سبع معلقات، ایک مختصر تعارف۔۔۔ نوازش علی ندیم

عرب کے دورِ جاہلیت میں کہا جانے والا ابتدائی عربی شعر نہ صرف فنی مہارت کا شاہکار ہے بلکہ اُس زمانے کے معاشرتی، تہذیبی اور اخلاقی رجحانات کا بھی آئینہ دار ہے انہی شاہکاروں میں معلقات سب سے زیادہ شہرت یافتہ ہیں۔ روایت ہے یہ سات قصائد خانہ کعبہ کی دیوار پر سونے کے پانی سے لکھ کر آویزاں کیے گئے تھے، اسی نسبت سے انہیں معلقات یعنی “لٹکائی ہوئی نظمیں” کہا جاتا ہے۔
معلقات کے سات شعرا درج ذیل ہیں:
امرؤالقیس
طرفہ بن العبد
زہیر بن ابی سلمی
لبید بن ربیعہ
عنترہ بن شدّاد
عمرو بن کلثوم
الحارث بن حلّزہ
ذیل میں ہر شاعر کا مختصر تعارف اور نمونۂ کلام پیش ہے۔

 امرؤالقیس
دورِ جاہلیت کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی معلقہ عربی غزل کی بنیاد کہلاتی ہے۔ بادشاہانہ زندگی، عشق اور فطرت نگاری اُن کے کلام کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
نمونۂ کلام
قِفا نَبْكِ مِن ذِكرى حبيبٍ ومَنزِلِ
بِسِقطِ اللِّوى بَينَ الدَّخولِ فَحَومَلِ..

"اے ہم نشیں! آ ذرا کچھ ساعتیں محبوب اور اس کی گلیوں کی یاد میں رو لیں، جو دخول اور حوملہ کے ٹیلوں کے درمیاں ریت کے نیچے گم ہو چکی ہیں۔"

طرفہ بن العبد
جاہلی ادب کے نوجوان مگر نہایت باکمال شاعر تھے۔ ان کی معلقہ میں فلسفۂ حیات، جوانی کی امنگیں اور ناانصافیوں کے خلاف آواز ملتی ہے۔
نمونۂ کلام
لَخَولَةُ أَطلالٌ بِبُرقَةِ ثَهمَدِ
تَلوحُ كَباقي الوَشمِ في ظاهِرِ اليَدِ۔۔
خولہ (محبوبہ کا نام) کے پرانے گھروں کے نشانات برقہ تھمد میں ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے ہاتھ کی پشت پر گدے ہوئے نشانات باقی رہ جاتے ہیں 

 زہیر بن ابی سلمی
ان کی شاعری میں حکمت، اخلاق، صلح جوئی اور تجربہ کاری نمایاں ہے۔ معلقہ میں جنگِ داحس و غبراء کے اختتام اور امن کی اہمیت کو بہتر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
نمونۂ کلام
وَما الحَربُ إِلّا ما عَلِمتُم وَذُقتُمُ
وَما هُوَ عَنها بِالحَديثِ المُرَجَّمِ۔

جنگ وہی ہے جس کا(ہولناکی کا) مزہ تم چکھ چکے ہو اور یہ کوئی ایسی بات نہیں خو خیال و گمان پر مبنی ہو۔

 لبید بن ربیعہ
اسلام قبول کرنے کے بعد شاعری ترک کردی تھی، مگر اُن کی معلقہ جاہلی عہد میں کہی گئی۔ اُن کے اشعار حقیقت پسندی اور انسانی فطرت کے عمیق مشاہدے پر مبنی ہیں۔
نمونۂ کلام
أَلا كُلُّ شَيءٍ ما خَلا اللَهَ باطِلٌ
وَكُلُّ نَعيمٍ لا مَحَالَةَ زائِلُ.

"سنو! ﷲ کے سوا ہر چیز باطل اور فانی ہے اور ہر نعمت لا زماً زائل ہو نے والی ہے"

(شعر جس کی مدح حضورﷺ نے فرمائی ۔۔۔ 
حضورﷺ نے فرمایا : سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کا یہ مصرعہ ہے ۔۔ "سنو! ﷲ کے سوا ہر چیز ضائع ہونے والی ہے)

 عنترہ بن شدّاد
مشہور بہادر اور عاشق مزاج شاعر۔ ان کی معلقہ میں بہادری، خودداری اور محبوبہ عبلة سے عشق کا رنگ نمایاں ہے۔
نمونۂ کلام
هَل غادَرَ الشُّعَراءُ مِن مُتَرَدَّمِ
أَم هَل عَرَفتَ الدارَ بَعدَ تَوَهُّمِ۔

کیا شاعروں نے پیوند لگانے کی کوئی جگہ چھوڑی ہے یا کیا تم نے عبلہ کے گھر کو پہچان لیا ہے ؟ 

عمرو بن کلثوم
بنی تغلب کے معزز سردار اور بلند حوصلہ شاعر تھے۔ ان کی معلقہ عرب فخر و حمیت کی بہترین مثال ہے۔
نمونۂ کلام
أَلا هُبّي بِصَحنِكِ فَاصبَحينا
وَلا تُبقِ خُمورَ الأَندَرينا۔۔

ساقی اٹھو اور ہمیں صبوحی پلاو اور اندرین کی شراب سے کچھ بھی بچا کے نہ رکھو۔

الحارث بن حلزہ
ان کی معلقہ ایک قبائلی تنازع کے دوران بادشاہ کے دربار میں بطور دلیل پڑھی گئی تھی۔ اس میں فصاحت، قبائلی فخر اور سیاسی دانش شامل ہے۔
نمونۂ کلام
آذَنَتنا بِبَينِها أَسماءُ
رُبَّ ثاوٍ يُمَلُّ مِنهُ الثَّواءُ۔۔

اسماء نے ہمیں اپنی جدائی کی اطلاع دے دی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے قیام کرنے والوں کے قیام سے اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔۔

سبع معلقات نہ صرف عربی ادب کی بنیاد ہیں بلکہ عالمی شعری ورثے کا بھی ایک لازوال حصہ ہیں۔ ان میں عشق، فطرت، جنگ، حکمت، فلسفہ اور انسانی زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتیں اس خوبصورتی سے سمٹی ہوئی ہیں کہ آج بھی یہ ادبِ عالیہ کی مثال سمجھی جاتی ہیں۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !