"اوہو! فرزانہ! آج پھر تم پر یاسیت کا دورہ پڑا ہے " وہ جھنجھلا کر بولا ۔
" ہاں تم ٹھیک سمجھے میں، شاید فرزانہ ہوں مگر عورت کی فرزانگی اس کے اپنے کس کام کی ؟"
"تمہیں یہ ادبی جریدہ بہت پسند ہے میں تمہارے لئے لایا ہوں ۔ چائے بنا لاؤ۔ چائے کے دوران اس پر گفتگو کریں گے۔" وہ مجھے پچکارنے والے انداز میں موضوع بدل کر بولا ۔" ہاں یاد آیا میں ادیب آرا بھی تو ہوں مگر اصل کام تو میرا گھرداری ہے۔ صدیوں سے جھاڑو اور امور خانہ داری ہی سے تو نسبت رہی ہے میری " ہے نا۔؟" میں نے تائید طلب نظروں سے اسے دیکھا تو وہ بے چارگی سے ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میری ذہنی رو جو بہک اٹھی ہے اسے کتھارسس کی راہ پر ڈالے بغیر سکون نہیں ملے گا- اس نے میرا ہاتھ تھام کر بڑی نرمی سے کہا۔ قنوطیت اور یاسیت کی قبا تم گاہے گاہے اوڑھ لیتی ہواسے اب اتار پھینکو تم شاعرہ ہو، قلم کار ہو مجھ سے شاعرانہ باتیں کرو۔ چاند تاروں کی باتیں کر و' محبت کی باتیں کرو-"
جذ بات سے اس کی آواز بوجھل ہونے لگی۔ میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اورکہا "شاعرات اور
ادیبائیں تو پہلے بھی تھیں ۔ آؤ! میں تمہیں ماضی کے جھروکوں سے ان کچے پکے آنگنوں کی سیر کراؤں ۔ بولو میرے ساتھ اس جھرو کے سے جھانکو گے جہاں ہماری نانیاں اور دادیاں اوران کی بھی نانیاں اور دادیاں اپنے سینوں میں ہزاروں فسانے دبائے آنکھوں میں ان گنت کہا نیاں چھپائے اور ہونٹوں پہ مچلتے گیتوں کو روکے گھر کے مردوں کی دلداریوں میں مصروف ہیں"۔ میرے ہونٹوں سے سسکی نکلی تو وہ بے چینی سے بولا" مگر وہ تو بہت مطمئن زندگی بسر کر گئیں۔تم ان کے لیے کیوں بے چین ہو ؟" "تم مرد ہو۔ وہی صدیوں پرانے مرد. میں تلخی سے مسکرائی ۔ وہ جو بظاہر بہت شانت تھیں ہزاروں نوحے اور لاکھوں چیخوں کو چھپائے وہ اس لئے زندگی کی بازیاں ہار گئیں کیونکہ وہ مردوں کے بنائے ہوئے قوانین کو اپنی تقدیر سمجھتی تھیں۔ میں تو اس دور میں بھی چپ تھی اور آج بھی چپ ہوں بس فرق یہ ہے کہ میں آج کی عورت پڑھ لکھ کر آگہی کا عذاب جھیل رہی ہوں ۔"
" مگر آج کی عورت کو تو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ چپ کا لبادہ تم کہاں اوڑھنے والی ہو" وہ ملے جلے تاثرات استعجاب اور استہزائیہ انداز میں بولا۔
"ہاں مجھے ماضی کی عورت پر رشک آتا ہے وہ اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کے ہرظلم پر مہر بہ لب تھی۔ وہ دیکھو! ہندو معاشرے میں خاوند کے مرنے پر عورت ستی کر دی گئی۔" میں ماضی کی غلام گردشوں میں اسے بھی اپنے ساتھ بھگائے لیے پھر رہی تھی
"اور اس معصوم ہندو بچی کو دیکھو جس کے ودھوا ہونے پر نہ صرف اسے جوتوں اور زندگی کی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا بلکہ اسے گنجا بھی کر دیا گیا تا کہ اب وہ ساری زندگی اپنے مرد کے نام پر مردوں سے بدتر زندگی گزار دے۔" میری آواز سسکیوں میں بدل گئی۔ "دیکھو میری گڑیا ! آج کی بات کرو ۔ اب تو ایسا کچھ نہیں ہوتا ـ"
اس نے ایک مرتبہ پھر مجھے اداسی کے بھنور سے نکالنے کی سعی کی۔ میں تلخی سے ہنس دی ۔ مگر میری بھیگی پلکیں اس سے چھپی نہ رہ سکیں۔ اس نے اپنے جلتے لب میری پلکوں پر رکھ دیئے ۔ مگر میں نے اسے پیچھے کی طرف دھکیل کر آج کا تازہ اخبار اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ "چلو آج کی بات کرتے ہیں ۔ آج کا اخبارپڑھو۔ کل راجن پور میں ایک عورت کو اس کے بھائیوں نے کاری قرار دیکر مارڈالا اور دوسری خبر میں ایک بیٹے نے اپنی ماں کو یعنی آج کی عورت کو کاری قرار دے کر قتل کر دیا۔ اور اس کے شوہر نے بھی بیوی پر تہمت لگا دی کیونکہ اس نے اپنے بیٹے کو بچانا تھا۔ دراصل بات یہ تھی کہ اس کے بیٹے کے ہاتھوں دوسرے قبیلے کا کوئی شخص قتل ہوگیا تھا۔ہاں۔۔۔ ہاں آج کی بات کرو، آج کی عورت کی بات کرو۔" میں ہذیانی انداز میں چلانے گی۔ اس مرتبہ اس نے مجھے چپ کرانے کی کوشش نہیں کی ۔ بلکہ شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ میری ہذیانی چیخیں خود ہی تھمنے لگیں۔ پھر وہ ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔ ” تم حساس دل کی لڑکی ہو اخبار مت پڑھا کرو-"
"تم..... تم بھی عامیانہ گفتگو کرنے لگے"۔ میں نے جل کر کہا۔" کیا اخبار نہ پڑھنے سے میرے دکھ کم ہو جائیں گے؟ کیا آج کی عورت کا استحصال ختم ہو جائے گا؟ بولو! چپ کیوں ہو؟" مگر تمہارے شور کرنے سے بھی تو کچھ ہونے والا نہیں"- اس نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
"ہاں تم شاید ٹھیک کہتے ہو۔" میرے آنسو تو اتر سے گالوں پر بہنے لگے تو اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے آنسو پونچھ ڈالے ۔ اور تاسف سے بولا " آج کی عورت کو ادراک اور آگہی کے عذاب نے مارڈالا ہے "۔
" ہاں عذاب کا موسم آج کی عورت پر مسلط ہو گیا ہے "۔ میں بڑبڑائی " میں کبھی سندھ کے اندرونی علاقوں میں ونی کرنے پر چلانے لگتی ہوں کبھی قرآن سے شادی کرنے کی قبیح رسم پر بال کھول کر بین کرنے لگتی ہوں ۔ کبھی اپنے ہی محافظوں یعنی بیٹوں ، بھائیوں ، باپوں اور شوہروں کے کاری کرنے پر احتجاج کرتی ہوں کیونکہ میں آج کی صدی کی عورت ہوں- کیا میں احتجاج نہ کروں اس جبر و استبداد پر "؟ میرے استفسار پر وہ گڑ بڑا گیا۔
''ہا ۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔۔ ہاں کیوں نہیں ۔ جب تک عورت خود نہیں بولے گی کوئی بھی اس ظلم کو نہیں روک سکے گا''۔ بالآخر اس نے سینہ ٹھوک کر تھوک نکل کر جملہ مکمل کر ہی دیا۔
اس کے شکستہ انداز میں مگر سچ بولنے پر میری کچھ ہمت بندھی "اور دیکھو! میں اس کی طرف دیکھنے لگی۔ "رفیق ۔۔۔ رفیق نام ہے میرا مگر تم بھول کیوں جاتی ہو"؟ " نہیں رفیق نہیں صرف مرد' ایک مرد-" میں قطیعت سے بولی تو کچھ بولنے کے لئے اس نے اپنے لب کھولے مگر پھر خاموش ہو گیا۔ " میں آج کی چمکتی دمکتی دنیا کی پڑھی لکھی عورت ہوں ۔ بے روزگار مردوں کا بوجھ اٹھاتی ہوں -گھر کی دال روٹی اور اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے کولہو کا بیل بن گئی ہوں گھر اور نوکری کی مشقت نے مجھے وقت سے پہلے تھکا ڈالا ہے مگر پھر بھی شوہر اور سسرال میں عزت کے لئے ترستی ہوں ۔ دفاتر بازاروں اور اداروں میں اپنی حرمت کو بچاتی پھرتی ہوں ۔ کمر توڑ مہنگائی نے مجھے مارڈالا ہے۔ کبھی گھی اور چینی کے خالی ڈبوں کو تکتی ہوں ۔ تو کبھی آٹا نہ ملنے پرگھبرا جاتی ہوں مسلسل لوڈ شیڈنگ نے میرے قلب و ذہن کو اندھیری قبر میں اتار دیا ہے۔ جب گیس کی لوڈ شیڈنگ کے سبب بچے بغیر ناشتہ کیے سکول جاتے ہیں تو دل سارا دن خون کے آنسو روتا رہتا ہے۔ پہلے عورت کو ان سب بحرانوں کی پروا نہیں تھی۔ لاعلمی کتنی بڑی نعمت ہے۔" میں شاید مسلسل بول بول کر تھکنے لگی تھی۔ اس نے پانی کا گلاس مجھے تھمایا تو میں ایک ہی سانس میں غٹاغٹ پی گئی ۔ " تم ٹھیک کہتی ہو-" وہ میراہم خیال بنتا جار ہا تھا۔ "دیکھو! اس ٹوٹے ہوئے آئینے کے عکس کی طرح آج کی عورت ہر گھر میں ہے۔ میں اگر مزدور کی بیوی ہوں تو بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے سبب کام نہ ملنے پر' صنعتیں بند ہونے پر صنعتکار کی بیوی کی حیثیت سے اور کاروباری کے کاروبار بند ہونے پر مجھے ہی رونا پڑتا ہے۔ بچے بھوک سے بلکتے ہیں تو میرا سینہ چھلنی ہوتا ہے۔ بچوں کی فیسوں کا مسئلہ' اشیائے خوردو نوش کا مسئلہ' چاروں طرف سے مجھے ہی رونا ہے کیونکہ میں آج کی عورت ہوں."
"مگر اس بحران کا شکار تو مرد بھی ہیں-" اس نے کمزور سا احتجاج کیا۔ "ہاں! مگر دہشت گردوں کے ہاتھوں میرے گھرانے کے مرد مارے جاتے ہیں اور لاشوں کے تحفے وصول کر کے انہیں میں دفناتی ہوں ۔ استحصال تو میرا ہوتا ہے۔" "مگر مرنے والا تو بیچارہ مرد ہے"- اس نے پھر احتجاج کیا۔ "ہاں! مگر مارنے والا بھی تو مرد ہے-" میں نے سرد لہجے میں کہا تو وہ لاجواب ہو گیا۔ "بلوچستان سے وزیرستان تک کشمیر سے فلسطین تک اپنے بیٹوں کو مرتے ، گھروں کو جلتے اور اپنی عصمتوں کی دھجیاں اڑتے ہوئے دیکھتی ہوں ۔ گھروں سے لیکر گلیوں اور بازاروں تک کہیں بھی محفوظ نہیں ہوں میں-" "سنو!" میں نے پہلی مرتبہ اس کے ہاتھ پکڑے تو وہ میرے لمس کے احساس سے چہک اٹھا۔ وہ کچھ بولنے لگا تو میں نے اس کے لبوں پر اپنا سرد ہاتھ رکھ دیا۔ "سنو! دہشت گردی کرنے والے مردوں ،
آٹے ، بجلی ، پانی ، گھی اور چینی کا بحران پیدا کرنے والے،اس ملک کو لوٹ لوٹ کر کھانے والے ، زینب جیسی ننھی کلیوں کو مسلنے سے لے کر بابل کے آنگن میں کنوارے خوابوں کو دفنا کر سرخ جوڑے میں ذبردستی کفنا کر بیاہی جانے والی عورت کا زنا بالجبر کرنے والے مردوں کو صرف یہ احساس دلا دو (اب میرا لہجہ ملتجی ہو گیا) صرف یہ بتا دو چاروں طرف جو ظلم ،آلودگی اور انتشار انھوں نے پھیلا دیا ہے اسے ختم کر دو۔ کیونکہ اس شور اور آلودگی کے سمندر میں آج کی پڑھی لکھی عورت ڈوب رہی ہے اسے بچا لو۔ پلیز آج کی حساس عورت کو ختم ہونے سے بچا لو ورنہ معاشرے سے تازگی اور شگفتگی کا احساس ختم ہو جائے گا "اور میں اس کے ہاتھوں میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
(عالمی افسانہ میلہ)
