نام ہی نہیں کوئی۔۔۔ واجد امیر

نام ہی نہیں کوئی                                        
            خلدون احمد خلدون کا نام پہلے سالار مسعودی تھا اور اس سے بھی پہلے خلش ہاشمی تھا نجانے اللہ کے بندے نے ایک نام پہ اکتفا کیوں نہیں کیا ، ان کے اس طرح نام بدلنے پہ مذاق کا نشانہ بھی بنایا جاتا جس تضحیک کو وہ صرف پھیکی سی ہنسی میں اڑادیتے۔ ایک ایسا شاعر جس کے متعلق خود جناب شہزاد احمد نے بتایا کے بہت پہلے یہ ہمارے ساتھ ریڈیوں کے مشاعرے پڑھتا تھا جانے کب اور کیسے سب سے الگ تھلگ گوشہ نشینی کی زندگی گزار گیا ۔
            ہماری خلدون سے ملاقات ظفر علی راجا کے ہاں منعقدہ ماہانہ نشستوں میں ہوتی جہاں وہ باقاعدگی سے آتے کبھی کبھار عاشق رحیل کے ہاں گلشنِ ادب کی نشست میں بھی آجاتے اور واپسی پہ اکٹھے پیدل واپس اسلام پورہ بازار تک ساتھ رہتے پھر جب ہمارے پرانے گھر کی بیٹھک میں محفلیں لگیں تو وہ وہاں باقاعدگی سے آتے یہ نوے کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے ۔ پہلے نورالفہیم ارسلان کے ساتھ آتے تھے جب ان کا انتقال ہو گیا تو تاج انصاری کے ہمراہ آتے ،کبھی کبھی اکیلے بھی آجاتے ۔
       سالار مسعودی کا تعلق ہندوؤں کے مذہبی مقام بنارس سے تھا جہاں ،،کُم،، کا میلہ لگتا تھا خدا جانے تقسیم کے وقت وہ کیسے اور کیوں پاکستان آگئے جبکہ ان کا سارا خاندان بنارس ہی میں تھا بقول انکے پہلے پہل وہ اپنی جنم بھومی جاتے رہے ہیں مگر جتنا عرصہ ہم سے تعلق رہا نہ انہوں نے کبھی جانے کا نام لیا نہ گئے البتہ تاج انصاری انہیں چھیڑتے تو وہ یہی جواب دیتے کہ میں اپنا شناختی کارڈ تلاش کر رہا ہوں مل جائے تو نیا بناؤں گا اور ان کا شناختی کارڈ مل بھی گیا اور انہوں نے ہمارے پاس رکھوا دیا مگر نیا کارڈ بنوا نہ سکے ۔
         سالار مسعودی نے تجرد زندگی گزاری ،وہ پہلے پہل گہرے براؤن رنگ کی وگ لگاتے تھے ، جسے بعد ازاں انہوںنے ختم کردیااور ٹوپی پہننی شروع کردی،،کلین شیو ، چھوٹا قد ، کمزور جسم ، ان سے ہاتھ ملانے پہ لگتا جیسے روئی مٹھی میں بھر لی ہو ، سر یوں جھکا گویا کچھ وزن رکھا ہو سر پہ،، بہت آہستہ آہستہ چلتے ، زبان میں ہلکی سی گرہ تھی، کچھ لفظ غالباً پھسل جاتے تھے ، یوں بھی وہ اپنے آپ میں گم رہنے والے تھے ، مگر انہیں زبان و بیان کی نزاکتوں کا بہ خوبی علم تھا لفظ کی نشست و برخواست کا ادراک تھا ، تلفظ کے معاملات پہ گہری نگاہ تھی ۔ ہمیں ان سے بہت سے معاملات میں صائب مشورہ ملتا تھا ۔ ایک شعر دیکھیئے  
       تم اگر میرے سامنے ہوتے ۔۔۔کھل کے اظہار ِ مدعا ہوتا 
        کسی زمانے میں وہ اخباروں کے ساتھ بھی منسلک رہے انہیں پرانے شاعر بخوبی جانتے تھے ادبی مجلے سیارہ سے بھی وابستگی رہی ، جماعت اسلامی سے وہ قلبی لگاؤ رکھتے تھے ، اخبارات سے تعلق ختم ہوا تو بچوں کو ٹیوشن پڑھانے لگ گئے تبھی ایک خاندان نے جن کے سب بچوں کو پڑھایا تھا اپنے گھر میں رہنے کو ایک کونہ دے دیا ،غالباً یہ سامان رکھنے کا کمرہ تھا جہاں سالار مسعودی کی کھٹیا ڈالی گئی ،ہم نے ان کے کمرے کو خود تو نہیں دیکھا مگر محشر زیدی ، تاج انصاری اس کمرے میں جا چکے تھے ۔ان کے پاس چند کتابیں اور تن کے کپڑوں کے سوا تھا ہی کیا،وہ جب بھی کسی مشاعرے میں آتے کسی تڑے مڑے کاغذ پہ غزل لکھی ہوتی جسے پڑھ دیتے ۔۔داد بھی ہلکی سی آواز میں دیتے اور ساتھ ساتھ ہاتھ ہلاتے جاتے ، ہمارے گھر جب محفلیں لگتیں تو بہت شوق سے آتے کھانے پینے کو معاملے میں لیے دیے رہتے جیسے دوسرے لوگ دھونس اور مان سے کھانے یا چائے کی فرمائش کرتے انہیں ایسی کوئی عادت نہ تھی البتہ جب کھانے پینے کی دعوت دی جاتی تو بہت صبر ،تحمل، متانت سے اثبات میں سر ہلاتے اور کہتے ،،ہاں ، دیکھ لو، چلو لے آؤ ۔
           ہم سب لوگ جو ان سے وابستہ تھے ایک تو ان کی شاعری چھپوانے پہ بضد ہوتے اور کچھ لوگ انہیں اپنے آبائی وطن جانے پہ بھی اکساتے اور ان کو جواب خود کلامی جیسا ہوتا جیسے خود کو بھی سمجھا رہے ہیں، جن لوگوں کے ہاں وہ مقیم تھے وہ بھی نہ زیادہ پڑھے لکھے تھے نہ مالی طورپہ بہت بہتر تھے یہ گجر خاندان جس کا زریعہ معاش ایک سروس اسٹیشن تھا وہی ان کی کفالت کیا کرتا تھا ، کبھی کبھی کچھ شاعر حضرات انہیں کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے ، نجانے کیسے انہیں کوئی آنکھوں کے ہسپتال لے گیا اور شاید آنکھوں کا اپریشن کروادیا کسی کسی دن وہ شام ہی سے ہمارے پاس آجاتے ان کے پاس ٹوٹی پھوٹی یاداشت کے سوا کچھ نہیں تھا کبھی کبھی کسی نشست میں وہ ایسی غزل پڑھتے کہ لوگ عش عش کر اٹھتے کبھی بلکل معمولی سی غزل ہوتی لیکن کبھی کہیں غلط لفظ ،ترکیب ، یا مہمل مضمون نہ ہوتا ،ہمیشہ سہلِ ممتنع میں کہتے ۔۔
             شادمانی بھی ہے اور غم بھی یہاں۔۔یہ جہاں اک عجب کارخانہ لگا۔۔
۔ ۔اس سے ملنے کا کوئی بہانہ تو ہو۔۔کوئی تقریب کر شامیانہ لگا،،
               جب تک ہم پرانے گھر میں رہے تاج انصاری کی زبان پہ خلدون احمد خلدون المعروف سالار مسعودی کا ہی تزکرہ رہتا پھرایک دن تاج انصاری نے بتایا کہ بیمار ہیںاور ہسپتال میں داخل ہیں ۔۔ تو ہم بھی گئے دیکھنے کے لیے ،میو ہسپتال کے ایک وارڈ میں کئی دن سے داخل تھے ہم سے مل کے بہت خوش ہوئے ،بس ہمارا ہی دل کٹ گیا ایسے میں اپنوں کی کتنی ضرورت ہوتی ہے ،سالار ہی نے بتایا کہ دوسرے مریضوں کے لواحقین خیال رکھتے ہیں جو محلے والے داخل کروا گئے ہیں وہ بھی پوچھتے ہیں گاہے گاہے مگر ہم اس بھر ے پرے ہنگامہ پرور ہسپتال میں اس بیمار شاعر کی کسمپرسی پہ آزردہ تھے ۔کیا شعر ہے کسی کا ۔
      پڑے پڑے درو دیوار دیکھنے والے یہاں کوئی ترا پُرسانِ حال ہے کہ نہیں؟
    محترم خالد علیم نے انہیں اس بات پہ راضی کر ہی لیا کہ وہ اپنی شاعری یکجا کر کے انہیں دے دیں انہوں نے ایک کاپی پہ جو کچھ لکھ کے دیا وہ خالد علیم نے ہمیں بھجوایا پھر ہماری آپس میں بھی بات ہوئی قابل افسوس یہی بات تھی کہ جو جمع جتھہ تھا اس میں قابل اشاعت بہت کم مواد تھا جسسے کتاب ترتیب نہ پاتی تھی۔۔ پھر ایک دن سالار مسعودی ،خلدون احمد خلدون، خلش ہاشمی ، جن کا آبائی وطن بنارس تھا جہاں کی صبح مشہور تھی اس کی شام کرشن نگر میں ہو گئی وہ فوت ہو گئے یہ خبر ہم تک تاخیر سے پہنچی کہ لاوارثوں کی اطلاع دینے والے بھی نہیں ہوتے اورجانے کس مٹی نے انہیں ڈھانپا ہوگا ،،رہے نام اللہ کا ۔ یہ ان کا شعر دیکھیے 
                  یوں نہ پائمال کر یار کچھ خیال کر

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !