آدھی عورت (افسانہ)۔۔ لہر نیازی

 
"بابا تو نے مجھے بڑی آزمائش میں ڈال دیا۔ اب میں اپنی قسمت کو روؤں یا بابا آپ کا گلہ کروں۔ بھلا میں کس زبان سے بابا کا گلہ کروں۔ کاش بابا! تو نے اس وقت یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا اور میرے مستقبل کا بھی سوچ لیا ہوتا۔۔۔۔ کاش!"
ناہید بابا کی تصویر سامنے رکھ کر اپنی میڈیکل رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے خود سے دبے لہجے میں بول رہی تھی۔ آنسو اس کی آنکھوں سے جاری تھے۔
شام کے سائے ڈھلنے لگے تھے۔ اس کو اپنی ماضی کی یادوں میں شام کی اذان تک سنائی نہ دی۔ اب تو درختوں پر چہکنے والی چڑیاں بھی خاموش ہو چکی تھیں۔ اس نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھ لیے اور وضو کرنے کے لیے جلی گئی۔
سنگھار میز بڑے آئینے کے سامنے بابا کی تصویر اور میڈیکل رپورٹس پڑی رہ گئیں۔ کھڑکی سے ہوا کا جھونکا رپورٹس کو اوپر تلے کر دیتا۔
ناہید جب دسویں جماعت میں پڑھتی تھی تب ڈاکٹر نے اس کی میڈیکل رپورٹس دیکھ کر اس کے جسم میں ایک غدود کی نشان دہی کی۔ 
ڈاکٹر کے مشورے کے باوجود بابا نے اس غدود کا آپریشن نہ کرایا۔ امی کا خیال تھا کہ اگر آپریشن کرا لیا اور اس کا کسی کو پتہ چل گیا تو اس کے رشتہ میں رکاوٹ آ جائے گی، یہ سوچ کر ماں نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ آپریشن کی رقم بھی زیادہ تھی جس کی وجہ سے بابا نے بھی اس غدود کو اتنا سنجیدہ نہ لیا اور سارا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔
وقت کے ایک غلط فیصلے نے ناہید کی دنیا ہی اجاڑ کے رکھ دی۔ ناہید آج ایک پر وقار عورت کا روپ دھار چکی تھی۔ ناہید کی شادی کے دس برس بیت گئے مگر شاخوں پر پھول اور پھل کی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آتی تھی۔ شاہد ایک سنجیدہ پڑھا لکھا جوان تھا۔ اس نے ناہید کا بہت علاج کرایا۔ بہار کے موسم میں بھی ہری بھری شاخ ثمر بار ہونے کو نہ آئی۔ جانے کتنے ہی طبیبوں سے علاج کرایا لیکن کوئی سی کوشش بھی ثمر بار ثابت نہ ہوئی۔ جہاں بھی گئے طبیبوں نے ایک ہی فقرہ بولا، "کاش اگر وقت پر بچی کا علاج ہو جاتا تو یہ غدود آج اتنی بڑی آفت بن کر سامنے نہ آتی۔ اب صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے۔"
ایک دن ناہید گھر میں بیٹھی ڈوپٹہ کڑھائی کر رہی تھی کہ دو پڑوسنیں گھر میں داخل ہوئیں۔ خیر و عافیت دریافت کی۔ پہلے تو ادھر ادھر کی باتیں چلتی رہیں، کچھ لگائی بجھائی ہوتی رہی، پھر ایک ادھیڑ عمر عورت نے ناہید سے مخاطب ہوکر کہا، " ناہید آپ کی چھوٹی بہن۔۔۔ کیا نام ہے؟ بھلا سا نام ہے... شاہدہ! ہاں... شاہدہ۔۔۔۔"جی یہی نام ہے۔" دوسری نے لقمہ دیا۔ "اس کی تو شادی تمھارے بہت بعد ہوئی تھی." پہلی بولی، "کتنے بچے ہیں اس کے؟"
ناہید بولی، "ماشاءاللہ دو بچے ہیں اس کے." 
دوسری پڑوسن نے جھٹ سے کہا، "ہاۓ ۔۔۔ہاۓ۔۔۔ ناہید! تمھاری تو شادی اس سے پہلے ہوئی تھی نا, اللہ تیری گود بھی ہری کرے." 
پڑوسن کی اس بات میں جو چبھن اور جو خنجر چھپا تھا اس کی چبھن ناہید کی روح تک جا پہنچی۔ اور اسے ایسا لگا جیسے اس کا سارا بدن اس خنجر کے زہر سے نیلا ہو گیا ہے۔ ناہید کے دل و دماغ پر اندھیرا سا چھانے لگا تھا۔ اس نے بغیر کچھ کہے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو غور سے دیکھا اور ہتھیلیوں کی شکستہ لکیروں کو کریدنا شروع کر دیا۔ اسے ایسا لگا جیسے اس کے ہاتھ کی لکیروں میں کوئی ایک لکیر کہیں چھپی ہوئی ہے، جسے وہ اب کریدنا چاہتی تھی تاکہ اس کا آنگن بھی ہرا بھرا ہو جائے۔ لیکن قسمت میں جو لکھا ہوتا ہے وہ کسی کے کریدنے سے کب سامنے آتا ہے۔ انسان اپنی سی کوشش تو ضرور کرتا ہے۔ دل کے بہلانے کو کچھ تدبیر تو ضرور کی جاتی ہے۔
ناہید کے چہرے پر سیاہی سی پھیلتی دیکھ کر پہلی پڑوسن نے ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا، "ہاۓ ہاۓ ۔۔۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔" دوسری پڑوسن نے فوراً لقمہ دیا، "اللہ کرے آپ کے ہاں بھی پھول کھلے۔ یہ گھر بھی ہرا بھرا ہو۔"
  اس کی زندگی کے پہلے حصے میں جو ہوا، بہت برا ہوا۔ بعض اوقات کسی کی چھوٹی سی غفلت اور تھوڑا سا طمع آنے والے وقتوں میں بہت بڑے دکھ اور خسارے کا باعث بن جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ تو ناہید ہی لگا سکتی تھا۔
 ناہید بابا کی سنگھار میز پر رکھی تصویر کو دیکھ کر دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے رو رو کر پوچھتی تھی، "کاش بابا! میرے مستقبل کا ہی سوچ لیا ہوتا۔ مجھے اس عذاب میں ڈالنے سے پہلے میری حسرتوں کا ضرور خیال کیا ہوتا۔ آج میں ایک آدھی عورت نہ ہوتی۔ اب میں اپنے آپ کو کیسے مکمل کروں۔ بابا ایسا سلوک میرے ساتھ کیوں کیا؟ کیا میں اسی لائق تھی؟ کاش بابا! امی نے اور آپ نے میرے آنے والی زندگی کے بارے میں تھوڑا سا بھی خیال کر لیا ہوتا، میرے علاج پر کچھ روپے لگا دیے ہوتے، مجھے اس غدود سے، اس بلا سے اس وقت نجات دلاتی ہوتی، میں آج خوشیوں بھرے آنگن میں ہری بھری شاخ کی طرح لہلہاتی رہتی، پھول کھلتے، خوشبو بکھیرتی رہتی۔ میرا آنگن یوں سونا سونا نہ ہوتا۔ کاش بابا! میرے اس آنگن کے بارے میں ہی سوچ لیا ہوتا۔ کتنے پیسے لگنے تھے؟ جتنے بھی لگنے, آج مجھ سے کئی گنا لے لیے ہوتے، لیکن مجھ پر رحم کیا ہوتا۔ کاش! کاش! بابا میرے ساتھ ایسا نہ کیا ہوتا۔"
ناہید کے سرخ گالوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔ وہ اپنے پیارے بابا کی تصویر سے گلے شکوے کر رہی تھی۔
ناہید کے آنگن میں خزاں کے زرد پتوں کی طرح ڈاکٹروں کی میڈیکل رپورٹس 
اڑتی بھرتی تھیں۔ سنگار میز کے دراز ہوں کہ الماریاں ہر جگہ ڈاکٹروں اور طبیبوں کی میڈیکل رپورٹس پڑی منہ چڑھا رہی تھیں۔ ان رپورٹوں کو دیکھ کر ناہید کے انسو پھر سے بہنے لگتے۔ وہ آئینے میں اپنے وجود کو دیکھتی تو سسکیاں اس کے گلے میں اٹک جاتیں۔ 
 اس کے اندر اس کی ممتا چیخیں مارنے لگتی۔ گود ہری ہونے کی تمنائیں اس کے اندر کسی اجنبی کی طرح دستک دے کر واپس لوٹ جاتیں اور اس کے دروازہ کھولنے تک کا بھی انتظار نہ کرتیں۔ انہی سوچوں میں گم تھی کہ شوہر کی دروازے پر دستک سے چونک کر اٹھی اور سوچوں کی گٹھڑی چھپاتے ہوئے دروازے کی طرف لپکی۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !