قسمت کا پتھر (افسانہ)۔۔لہر نیازی

 
"جا۔۔۔ اس پتھر کو دودھ پلا اور دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی میں سجا دے اسے۔۔۔ تیری تقدیر بدل جائے گی۔۔۔۔ سوئی ہوئی قسمت جاگ اٹھے گی۔۔۔۔۔ جا ۔۔۔کیا یاد کرے گا۔۔۔ جا۔"
قلندر بابا کی بات سن کر اسلم شاہ نے اپنی جیب سے کچھ روپے نکالے اور قلندر بابا کو نذرانہ دی کر خود کو سرخرو کر لیا۔ ایک نظر حجرے میں پڑے تعویزات اور مختلف مٹی کے برتنوں میں پڑے نگینوں پر ڈالی۔ کمرے میں گگل اور ہرمل کے جلانے کا دھواں کمرے کی چھت سے ٹکرا کر لوٹ رہا تھا۔ 
اسلم شاہ نے کمرے کی فضا اور قلندر بابا کے حلئے سے روحانیت محسوس کی اور تعظیمی سلام کرنے کے بعد جلدی جلدی حجرے سے باہر نکل گیا۔ وہ بڑی امیدیں باندھے قلندر بابا کے حجرے سے نکل آیا۔ بازار سے ململ کا ٹکڑا خریدا اور گھر کو لوٹ آیا۔ "وضو کر کے اس ململ کے کپڑے کو دھو اور پاک صاف جگہ پر اس کو سوکھنے کے لیے ڈال دے۔ اور سن! جب یہ کپڑا خشک ہو جائے تو اس کو استری کر کے مجھے دینا اور خبردار بغیر وضو کے اس کپڑے کو ہاتھ تک نہیں لگانا۔" 
بیوی کو تنبیہ کرتے ہوئے ساری باتیں ایک ہی سانس میں کہنے کے بعد خود کو روحانی طور پر ہلکا پھلکا محسوس کیا۔
چند گھنٹوں بعد اس ململ کے کپڑے میں اس پتھر کو بڑے ادب اور احترام کے ساتھ چوم کر اپنی جیب میں دائیں ہاتھ سے رکھ لیا۔ اس کے بعد اسلم شاہ نے محلے کا ایک چکر لگایا۔ وہ خود کو ایسے محسوس کر رہا تھا جیسے دنیا جہان کے خزانے اپنی جیب میں ڈالے پھرتا ہے۔ رات سونے سے پہلے خالص دودھ میں اس پتھر کو بھگو کر طاق میں رکھ دیا۔ کچھ دن یہی معمول رہا۔ پھر بتاۓ گئے طریقہ کے مطابق 
اس پتھر کو چاندی کی انگوٹھی بنوا کر اپنی دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی میں ڈال لیتا ہے۔ جب غسل خانے میں جانا ہوتا تو اسے پہلے اتار رکھتا۔ گھر کے حالات جوں کے توں خراب تھے۔
 لیکن اسے ایک عجیب سی خوشی ضرور محسوس ہوتی۔
اسلم شاہ کہ تمام معمولات اب اسی پتھر کے گرد گھومنے لگے وہ جہاں بھی جاتا سب سے پہلے اسی پتھر کو چومتا اور پھر گھر کے باہر قدم اٹھاتا بہرحال اسے کامیابی نصیب ہوتی لیکن ایک جو اس کے دل میں حسرت تھی وہ کسی بہت بڑی کامیابی کی تھی جو ابھی تک اس کے سامنے نہیں ائی تھی ایک دن اسے اسی بابا کے پاس دوبارہ جانے کا اتفاق ہوا تو بابا نے اسے بتایا کہ بچہ تم کیا کرتے ہو تو اسلم شاہ نے کہا بابا ابھی تک چھوٹے موٹے کام کرتا ہوں کچھ سرمایہ تھا وہ ادھر ادھر لگایا لیکن اسے فلحال کوئی فائدہ نہ ہوا اس قلندر بابا نے اسلم شاہ کے کاندھے پر تھپیڑا لگایا اور اس کے پتھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "جا! اب تمہارے بیڑے پار ہوں گے. جتنا سرمایہ ہے, کاروبار میں لگا دے. تو کامیاب ہوگا. اس پتھر کی تو اب برکتیں دیکھنا. اب کافی عرصہ سے یہ پتھر تمہارے ہاتھ میں سجا ہوا ہے۔ تم نے اس کی دیکھ بھال کی۔ اس کی پرورش کی۔ اب دیکھ! یہ تجھے کس حد تک آگے پار کرتا ہے اور کتنی برکت اس پر برکت اس پتھر کی وجہ سے جمع ہوئی ہے وہ تیرے گھر بار سے ظاہر ہوگی کیا چلا جا یہ باتیں سننا تھیں کہ اسلم شاہ کے دل و دماغ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی وہ پتھر کو چومتا ہوا دربار سے نکلا اور سیدھا گھر ایا بیوی کیا بچہ کچا زیور پڑا تھا اس نے بیوی کو قائل کیا لیکن بیوی نہیں مان رہی تھی۔ بیوی کے زبان پر ایک ہی بات کہہ رہی تھی، "یہ میری اماں کا دیا ہوا تحفہ ہے، میں اس کو ہرگز نہیں بیچوں گی۔"
 مگر آخر عورت تھی کیا کرتی۔ گھر کو اجڑتا تو دیکھ نہیں سکتی تھی۔ اس نے دل پر بھاری بھرکم پتھر رکھا اور شوہر کو اپنا زیور بیچنے دیا۔ اسلم شاہ نے گھر کا سارا زیور اونے پونے بیچا اور بازار میں جا کر کسی دوست سے اپنے کاروبار کا ارادہ ظاہر کیا۔ دوست کو جب معلوم ہوا کہ اس کے پاس اچھی خاصی رقم ہے تو اس نے اس کو اپنے ساتھ شریک کر لیا۔ اس کا نیا نیا کاروبار تھا جب مزید دولت اس کے ہاتھ لگی تو اس نے اپنے کاروبار کو وسیع کرنے کی خاطر گاہکوں کو ادھار پہ سودا دینا شروع کر دیا۔ چند ماہ اسی طرح گزر گئے۔ گاہکوں کی آمد و رفت میں اضافہ تو ہو گیا لیکن دھیرے دھیرے دکان خالی ہونے لگی۔
 لوگوں سے ادھار کی طلبی کی مگر ادھار کی واپسی میں لیت و لعل شروع ہوئے اور نوبت تلخ کلامی تک پہنچنے لگی۔ بروقت سرمایہ کی واپسی نہ ہونے کی وجہ سے دکان خالی ہو کر مکان بن کر رہ گئی۔ چند ہی مہینوں میں سارا سرمایہ ڈوب گیا۔ 
حالات بگڑے تو اسلم شاہ کا دوست کہیں روپوش ہو گیا۔ جو کچھ بچا تھا وہ ساتھ لے گیا۔ اسلم شاہ خالی دکان کا کرایہ دینے سے تو رہا اس نے بھی بازار جانا چھوڑ دیا اور گھر بیٹھ رہا۔
 مگر اسلم شاہ نے اس پتھر کی تعظیم و تکریم میں کمی نہ آنے دی۔ اس کو ابھی بھی یقین تھا کہ قلندر بابا کے کہے ہوئے الفاظ پتھر پر لکیر ہیں۔ اسلئے اس کی قسمت ضرور بدلے گی، حالانکہ وہ اپنی لٹیا ڈبو چکا تھا۔ گھر میں کچھ عرصہ فاقے رہے۔ بیوی اپنا سر پیٹنے لگی۔ بیٹا ابھی چلنا سیکھ رہا تھا اس کی الگ سے ضروریات تھیں۔ اس نے گھر کی ذمہ داریوں سے بھاگ کر قلندر بابا کے حجرے میں جا پناہ لی۔ اندھی عقیدت بعض اوقات انسان کو ایسے گڑھے میں گرا دیتی ہے جس سے نکلنے کی کوئی بھی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ زندگی کا بہت بڑا جوا تھا جو وہ ہار چکا تھا۔ اب ہارے ہوئے شخص کی طرح وہ کونے کھدروں میں پناہ لینے پر مجبور تھا۔
زندگی کی ناکامیوں نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔  
 اس کی بیوی نے بچے کو پالنے کی خاطر پاس پڑوس کے گھروں میں ماسی کا کام ڈھونڈ لیا۔ زندگی یونہی لڑکھڑا کر چلنا شروع ہو گئی۔  
اسلم شاہ ایک دن اپنے بچے اور بیوی کے بارے کافی فکرمند ہوا تو حجرے کو چھوڑ کر باہر نکل آیا۔ طوفانی بارشوں میں تنکوں کی طرح اس کے خیالات بکھرے ہوئے تھے۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے نہر تھل کے کنارے پر چلا جارہا تھا۔ نہر تھل کے پختہ کنارے بھی اس کی شخصیت کی طرح اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔
وہ کبھی پتھر کو دیکھتا تو کبھی نہر کے پانی کو۔ طوفانی بارشوں کی وجہ سے نہر تھل کا پانی اس کے خیالات کی طرح گدلا ہو چکا تھا۔ وہ کچھ دیر کے لیے رکا اور پتھر والی انگوٹھی کو اتار کر غور سے دیکھنے لگا۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے انگوٹھی کو نہر کے گدلے پانی میں پھینک دیا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !