میں نے ابھی تک کسی روزی روزگار سے متعلق صلاح کار (ایمپلائمنٹ کونسلر) سے مشورہ نہیں لیا تھا ۔لیکن اب خیال تھا کہ کسی سے انٹرویو کا وقت لے لوں، خود سے وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ویسے بھی سناتھا کہ ایمپلائمنٹ کونسلر کے آجروں سے بہت اچھے تعلقات ہوتے ہیں، انکے پاس کافی پیشہ ورانہ نوکریاں بھی موجود ہوتی ہیں، جہاں وہ اہل لوگوں کو لگوا کرا دیتے ہیں۔ مجھے اپنی اہلیت اور تجربے کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔
میرا خیال تھا کہ کونسلر میرا ریزیومے دیکھے گا اور اس بات پر افسوس کرے گا کہ مجھ جیسے پڑھے لکھے اور تجربہ کار انجینئر کو اب تک کوئی مناسب ملازمت کیوں نہیں ملی؟ پھر وہ اپنے کمپیوٹر سے چار پانچ عمدہ آسامیوں کے اشتہار نکالے گا اور مجھ سے کہے گا کہ میں ان میں سے کسی بہتر ملازمت کا انتخاب کر لوں۔ تنخواہ وغیرہ بعد میں طے ہوتی رہے گی۔
اسی خمار میں میں نے ایک ایمپلایمنٹ کونسلر سے وقت لیا اور دوسرے دن وقتِ مقررہ پر پہنچ گیا۔اس انٹرویو کے لئے میں نے خاصا اہتمام کیا۔ کوٹ ٹائی اور چمکتے ہوئے جوتے۔ اسناد اور تعریفی سرٹیفیکٹ سے بھرا ہوا بریف کیس بھی میرے ساتھ تھا۔
کونسلر نے میرے چار صفحات پر مشتمل ریزیومے کا جائزہ لیا اور کہا
” ریزیومے بہت طویل ہے، چار صفحات بہت ہیں۔ اسے مختصر کریں۔ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ صفحہ”
” ڈیڑھ صفحہ۔ اس میں تو کچھ بھی نہیں آئے گا”
“یہاں ڈیڑھ صفحہ بھی بہت ہے۔ لمبے ریزیومے کوئی نہیں پڑھتا۔ آجر کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا”
کونسلرنے مزید مشورہ دیاکہ میں تاریخِ پیدائش نکال دوں (یہاں آجر کے لئے عمر پوچھنا یا تاریخ پیدائش معلوم کرنا غیر قانونی ہے) کالج اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے مہ سال بھی نکال دوں۔ غیر ضروری اور پرانے تجربہ کو بھی خارج کر دوں اور صرف گزشتہ تین چار سال کے تجربہ پر زور دوں۔انجینئرنگ کونسل، انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز اور کمپیوٹر سوسائٹی جیسے اداروں کے ساتھ جوکام کیا ہے اسے کہیں آخر میں ڈال دوں۔ ویسے اس کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے
میرا پیشہ ورانہ تجربہ، میری سینیارٹی، وہ عہدے جو میں نے بڑی جدو جہد اور محنت سے حاصل کئے، وہ سب یہاں غیر ضروری ہیں۔ مجھے یہ سب کچھ سن کر کافی مایوسی ہوئی۔ میرے حساب سے اب ریزیومے میں کچھ بچا ہی نہیں تھا۔
اس غیر متوقع صورت حال سے میں ابھی سنبھلنے بھی نہیں پایا تھا کہ کونسلر نے مجھے پھر چونکا دیا۔
” آپ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ آپ کو اپنے پیشہ میں کام کرنے کے لئے لائسنس لینا پڑے گا”
“لائسنس؟ میرے پاس ایک چھوڑ یونیورسٹی کی دو دو ڈگریاں ہیں۔ جن میں سے ایک امریکہ کی بھی ہے۔ کیا یہاں امریکہ کی ڈگری بھی تسلیم نہیں کرتے؟”
“سوال ڈگری تسلیم کرنے کا نہیں ہے۔ یہاں 23 پیشے ایسے ہیں جو باضابطہ ہیں اور ان میں کام کرنے کے لئے لائسنس لینا پڑتا ہے، پیشہ ورانہ امتحان پاس کرنا پڑتا ہے جیسے ڈاکٹر، وکیل، اکاوئنٹنٹ وغیرہ۔ انجینئرنگ بھی ان ہی پیشوں میں سے ایک ہے”
“لیکن مجھے تو امیگریشن ہی میری ڈگری کی بنیاد پر دیا گیا ہے، پوائنٹ سسٹم پر”
“وہ صحیح ہے۔ آپ چاہیں تو یہاں کئی اور کام کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ کے امیگریشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن انجینئرنگ کے لئے بہرحال لائسنس کی شرط ہے۔”
چلتے چلتے اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ یہاں ملازمت کے لئے کینیڈین تجربہ ضروری ہے۔ یہ غیر ملکی تجربے کو نہیں مانتے۔
گویا کینیڈا کے معیار سے میں محض ایک انٹرمیڈیٹ پاس امیگرینٹ ٹھا جس کے پاس نہ تو کوئی ہنراور نہ ہی کوئی تجربہ تھا۔ میرا پیشہ ورانہ تعلیم، تجربہ اور افسرانہ ذہنیت کی بنیادوں پر تعمیرکیا ہوا خود ستائیشی محل چشم زدن میں زمیں بوس ہوگیا۔کینیڈا کے ساتھ میرا ہنی مون پیریڈ مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا
گلہ نہ کر کہ ہے آغازِ شب ابھی پیارے
ڈھلے گی رات تو یہ درد اور چمکے گا
جب ذرا حواس بحال ہوئے تو میں نے انجینئرنگ کے لائسنس کی تفصیل پوچھی۔ پتہ چلا کہ لائسنس کے حصول کے لئے پہلے آپ کو اسناد کی جانچ پڑتال کروانی پڑے گی۔ وہ آپ کی اسناد کا مقای ڈگریوں سے موازنہ کریں گے اور بتائیں گے کہ مقامی معیار کے مطابق آپ کو مزید کیا کورسز کرنے ہیں۔ اس کے بعد آپ لائسنسنگ کے ا متحان میں شرکت کے اہل قرار پا سکتے ہیں۔
کونسلر نے مجھے پروفیشل انجینئرز آف انٹاریو کا کتابچہ تھما دیا جس میں رابطہ کی تمام معلومات درج تھیں۔
لائسنسگ کے مراحل سے گزرنے کے لئے اچھا خاصا خرچہ اور تیاری کے لئے کافی وقت درکار تھا۔پہلا سوال یہ تھا کہ اتنی رقم کہا ں سے آئیگی اور پھر اتنے عرصے گھر کیسے چلے گا؟
کونسلر نے مجھے یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر میرے پاس وقت ہے تو میں خود کوکسی ملازمت کی تلاش میں مددگار(جاب سرچ)ورکشاپ میں کو رجسٹرکرا لوں۔ یہاں سینٹر میں اس قسم کی ورکشاپ اکثر ہوتی ہیں۔مرتا کیا نہ کرتا۔ فوری طور پر کوئی اور راستہ نہ پا کر میں نے اگلے ہفتہ شروع ہونے والی ورکشاپ میں خود کو رجسٹر کر ا لیا۔
اس ورکشاپ میں مجھ جیسے دس اور غیر ملکی پیشہ ور لوگ شرکت کر رہے تھے، جن میں بڑی تعداد انجینئر اور ڈاکٹر کی تھی۔
ورکشاپ کے آغاز میں شرکاء کو باری باری اپنا تعارف کرانے کو کہا گیا، تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور گفتگو کو آگے بڑھانے میں مدد ملے۔یہ بھی کہا گیا کہ تعارف بہت تفصیلی نہ ہو(گویا ریزیومے کی طرح مختصر ہو) اور اگر آپ کو ملازمت تلاش کرنے کے دوران کوئی خاص تجربہ ہوا ہو تو اسے یہاں بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
چنگ یو چائنا سے سند یافتہ کمپیوٹر نیٹ ورک ایدمنسٹریٹر تھا۔ اسے کینیڈا آئے ہوئے دو سال ہوچکے تھے لیکن ابھی تک اسے کوئی بھی متعلقہ ملازمت نہیں مل سکی تھی۔ اسکا خیال تھا کہ اس کی وجہ اسکی انگلش بولنے اورسمجھنے کی صلاحیت ہے۔ اسے لوگوں کا اور لوگوں کو اسکا تلفظ سمجھنے میں دشواری پیش آ تی ہے۔
مونیکا کولمبیا کی تجرہ کار اکاونٹنٹ تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اگریہاں اس اپنے شعبے میں کوئی کام مل جائے تو وہ یہاں کے سسٹم میں بہت اچھا کام کر سکتی ہے۔لیکن وہ جہاں جاتی ہے، اس سے کینیڈین تجربہ کا پوچھتے ہیں، جو اسکے پاس نہیں ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ نوکری لینے کے لئے کینیڈین تجربہ چاہئے اور کینیڈین تجربہ لینے کے لئے جاب چاہئے۔ یہ وہ سوال ہے کہ پہلے انڈا پیدا ہوا یا مرغی۔ اس چکر میں اسے ایک سال سے زیادہ نوکری ڈھونڈتے ہوئے ہو گیا ہے۔
شہیدالاسلام بنگلہ دیشی آرکیٹکٹ تھا۔ تلفظ مختلف، لیکن انگلش بہت رواں تھی۔ نوکری ملنا تو درکنار درجنوں درخواستوں کے جواب میں ابھی تک کسی نے انٹرویو کے لئے بھی نہیں بلایا۔ وہ فی الحال یہاں کا لائسنس حاصل کرنے کے مراحل سے گزر رہا تھا، اور کسی جگہ سیکیوریٹی گارڈ کی نوکری کر رہا تھا۔
نتاشا روسی ڈاکٹر تھی۔ دو سال سے کینیڈا میں تھی اور گزارے کے لئے کسی سینئر ہوم میں جز وقتی نوکری کررہی تھی۔
بسام بھی ڈاکٹر تھا، شام سے آیا تھا، یہاں ٹیکسی چلا رہا تھا۔
شیام انڈیا سے تھا۔ ماحولیات میں پی ایچ ڈی تھا۔ تین سال سے بیکار تھا۔ واپس جانے کی سوچ رہا تھا۔ کیونکہ پس انداز کی ہوئی ساری رقم خرچ ہو چکی تھی۔ فیکٹری میں کام کرنے کی عمر اب تھی نہیں۔
آباد حسین ایرانی پیٹرولیم انجینئر تھا۔ دوسال سے زیادہ کی بیکاری دیکھ چکا تھا، اور اب البرٹا جانے کی سوچ رہا تھا
کماری نندہ سری لنکن،سوشل ورک میں یونیورسٹی ڈگری۔ ایک عورتوں کے شیلٹر میں کام کرر ہی تھی۔ اس میں گھنٹوں کی تعداد بڑھتی گھٹتی رہتی تھی، کبھی 15 گھنٹے کبھی 20 گھنٹے، اس لئے ساتھ میں کچھ نہ کچھ پارٹ ٹائم کام پکڑے رہنا پڑرہاہے۔
اپنے سے بھی بری حال میں لوگوں کو دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا۔ کئی بہت ہی تجربہ کار اور قابل ڈاکٹر اور انجینئر ٹیکسی چلا رہے تھے یا گھروں میں پیزا پہنچا رہے تھے۔
جب سب لوگ اپنے بارے میں بتا چکے تو ورکشاپ منتظم نے کہا
” ہو سکتا ہے آپ سب لوگ یہ تمام کہانیاں سن کر کافی ناا مید ہوئے ہوں، لیکن ہم لوگ یہاں جمع اسی لئے ہوئے ہیں کہ ہم اپنی ناکامی کے اسباب تلاش کریں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ آپ یہ بات یاد رکھیں کے آپ کا مثبت اندازِ فکر ہی آپ کو حالا ت سدھارنے میں مدد دے سکتا ہے۔ “
کھانے کے وقفے میں کئی لوگوں سے غیر رسمی بات چیت رہی۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ حالات سخت ضرور ہیں لیکن ہم لوگوں کو ہمت نہیں ہارنی چاہئے۔اگر اپنے پیشہ میں گھسنے کا مسئلہ ہے تو کوئی دوسرا پیشہ اختیار کرنیکے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔
“واپسی کا خیال بے کار ہے”
ایک صاحب نے کہا
” حالات اور بے روزگاری سے تنگ آ کر میں دو سال پہلے وطن واپس چلا گیا تھا، لیکن وہاں بھی حالات بدل چکے تھے اور نئے سرے سے نوکری ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ میں ناکام شخص ہوں یا میں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے جس کی وجہ سے مجھے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ مجھ سے یہ سب کچھ زیادہ دیر برداشت نہیں ہوا، اس لئے دوبارہ واپس آ گیا ہوں۔ کشتیاں جلا کر!”
کھانے کے وقفے کے بعد سیشن دوبارہ شروع ہوا
” کینیڈا کی جاب مارکیٹ دو طرح کی ہے۔ ایک تو بالکل عیاں ہے جس کی ملازمتوں کے اشتہار اخباروں، انٹرنیٹ اور دوسرے میڈیا پرنظر آتے ہیں اور یہ جاب مارکیٹ قریباً 30، 40 فیصد ہے۔ دوسری 60،70 فیصد چھپی ہوئی یا میڈیا سے نسبتاً اوجھل ہے جس کی ملازمتوں کے اشتہار کبھی نظر نہیں آتے۔
ملازمتوں کے اشتہار نہ دینا کسی ایسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوتا ہے جس کا مطلب امیگرینٹ یا عام افراد کو ان ملازمتوں سے دور رکھنا ہوتا ہے، بلکہ ادارہ کے پاس اتنا وقت، اور وسائل ہی نہیں ہوتے کہ وہ اس طرح کی اسامیوں کے لئے باقاعدہ اشتہار دیں اور لوگوں کے انٹرویو کریں، چنانچہ اس طرح کی آسامیاں زیادہ تر نٹ ورکنگ کے ذریعے ہی پر کی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملازمت حاصل کرنے کے لئے” نیٹ ورکنگ” کی ضرورت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔یہ طریقہء کار آپکو اگر ملازمت نہیں دلا سکتا لیکن ملازمت کے نزدیک ضرور کر سکتا ہے۔نیٹ ورکنگ کا کوئی تیر بہدف نسخہ یا کوئی آزمودہ تیز ترین طریقہ نہیں ہے۔ جس طرح وطنِ عزیز میں آپ کے نیٹ ورک ایک لمبی مدت میں بنے تھے یہاں بھی نیٹ ورک بنانے میں وقت لگتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ موثر منصوبہ بندی، عمدہ لائحہ عمل اور اپنے اچھے طرزِ عمل کے ذریعے اس سے جلد ہی نتائج کی توقع کر سکتے ہیں۔ خودغرضی اور خراب طرزِ عمل پر مبنی نیٹ ورکنگ نہ تو دیرپا ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے کسی مثبت نتیجہ کی توقع کی جا سکتی ہے”
“ہم کیا اور ہماری نیٹ ورکنگ کیا؟ ہمارے جاننے والوں میں تو ہم جیسے ہی بے روزگار لوگ ہوتے ہیں ” میری ساتھ بیٹھے ہو ئے بنگالی آرکیٹیکٹ نے دھیرے سے کہا۔
اس طرح کے مختلف موضوعات کے پر گفتگو کے بعد، ورکشاپ آہستہ آہستہ اختتام کو پہنچ رہی تھی۔تھوڑی دیر کے بعدورکشاپ منتظم نے کہا
” اگر آپ لوگوں کے پاس مزید سوالات نہیں ہیں تو ہم اس ورکشاپ کا اختتام کرتے ہیں اور اسکے ساتھ ہی آپ لوگوں کا شکریہ”
میں نے یہاں سے سیکھا تو بہت کچھ تھا لیکن اسکے ساتھ ہی کچھ خدشات ہمارے ذہن میں سر اٹھانے لگے، جس میں سب سے بڑا مسئلہ لائسنس کا حصول، اچھے ریزیومے اور نٹ ورکنگ کا لگ رہا تھا۔میں نے سوچا کہ اب اگلے دن کسی وقت ذرا سکون سے بیٹھ کرسوچوں کہ آگے کیا کرنا ہے؟
