار بھی بطور رضا کار شامل ہے۔معلومات کی رفتار جنگی حالات میں غیر معمولی ہوتی ہے۔ کسی حملے کی ویڈیو چند لمحوں میں ہزاروں اکاؤنٹس سے شیئر ہو جاتی ہے۔ مختلف جغرافیائی مقامات سے بار بار شیئر ہونے کے باعث وہ ویڈیو مستند یا معتبر محسوس ہونے لگتی ہے۔ ماہرین اس رجحان کو وائرل ایمپلیفیکیشن کہتے ہیں۔ انسانی نفسیات کے عوامل، خصوصاً کنفرمیشن بائس اور اتھارٹی بائس، جعلی مواد کے اثر کو بڑھا دیتے ہیں، یعنی لوگ وہی خبر قبول کرتے ہیں جو ان کے موجودہ خیالات یا کسی بڑی فالوونگ والے اکاؤنٹ سے آئی ہو۔میرا کام مواد کی تکنیکی اور معلوماتی جانچ تھا۔ اس کے لیے اوپن سورس انٹیلیجنس (OSINT) کے اصول استعمال کیے جاتے تھے۔ ابتدائی مرحلے میں ویڈیو یا تصویر کے اصل ماخذ، شائع کرنے والا اکاؤنٹ، اس کا قیام اور منسلک اکاؤنٹس معلوم کیے جاتے تھے۔ پھر مواد کے پھیلاؤ کا نقشہ تیار کیا جاتا تاکہ منظم معلوماتی مہم کی نشاندہی ہو سکے۔تصدیق کے لیے جیو لوکیشن کے ذریعے عمارتوں، سڑکوں اور قدرتی نشانات کی سیٹلائٹ تصاویر سے مطابقت دیکھی جاتی، کرونو لوکیشن میں سورج کے زاویے، سائے اور موسمی حالات کے ذریعے وقت کا اندازہ لگایا جاتا، اور فریم بائی فریم انالائزیشن سے ہر منظر کا جائزہ لیا جاتا۔ میٹا ڈیٹا ایکسٹریکشن اور ریورس امیج سرچ بھی استعمال ہوتی تاکہ مواد کے اصل سیاق و سباق کا پتہ چل سکے۔مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک سے بنائے گئے مواد کی شناخت سب سے پیچیدہ مرحلہ ہے۔ جدید جنریٹو اے آئی ٹولز انتہائی حقیقت کے قریب ویڈیوز، آڈیوز، تصاویر اور تحاریر تیار کرتے ہیں، مگر ماہرین روشنی کے غیر منطقی پیٹرن، حرکت میں تضاد یا پس منظر میں تسلسل کے ٹوٹنے، بصری تضادات، مائیکرو ایکسپریشنز، اور پکسل لیول پیٹرنز کا تجزیے پر توجہ دیتے ہیں۔ بعض ویڈیوز دراصل ویڈیو گیم یا فلمی مناظر ہوتے ہیں جنہیں جنگی منظر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بعض معروف AI platforms بھی وائرل ڈیٹا کی جانچ میں ناکام رہتے ہیں اور جعلی یا فیبریکٹڈ ویڈیو کو مستند قرار دے سکتے ہیں، جو اکثر ان کے ڈیٹا فیڈر یا تربیتی ماڈلز میں خامیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔مواد کے مقصد اور پس منظر کو سمجھنا بھی اہم ہے۔ ہر جعلی خبر محض غلطی نہیں بلکہ اکثر واضح ہدف رکھتی ہے، جذباتی ردعمل پیدا کرنا، دشمن کی کمزوری یا اپنی طاقت دکھانا، یا عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا۔ اسی لیے مواد کے پھیلانے والے اکاؤنٹس کے نیٹ ورک اور سابقہ سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔سب سے بڑی مشکل خبر کی رفتار ہے۔ جھوٹی ویڈیو چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے جبکہ مکمل تصدیق میں وقت لگتا ہے۔ نتیجتاً تردید اکثر تب سامنے آتی ہے جب ویڈیو پہلے ہی ذہنوں میں حقیقت بن چکی ہوتی ہے۔ انسانی نفسیات بھی اسے پیچیدہ بناتی ہے، کیونکہ لوگ وہ مواد زیادہ یقین سے قبول کرتے ہیں جو ان کے جذبات، مذہبی یا سیاسی رجحانات سے میل کھاتا ہو۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !