سید سجاد ظہیر کی یاد میں ۔۔ احمد سہیل

سید سجاد ظہیر کی زندگی کے سرد و گرم،

 راولپنڈی سازش کیس اور ان کی گرفتاری کا قصہ۔
 چند حقائق اور کچھ گمشدہ یادیں

سید سجاد ظہیر (1904- 1973) بھارت کے نامور اردو ادیب، انقلابی اور مارکسی دانشور تھے۔
نومبر 5، 1905 کو ریاست اودھ کے چیف جسٹس سر وزیر خاں کے گھر پیدا ہوئے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ادب پڑھنے کے بعد والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے برطانیہ جا کر آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور بیرسٹر بن کر لوٹے۔ یہاں انہوں نے قانون کے ساتھ ادب کا بھی مطالعہ کیا۔

سجاد ظہیر لندن سے بی اے کی ڈگری حاصل کر واپس لوٹے تھے۔ لندن میں پڑھائی کے دوران سجاد ظہیر پر کمیونسٹ خیالات کا گہرا اثر پڑا اور وہاں ان کے حلقہ احباب میں کرشنا مینن، ملک راج آنند جیسے عالم شامل تھے۔ آکسفورڈ میں اپنی پڑھائی کے دوران وہ پہلے سال ہی میں بیمار پڑ گئے اور ایک سال تک سوئزرلینڈ میں زیر علاج رہے۔ اس دوران انہوں نے جرمن اور فرانسیسی زبان پر مہارت حاصل کر لی۔ انگلینڈ واپس لوٹ کر سجاد ظہیر کی ملاقات کرشماتی کمیونسٹ لیڈر شاپورجی سے ہوئی اور جلد ہی وہ ’آکسفورڈ مجلس‘ میں شامل ہو گئے۔ جلد ہی انہوں نے Second Congress of the League against the Imperialism میں شرکت کی، جہاں ان کی ملاقات ویرین چٹوپادھیائے، سومیندر ناتھ ٹیگور، این ایم جے سوریا (سروجنی نائڈو کے بیٹے) اور راجا مہندر پرتاپ جیسی شخصیات سے ہوئی۔ اس لیگ کانفرنس سے وہ یہ سبق لے کر لوٹے کہ قومی آزادی تحریک کا دنیا بھر کی تحریکوں کے ساتھ رشتہ ہونا چاہیے۔ اسی دوران آکسفورڈ کے مارکسی عالم ڈیوڈ گیٹ نے ان کا تعارف کارل مارکس کی مشہور کتاب Das Capital سے کروایا۔ ساتھ ہی سجاد ظہیر نے لینن کی کتاب What is to be done کا بھی مطالعہ کیا۔ اس کتاب سے انہیں کمیونسٹ تنظیم کے بارے میں علم ہوا۔ ساتھ ساتھ وہ لندن سے شائع ہونے والے Labour Monthly اور Daily Worker جیسے مشہور و معروف جریدے بھی پڑھتے تھے۔

اپنی کتاب ’یادیں‘ میں سجاد ظہیر نے اس دور کے لندن کی ہنگامہ آرائیوں کا خصوصاً ذکر کیا ہے۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں:
’’ہم آہستہ آہستہ سوشلزم کی طرف بڑھتے جا رہے تھے۔ ہم ذہنی طور پر ایک ایسے فلسفے کی تلاش میں تھے جس کی روشنی میں ہم سماج کی گتھیاں سلجھا سکیں۔ مجھ کو یہ بات قبول نہ تھی کہ سماج میں جو ہمیشہ سے پریشانیاں تھیں اور ہمیشہ یہ پریشانیاں برقرار رہیں گی۔ یونیورسٹی کی تعلیم پوری ہونے کے بعد یہ (مارکسزم) ہمارے لیے ایک نئی تعلیم کا ذریعہ بن گئی۔‘‘

سجاد ظہیر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانی ممبران میں سے تھے۔ بعد ازاں 1948ء میں انہوں نے فیض احمد فیض کے ساتھ مل کر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بنیاد رکھی۔ دونوں رہنما بعد میں راولپنڈی سازش کیس کے تحت گرفتار کر لیے گئے۔ محمد حسین عطا اور ظفراللہ پوشنی سمیت کئی افراد اس مقدمے میں گرفتار ہوئے۔ میجر جنرل اکبر خان اس سازش کے مبینہ سرغنہ تھے۔ 1954ء میں انہیں بھارت جلاوطن کر دیا گیا۔ وہاں انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین، انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن اور ایفرو ایشین رائٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ سجاد ظہیر نہ صرف ان تینوں تنظیموں کے روح رواں تھے بلکہ ان کے بانیوں میں سے بھی تھے۔ انہوں نے اردو میں پہلا مارکسی ادبی جریدہ ’چنگاری‘ سوہن سنگھ جوش کے ساتھ مل کر شروع کیا۔ سجاد ظہیر آزادیِ نسواں کے زبردست حامی تھے اور سن 1935 میں ’لندن کی ایک رات‘ نامی ناول اور ’نقوشِ زنداں‘ (جیل سے اپنی اہلیہ کو لکھے خطوط) مجموعہ سن 1940 میں شائع کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’روشنائی (1956)‘، ’ذکر حافظ (1958)‘، شاعری کا مجموعہ ’پگھلتے نیلم (1964)‘ جیسی کتابیں بھی لکھیں۔

1948 میں سجاد ظہیر {بنّے بھائی} نے فیض احمد فیض کے ساتھ مل کر لاہور میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی کو تشکیل دیا اور اس کے معتمدِ عمومی {جنرل سیکریٹری} چنے گئے۔ مگر اس پارٹی پر حکومت پاکستان نے پابندی لگا دی۔ گرفتاری کے خوف سے سجاد ظہیر روپوش ہو گئے۔ 1951 میں راولپنڈی سازش کیس ہوا جس میں بہت سے فوجی افسران: میجر جنرل اکبر علی خان، میجر محمد یوسف سیٹھی، کیپٹن پوشنی، بریگیڈیئر ایم اے لطیف خان، کرنل محمد صدیق راجہ، کیپٹن نیاز احمد ارباب، کرنل ضیا الدین، کیپٹن حسن علی، لیفٹننٹ کرنل نذیر احمد، گروپ کیپٹن محمد خان جنجوعہ اور میجر خواجہ شریف، اور سویلین لوگوں میں سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، زعیم، نقیب، محمد حسن عطا، غیور احمد، بیگم نسیم شاہنواز خان {میجر جنرل اکبر علی خان کی اہلیہ} زیر زمین چلے گئے۔ بعد میں زعیم، نقیب صدیق راجہ اور میجر محمد یوسف سیٹھی کو معاونتِ سازش کے الزام پر ریاست کی طرف سے معافی بھی مل گئی۔

پاکستان کے خفیہ اداروں نے ان کو گرفتار کرنے کے لیے بڑی کوششیں کیں مگر وہ ناکام رہے۔ جب راولپنڈی سازش کیس کا مقدمہ چلنا شروع ہوا تو حکومت پاکستان نے ان لوگوں کی گرفتاری کے لیے اس وقت کے پنجاب کے انسپکٹر جنرل خان قربان علی خان کو خصوصی ذمہ داریاں سونپیں اور انہیں ان ملک دشمن اور کمیونسٹوں کو جلد از جلد ہر قیمت پر گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔

قربان علی نے انسپکٹر چوہدری محمد اصغر کو سجاد ظہیر کو ایک ہفتے کے اندر گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر سجاد ظہیر کو نہیں پکڑا تو تمہیں ملازمت سے برخاست کر دیا جائے گا۔ پھر انسپکٹر چوہدری محمد اصغر نے فوراً کارروائی شروع کر دی۔

مخبر سے یہ خفیہ اطلاع چوہدری اصغر کو ملی کہ سجاد ظہیر ایک مکان میں چھپے ہوئے ہیں۔ تو انہوں نے اس مکان کے سامنے ایک خالی پلاٹ پر راتوں رات لکڑی کی ٹال کھلوا دی۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس کے اہلکار اس ٹال کا کاروبار چلاتے رہے اور پولیس والے ہی اس کے گاہک بھی بنے۔ اس گھر کی کڑی نگرانی شروع ہو گئی۔ پولیس والوں نے دیکھا کہ ایک دبلا پتلا آدمی ہر روز کم از کم دو بار آتا ہے اور وہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر واپس چلا جاتا ہے۔ اس آدمی کو چند روز نظر میں رکھنے کے بعد اسے خاموشی سے گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کو معلوم ہوا کہ یہ کمیونسٹ پارٹی کا رکن ہے۔ پھر پولیس والوں نے اپنے روایتی اندازِ تفتیش اور تشدد کے ذریعے اس سے سب کچھ اگلوا لیا۔ اس نے بتایا کہ وہ یہاں کھانا لے کر آتا ہے۔ اگلے ہی دن اسے برقعہ پہنا کر سجاد ظہیر کے مکان پر لے جایا گیا اور اسے مخصوص طریقے سے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے کو کہا۔

کھٹکھٹانے کی مانوس اور مخصوص آواز سن کر سجاد ظہیر نے فوراً دروازہ کھول دیا تو سلیٹی رنگ کی گھیرے دار شلوار قمیض پہنے ہوئے ایک پختون پنجاب پولیس کے سپاہی نے، جسے لوگ "مولانا" کے نام سے جانتے تھے، سجاد ظہیر کو جا دبوچا۔ فوراً ہی انسپکٹر چوہدری محمد اصغر نے سجاد ظہیر سے تھوڑی سی بات کر کے ان کی شناخت کی تصدیق کی۔ سجاد ظہیر نے مہذب لہجے میں نہایت سچائی سے اپنا تعارف کروایا۔ تھانے دار محمد اصغر ان کی سادگی اور پرسکون ٹھنڈے مزاج کو دیکھ کر حیران تھا۔ پھر انسپکٹر نے پستول ان کی چھاتی پر رکھ دی اور سجاد ظہیر کو ہتھکڑی لگا کر حراست میں لے لیا گیا۔

اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ سن لیں۔ ’’روئیدادِ قفس‘‘ میجر محمد اسحاق (اب مرحوم) راولپنڈی سازش کیس فیم کی داستانِ حیات ہے۔ ملک رؤف صاحب نے مذکورہ کتاب سے ایک اقتباس اپنی کتاب میں شامل کیا ہے جو کہ ترقی پسند تحریک کے ایک انتہائی اہم اور مرکزی رہنما سید سجاد ظہیر کے حوالے سے ہے، ملاحظہ کیجیے:

’’لاہور ہی کا ایک اور لطیفہ یاد آ گیا۔ ایک دن ہمیں ریمانڈ کے لیے عدالت میں لے جایا جانا تھا۔ اطلاع ملی کہ سید سجاد ظہیر بھی ساتھ جائیں گے۔ جیل کے بڑے دروازے کے اندر پولیس کی قیدی ڈھونے والی گاڑی کھڑی تھی۔ ہم وہاں رک گئے اور سید صاحب کا انتظار کرنے لگے۔ اتنے میں پھانسی کی کوٹھڑیوں کی طرف سے سفید شلوار کرتے میں ملبوس، سر پر جناح کیپ جمائے ایک بھاری بھرکم، زندگی سے مطمئن شخص آتا دکھائی دیا۔ ہمارے درمیان یہ چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ کیا یہ سجاد ظہیر ہو سکتا ہے؟

ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ان کی جان پہچان نہیں تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کمیونسٹ نہایت قبیح صورت، درندہ سیرت انسان ہوتے ہیں، دائیں بائیں پستول لگاتے ہیں، بڑی بڑی مونچھیں اور خونخوار آنکھیں رکھتے ہیں اور ان کا موضوعِ سخن قتل و غارت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ سجاد ظہیر چونکہ کمیونسٹ پارٹی پاکستان کے جنرل سیکریٹری تھے اس لیے ان لوگوں کے خیال میں ان کے منہ سے ہر سانس میں آگ نکلنا چاہیے تھی اور انہیں اس قسم کا کائیاں ہونا چاہیے تھا کہ ڈبکی لگائیں تو جیل سے باہر چلے جائیں۔

یہ شخص جو نرم حال، پاکیزہ خد و خال اور ایک عدد عالمانہ توند لیے ہوئے تھا، سجاد ظہیر کیسے ہو سکتا تھا؟ ہمارے یہ ساتھی اپنی رائے پر اس شدت سے مصر تھے گویا یہ ان کا جزوِ ایمان ہے۔ چنانچہ چار و ناچار ہم نے تسلیم کر لیا کہ یہ سجاد ظہیر نہیں ہو سکتے۔ کشمیری بازار کے شیخ ہوں گے یا پولیس کے کوئی خضر صورت ایجنٹ۔ چنانچہ عدالت تک دورانِ سفر ہم گم سم بیٹھے ان کی طرف کن اکھیوں سے دیکھتے رہے۔ عدالت میں جب وہ کھڑے ہو کر گرجے کہ جناب والا پندرہ دن ہو گئے ہیں اور مجھے ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہوں، یہ بالکل لغو بات ہے۔ تو ہمیں یقین ہو گیا کہ وہ سجاد ظہیر ہی ہیں۔‘‘

راولپنڈی سازش کیس میں سجاد ظہیر پر مقدمہ چلا۔ سرکاری وکیل نے ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا لیکن عدالت نے انہیں چار سال کی سزا دی۔ سجاد ظہیر نے دو برس حیدرآباد (سندھ) اور مچھ (بلوچستان) کی جیلوں میں اپنی سزا کاٹی۔ اس جیل میں فیض احمد فیض ان کے ’’ہم زنداں‘‘ تھے۔

سجاد ظہیر پاکستانی جیل سے 1955 میں بھارت چلے گئے جہاں جواہر لال نہرو تھے، جو بنّے میاں کے دوست اور سب سے بڑے مداح تھے۔ ہندوستان میں زندگی دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی، کچھ ترقی پسند تحریکوں اور تنظیموں کی بنیاد رکھی۔ اسی دوران قاہرہ اور روس کا دورہ بھی کیا۔

سجاد ظہیر نے 13 ستمبر 1973 کو الماتے (قازقستان)، جو تب سوویت یونین کا حصہ تھا، میں ایفرو ایشیائی مصنفین کی تنظیم کے ایک اجلاس کے دوران وفات پائی۔ کامریڈ روس کے دورے پر تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا۔ وہ راستے میں ہی انتقال کر گئے۔ فیض صاحب کامریڈ سجاد ظہیر کی لاش لے کر دہلی پہنچے جہاں دہلی میں انہیں دفن کیا گیا۔ یہ ہوتی ہے حقیقی اور اصلی انقلابی کی زندگی جو اپنے اصولوں اور نظریات کے ساتھ جذباتی، فکری اور نظریاتی طور پر جڑے رہے۔

ڈاکٹر اندر بھان بھیسن نے ’’سجاد ظہیر کا دورِ اسیری‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !