خواب سے آگے کا شاعر ۔۔ کاشف سلیم ارفع

‎امداد آکاش صاحب کے ساتھ چند ایک بار شغل شعر اور شب بیداری کا شرف حاصل ہوا دوچار ملاقاتوں کے بعد انہوں نے محفل کے اختتام پر تین عدد تحفہ جات عنایت فرمائے 
پہلا تحفہ انکی کتاب "خواب سے آگے" تھی باقی دو بتانے والے نہیں ہیں
کسی بھی اچھی کتاب کی قیمت یہ ہے کہ پڑھ کر اس پر رائے دی جائے، یہ پوسٹ اسی قرض کی ادائیگی ہے

‎امداد آکاش "خواب سے آگے" کا شاعر
‎ 
‎خواب سے آگے" کا عنوان محض عنوان نہیں کیونکہ" خواب آکاش کے ہاں ٹوٹنے کے لیے ہیں 
‎منزل نہیں ہیں 
‎اور امداد آکاش کی شاعری "خواب سے آگے" کی شاعری ہے 
خواب خواہشات کا آئینہ ہیں 
‎لغزشِ پا ہے کہ ہے نیند میں بھی ساتھ مرے
‎ٹوٹ جائیں گے مرے خواب مجھے تھام کے رکھ
‎یہ لغزشِ پا ہی خواب ہے یہ ہی بکھرنے ٹوٹنے کی وجہ اور یہی تھام لیےجانے کی خواہش کا جواز 
‎ان خواہشات کے آئینے سے انگڑائیاں لیتا ہوا آنکھیں ملتا وجود پہنتا ہوا شعر امداد آکاش کا شعر ہے
‎"خدا، انسان، وقت، تنہائی، اختیار اور جسم" امداد آکاش کے کلام کے بڑے دائرے ہیں دائرے اس لیے کہا کہ جن مضامین کو شاعر بنا کسی ارادے یا خواہش کے غیر ارادی طور پر اپنے اشعار میں کہتا ہو وہ اس شاعر کے دائرے ہیں زنجیریں ہیں اور امداد آکاش کے تخیل کے پیروں میں یہ دائرے گھنگرو بن کر بجتے ہیں وہ ان سے بیزار بھی ہے اور ان سے حظ بھی اٹھاتا ہے
‎ہر ذی شعور انسان سوال کرتا ہے سوال بالغ ہو کر اپنی ہی تخلیق سے مکالمہ کرنے لگتے ہیں سر جھکا کے نہیں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
‎یزداں نے میرے ساتھ کیا تھا مکالمہ
‎ہاتھوں میں سر کو تھام کے بیٹھا ہے میرے پاس
‎امداد کے ہاں خدا ماورائے طبیعیات نہیں ہے بالا و برتر بھی نہیں ہے اور شاید برابر بھی نہیں ہے ایجاد ہے اور خطا بھی اسی لیے شاید ششدر بھی ہے اور بے زبان بھی 
‎اس حوالے سے ان کی سوچ کا سفر ہمارے دور کی فکر کے عین مطابق ہے
‎ انکی شاعری کا ایک وصف خدا تراشی بھی ہے
‎اِس دشتِ نا شناس میں، میں ہوں خدا تراش
‎جیسا کسی کو چاہیے ویسا ہے میرے پاس
‎ہر نسل، مذہب کے خداؤں سے بھرے خودساختی سماجی اور نفسیاتی رویوں پر یہ شعر چوٹ ہے وہ
ہر مذہب کے خدا کو تراشنے کا دعویدار ہے 
‎ہر طرح کے خدا تراش کر بیچنے والے انسانوں کے ذہن میں یہ سوال چاہے آئیں یا نہ آئیں جب 
‎ تخلیق اور مخلوق کے رشتے پر سوال امداد آکاش کے لبوں پر آتا ہے منطق، عقل اور ماورائے عقل سب کو گھیر لیتا ہے
‎سلگتی آگ کے ڈر سے خدا تخلیق کر ڈالا
‎کھلی جب آنکھ تو سوچا یہ کیا پیدا کیا ہم نے
‎اس شعر میں لفظ "یہ" میں چھپی کیفیت کا الگ ہی مزہ ہے اور قاری کے موڈ کے مطابق رنگ ہیں جن میں ڈر، تحقیر، بیزاری مایوسی وغیرہ شامل ہیں
‎اور اسی رشتے کو وہ آج کے انسان کے روپ میں دیکھتا ہے تو عشق مجازی ہو یا حقیقی وہ بندگی اور اسکی جزا کو رد کر دیتا ہے اور نقشِ کفِ پا سے اپنا سفر کسی تماشا گر کی طرح نکال لیتا ہے
‎ہم نے یہ کہا آپ ہی دنیا ہیں ہماری
‎یہ سن کے ہمیں آپ نے دنیا سے نکالا
‎جب رات گئے ہوگیا ہنگام جہاں ختم
‎تب ہم نے سفر نقشِ کفِ پا سے نکالا
‎امداد کے ہاں رعایت کسی کے لیے نہیں بطور انسان خود بنی نوع انسان کے لیے بھی نہیں اور وہ صاف بنا کسی رو رعایت کے انسانی فطرت کو کھول کر رکھ دیتا ہے
‎ دستِ فطرت کو حفاظت کی ضرورت ہوگی
‎شوق تخلیق میں انسان بنا بیٹھا ہے
‎جہاں انسان فطرت کی تخلیق ہے وہی فطرت کے لیے خطرہ بھی بن گیا ہے 
‎یہاں فطرت ارتقاء بھی ہے اور ماں کی کوکھ بھی۔ 
‎شوق تخلیق فطرت کی مجبوری ہے تو اپنے دیکھے کی نشاندہی کرنا امداد آکاش کی مجبوری۔
‎کیونکہ چپ رہنا اس کی سرشت میں ہے ہی نہیں اور وہ صرف بات نہیں کرتا بلکہ ڈھول بجاتا ہے
‎کم خواب تھے اوروں کو جگاتے ہوئے گزرے
‎ہم وقتِ سحر ڈھول بجاتے ہوئے گزرے
‎نہ یہ بیداری آسان ہے اور نہ اوروں کو جگانا آسان ہے اور نہ امداد آکاش آسان پسند ہے یہ سب افعال غیر ارادی نہیں اَس کا فیصلہ ہیں 
‎کھولی ہے جب سے آنکھ کبھی سو نہیں سکے
‎کیونکہ ہمیں ہے خواب میں بھی جاگنا پسند
‎المیہ یہ ہے سونے والے زیادہ ہیں جگانے والے کم اور اسی کمی کا شعوری سفر شاعر کو تنہائی کے اصل مفہوم سے متعارف کروا دیتا ہے یہاں تک کہ نوبت یہ آ جاتی ہے کہ
‎عدو کو دیکھ کے خوش ہوں کمالِ تنہائی
‎کوئی تو دشت میں اپنے سوا نظر آیا
‎لیکن خوشی بہرحال وقتی اور عارضی ہے اور جاگنے والے ذہن کو ایک دن اپنی اس کم علمی اور لاعلمی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے
‎میں سمجھتا تھا مرے چاروں طرف دنیا ہے
‎خود مجھے علم نہیں تھا میری تنہائی کا
‎اور اسکے ساتھ ہی اُسے اس حقیقت کا ادراک بھی ہو جاتا ہے کہ
‎دریا ہوں سمندر میں کہیں ڈوب رہا ہوں
‎اور ہاتھ میں ہاتھوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
‎امداد کے ہاں وصال کسی انعام عنایت یا رومان کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اور پہاڑ ہے جسے عبور کرنا ضروری ہے

‎ جگر کو چاک نہ کرتا تو کیا رفو کرتا؟ 
‎جمالِ رنگِ حنا سے مرا معاملہ تھا
‎ہر اک وجود میں اُگنے کی چاہ تھی مجھ کو
‎میں جانتا تھا قضا سے مرا معاملہ تھا
‎میں اس کے ہونٹ تو سر کر چکا تھا شامِ وصال
‎اب اسکے بندِ قبا سے مرا معاملہ تھا
‎کئی وجود میسر تھے اوڑھنے کے لیے
‎مگر جو اُسکی ردا سے مرا معاملہ تھا
‎امتحان ہو مقابلہ ہو یا وصال ہو امداد کی بے لاگ طبیعت اپنے لیے بھی کوئی رعایت نہیں مانگتی اور وہ اپنی تھکن پر بھی نازاں و فرحاں دکھائی دیتا ہے
‎لمحے شبِ وصال کے صرفِ وصال ہو گئے
‎اس کو بھی نیند آ گئی، ہم بھی نڈھال ہو
‎اوراسکی انا یہ سچائی تسلیم کرنے سے انکاری نہیں کہ
‎مجھ کو تھی اُن کی ذات سے ایسی مسابقت کہ بس
‎جب میں بنا مثال تو وہ بے مثال ہو گئے
‎اپنی محبت کے دئیے ان زخموں سے ہارنے کی بجائے وہ سوچتا ہے کہ وہ محبت جو زخم دیتی ہے دیکھنے آتی ہے دیکھ کر کیا سوچتی ہو گی
‎جس نے بیمار کیا مجھ کو وہ غارت گرِ دل
‎جب مجھے دیکھنے آتا ہے تو کیا سوچتا ہے
‎آکاش کا سماجی شعور واضح اور بے لچک ہے وہ برصغیر کی مٹی سے جڑا ہوا ہے اور اپنے علاقے کے تہذیبی زوال کو ایک شعر میں سمیٹ دیتا ہے
‎آکاش اشوکا اور اکبر، ٹیگور، کبیرا اور گوتم
‎اک وقت یہاں کی رونق تھے، اب فوج حکومت کرتی ہے
‎‎
‎انصاف پر اس کا یقین ذاتی تجربات اور مشاہدے کی وجہ سے سوالیہ ہے اور وہ اسے قدر و عمل کے استعاروں میں ڈھال کر طنز کرنے سے نہیں چوکتا
‎بیڑیاں پہنے کھڑا ہوں ایسے منصف کے حضور
‎جس نے پہلے سے ہے لکھ کر فیصلہ رکھا ہوا
‎دنیا میں وہ اپنی ترجیحات سے نہ شرمندہ ہے اور نہ ہی دنیا سے چھپتا ہے
‎مے سے رغبت ہے مجھے یا دانۂ گندم سے ہے
‎ماسوا ان کے ہے اس دنیا میں کیا رکھا ہوا
‎اور وہ زندگی کو اسی شعور کے ساتھ اپنے جان سے پیارے ملنے والوں کے ساتھ جیتا ہے
‎جب بھی کوئی جان سے پیارا ملنے کو گھر آ جائے
‎شغلِ شراب و شعر و شب بیداری کرنا پڑتا ہے
‎اسی لیے جہاں سر جھکانے کی بات نکلے وہاں وہ اقرار سے زیادہ انکار کو ترجیح دیتا ہے
‎اقرار کی نسبت مجھے انکار ہے بہتر
‎دیکھیں تو ہے کیا نعرۂ تکبیر سے آگے
‎انتظار میں کھڑا رہنا اسے قبول نہیں وہ معجزوں پر نہیں عمل پر یقین رکھنا والا شخص ہے
‎بنا کام کاج کھڑے کھڑے کسی معجزے کی تلاش میں
‎مرے ہاتھ پاؤں اکڑ گئے کسی معجزے کی تلاش میں
‎دنیا کا ناچ گھر چاہے کسی کا بنایا ہوا ہو وہ دنیا کے سٹیج پر اپنے کردار سے بخوبی واقف ہے
‎یہ ناچ گھر ہے کسی اور کا بنایا ہوا
‎میں ناچتا ہوں، نچاتا ہوں اور دیکھتا ہوں
‎وہ اپنے نظریاتی محبوب سے اتنی محبت کرتا ہے کہ دشمن بھی اسکی اسی محبت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ سب جان کر انجان بنا رہتا ہے
‎عدو کیسے ستم گر ہیں مجھے تسخیر کرنے کو
‎تری تصویر کے اوپر مرے بازو بناتے ہیں

‎وہ الجھے ہوئے بالوں کو سنوارنے والا ہے سازش کرنے والا نہیں اور جو کرتے ہیں ان لوگوں سے نالاں دکھائی دیتا ہے
‎ہمیں تو خواب میں بھی زلف سلجھانے کی عادت ہے
‎مگر وہ لوگ جو الجھے ہوئے گیسو بناتے ہیں
‎اس کے سوالات سے کسی کو بھی فرار نہیں، یہاں تک اسے خود بھی نہیں اور محبوب کو بھی نہیں
‎تو اپنے آپ سے باہر نکلنا چاہتے تھے
‎یہ جس میں آن بسے ہو مکان ہے کہ نہیں
‎سو تم نے جان کہی ہم نے جان دی تم پر
‎اب اور باقی کوئی امتحان ہے کہ نہیں
‎اور پھر فیصلہ سنا دیتا ہے بے خوف، بے رعایت ہمیشہ کی طرح
‎ہمارے حق میں کوئی بھی ہوا چلے نہ چلے
‎ہمیں تو چلنا ہے یہ راستہ چلے نہ چلے
‎میں ان مسائلِ دنیا کو خود ہی دیکھوں گا
‎تمھاری آیتِ ردِ بلا چلے نہ چلے
‎امداد آکاش کی شاعری کسی خواب فروش کی شاعری نہیں، خواب شکن کی غزل ہے
‎وہ قاری کو تسلی نہیں دیتا، ذمہ داری کا احساس دیتا ہے اس کا شعر مذہب، محبت، سیاست اور ذات سب کو ایک ہی سوال پر لا کھڑا کرتا ہے
‎کیا ہم خواب سے آگے جا کر سچ مچ جاگنے کے لیے تیار ہیں؟ 
‎‎
‎انتخاب
‎سلگتی آگ کے ڈر سے خدا تخلیق کر ڈالا
‎کھلی جب آنکھ تو سوچا یہ کیا پیدا کیا ہم نے
‎۔ ۔۔۔۔ 
‎یزداں نے میرے ساتھ کیا تھا مکالمہ
‎ہاتھوں میں سر کو تھام کے بیٹھا ہے میرے پاس
‎اِس دشتِ نا شناس میں میں ہوں خدا تراش
‎جیسا کسی کو چاہیے ویسا ہے میرے پاس
‎۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 
‎لغزشِ پا ہے کہ ہے نیند میں بھی ساتھ مرے
‎ٹوٹ جائیں گے مرے خواب مجھے تھام کے رکھ
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ 
‎ہم نے یہ کہا آپ ہی دنیا ہیں ہماری
‎یہ سن کے ہمیں آپ نے دنیا سے نکالا
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 
‎بنا کام کاج کھڑے کھڑے کسی معجزے کی تلاش میں
‎مرے ہاتھ پاؤں اکڑ گئے کسی معجزے کی تلاش میں
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 
‎ جگر کو چاک نہ کرتا تو کیا رفو کرتا؟ 
‎جمالِ رنگِ حنا سے مرا معاملہ تھا
‎ہر اک وجود میں اُگنے کی چاہ تھی مجھ کو
‎میں جانتا تھا قضا سے مرا معاملہ تھا
‎میں اس کے ہونٹ تو سر کر چکا تھا شامِ وصال
‎اب اسکے بندِ قبا سے مرا معاملہ تھا
‎کئی وجود میسر تھے اوڑھنے کے لیے
‎مگر جو اُسکی ردا سے مرا معاملہ تھا
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 
‎عدو کو دیکھ کے خوش ہوں کمالِ تنہائی
‎کوئی تو دشت میں اپنے سوا نظر آیا
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ 
‎آکاش اشوکا اور اکبر، ٹیگور، کبیرا اور گوتم
‎اک وقت یہاں کی رونق تھے اب فوج حکومت کرتی ہے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔ 
‎حدودِ جسم سے باہر گئے تو یاد آیا
‎جو ہم نے وقت گزارا ہماری خاک میں تھا
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ 
‎ عدو کیسے ستم گر ہیں مجھے تسخیر کرنے کو
‎تری تصویر کے اوپر مرے بازو بناتے ہیں
‎ہمیں تو خواب میں بھی زلف سلجھانے کی عادت ہے
‎مگر وہ لوگ جو الجھے ہوئے گیسو بناتے ہیں
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
‎کم خواب تھے اوروں کو جگاتے ہوئے گزرے
‎ہم وقتِ سحر ڈھول بجاتے ہوئے گزرے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ 
‎دو چار دن بھی ہم سے نبھائی نہیں گئی
‎وہ معتدل مزاج تھا میں انتہا پسند
‎وہ خود فریب شخص تھا پتھر شناس تھا
‎آیا نہ اس کو کوئی بھی اپنے سوا پسند
‎کھولی ہے جب سے آنکھ کبھی سو نہیں سکے
‎کیونکہ ہمیں ہے خواب میں بھی جاگنا پسند
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ 
‎دستِ فطرت کو حفاظت کی ضرورت ہوگی
‎شوق تخلیق میں انسان بنا بیٹھا ہے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ 
‎خدا کے بت پہ یہ قصداً نہیں مرا چہرہ
‎بہک گیا تھا ذرا ہاتھ سر بناتے ہوئے
‎۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
‎یہ ناچ گھر ہے کسی اور کا بنایا ہوا
‎میں ناچتا ہوں نچاتا ہوں اور دیکھتا ہوں
‎۔ ۔ ۔۔۔ 
‎لمحے شبِ وصال کے صرفِ وصال ہو گئے
‎اس کو بھی نیند آ گئی ہم بھی نڈھال ہو گئے
‎ مجھ کو تھی اُن کی ذات سے ایسی مسابقت کہ بس
‎جب میں بنا مثال تو وہ بے مثال ہو گئے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ 
‎جب بھی کوئی جان سے پیارا ملنے کو گھر آ جائے
‎شغلِ شراب و شعر و شب بیداری کرنا پڑتا ہے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔ 
‎یزداں نے گر بتوں سے کوئی چھیڑ چھاڑ کی
‎وہ گرمئی جگر ہے لہو بھی اُبلتا ہے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔ 
‎بیڑیاں پہنے کھڑا ہوں ایسے منصف کے حضور
‎ جس نے پہلے سے ہے لکھ کر فیصلہ رکھا ہوا
‎مے سے رغبت ہے مجھے یا دانہِ گندم سے ہے
‎ماسوا انکے ہے اس دنیا میں کیا رکھا ہوا 
‎۔ ۔ ۔۔۔۔ 
‎اقرار کی نسبت مجھے انکار ہے بہتر
‎دیکھیں تو ہے کیا نعرہ تکبیر سے آگے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
‎جس نے بیمار کیا مجھ کو وہ غارت گرِ دل
‎جب مجھے دیکھنے آتا ہے تو کیا سوچتا ہے
‎۔ ۔ ۔۔ 
‎ت اپنے اپ سے باہر نکلنا چاہتے تھے
‎یہ جس میں آن بسے ہو مکان ہے کہ نہیں
‎سو تم نے جان کہی ہم نے جان دی تم پر
‎اب اور باقی کوئی امتحان ہے کہ نہیں
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔ 
‎میں سمجھتا تھا مرے چاروں طرف دنیا ہے
‎خود مجھے علم نہیں تھا میری تنہائی کا
‎۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ 
‎دریا ہوں سمندر میں کہیں ڈوب رہا ہوں
‎اور ہاتھ میں ہاتھوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔ 
‎ہمارے حق میں کوئی بھی ہوا چلے نہ چلے
‎ہمیں تو چلنا ہے یہ راستہ چلے نہ چلے
‎میں ان مسائل دنیا کو خود ہی دیکھوں گا
‎تمھاری آیت ردّ بلا چلے نہ چلے
‎۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !