پنچھی تھے جب پر نکل آئے تو اڑ گئے۔ والدین تو آشیانہ بدل نہیں سکتے۔ ان کے حصے میں بچوں کے لوٹ آنے کا انتظار جو لکھا ہوتا ہے، وہ اسی انتظار میں دنیا سے رخصت تو ہو جاتے ہیں مگر ان کا انتظار ختم نہیں ہوتا"
لیڈی ہیلتھ ورکر رضیہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اماں نے اپنے دکھ کا اظہار کیا۔ لیڈی ہیلتھ ورکر رضیہ اماں کا دکھ سن کر پریشان ہو گئی۔
اس نے سوچا کہ کتنی عجیب بات تھی کہ بچے بڑے ہوئے اور بوڑھے والدین کو تنہا چھوڑ کر بڑے شہر جا بسے۔ رضیہ نے ادھ کھلے کواڑ سے صحن میں جھانک کر دیکھا۔ گھر کے چار کمروں اور برآمدے سے معلوم ہوتا تھا کہ کبھی یہ گھر کتنا پر رونق ہوتا ہوگا۔ اب تو اس میں صرف تنہا بوڑھی ماں اپنے بچوں کے انتظار میں زندگی کے دن پورے کر رہی تھی۔ لیڈی ہیلتھ ورکر رضیہ ابھی بوڑھی اماں کی باتیں سن ہی رہی تھی کہ اچانک سے بوڑھی اماں کو خیال آیا اور بولی، "ہائے! ہائے! بیٹی تم تھکی ہوئی ہو. اندر آ جاؤ۔ بیٹی مجھے تو اندر آنے کو کہنے کا خیال ہی نہیں رہا میں تو بس اپنے غم لے بیٹھی۔"
یہ کہہ کر اماں نے جھٹ سے پرانے لکڑی والے دروازے کا دوسرا کواڑ بھی کھول دیا اور ہاتھ کے اشارے سے رضیہ ہیلتھ ورکر کو اندر آنے کو کہا۔ رضیہ ہیلتھ ورکر نے صحن میں قدم رکھا تو گھر کا منظر دیکھ کر پریشان سی ہوگئی۔
صحن کی دیواروں کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑا پڑا تھا اور صحن کے کونے کھدروں میں ہر جگہ خشک پتے اور تنکے جمع ہوئے پڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ ابھی ابھی آندھی آئی ہو اور گزر کر چلی گئی ہو۔
پڑوسیوں کے درختوں کی شاخیں جو صحن کی طرف جھکی پڑی تھیں۔ ان درختوں سے گرنے والے پتے اور گلے سڑے پھلوں کا الگ سے ڈھیر لگا پڑا تھا۔
بوڑھی اماں نے رضیہ کے چہرے کے تاثرات پڑھتے ہوئے کہا، "بیٹا مجھ میں اب اتنی ہمت نہیں رہی کہ میں روز روز صفائی کرتی پھروں۔ اب میرے ہاتھ بھی کانپتے ہیں۔ میں مشکل ہی سے اپنے کھانے پینے کے لیے ہاتھ چلا پاتی ہوں۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتی۔"
رضیہ نے اماں کی بات سنی تو اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا، "اماں آپ کی کوئی بیٹی نہیں ہے؟"
اماں نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا، " میری بیٹی نہیں ہے۔ بیٹی ہوتی تو آج ہاتھ بٹانے آ جایا کرتی۔ میرے دل میں یہی ایک کسک باقی ہے کہ اللہ میاں نے مجھے بھی بیٹی دی ہوتی۔"
رضیہ نے بیٹوں کے بارے میں پوچھا تو اماں خوش ہوکر بولی،"ماشاءاللہ میرے تین بیٹے ہیں۔ تینوں بڑے شہر میں بڑے افسر لگے ہوئے ہیں۔"
بیٹوں کا ذکر کرتے ہوئے ماں کے چہرے سے خوشی نمایاں تھی۔ مگر جب رضیہ نے بیٹوں کے آنے کا پوچھا تو ماں کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔
ماں نے نمناک لہجے میں کہا، "بس بیٹا کیا کہوں۔ بیٹے میرے عید بکرا عید پر آ جاتے ہیں، ایک دو دن رہتے ہیں۔ میرے گھر کی رونق بڑھاتے ہیں اور آنگن سونا کرکے پنچھی بن کر اڑ جاتے ہیں۔ میں بڑھیا پھر سے پہلے کی طرح تنہا رہ جاتی ہوں۔ (اماں لمبا سانس لے کر چند لمحے خاموش ہوئی اور چارپائی پر ا بیٹی) رات بھر تنہائی میں دیواروں کے ساتھ باتیں کرتی رہتی ہوں۔ یونہی اللہ اللہ کرتے رات بھی کٹ ہی جاتی ہے۔ اور دن ہوتے ہی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ چڑیاں صحن میں اتر آتی ہیں۔ بچے کھچے روٹی کے ٹکڑے ان کو ڈال لیتی ہوں اور کچھ باتیں ان سے کر لیتی ہوں۔ یوں میرا آنگن سونا نہیں رہتا۔ بلی نے کباڑ کوٹھڑی میں بچے دے رکھے ہیں۔ ان میاؤں میاؤں کرتے بلونگڑوں کی اچھل کود سے کبھی دل بہل جاتا ہے۔"
رضیہ نے دیکھا کہ بوڑھی اماں کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ وہ مزید کچھ اور کہتی تو شاید یہ آنسو بوڑھے گالوں پر لڑھک کر بہہ نکلتے، لیکن رضیہ نے اماں کی کیفیت دیکھ کر بات کا رخ موڑتے ہوئے بوڑھی اماں سے کہا، "اماں آپ کے میاں اس دنیا سے کب رخصت ہوئے کچھ یاد ہے؟"
اماں نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے آہ بھر کر جواب دیا، "وہ جنتی تو برسوں پہلے مجھے بیچ چوراہے تنہا کھڑا کر کے اس دنیا سے خود تو چلا گیا لیکن میرے لیے اس زندگی کو مشکل بنا گیا۔"
شوہر کا ذکر آنے پر اماں کی آنکھوں میں جو چمک اتری وہ بتا رہی تھی کہ اس کی اور اس کے میاں کی آپس میں زندگی بہت خوش گوار گزری ہوگی۔ شوہر کے ذکر سے اس کے بوڑھے جھریوں بھرے چہرے سے خوشی اور سکون کی کرنیں پھوٹنے لگی تھیں۔
اماں کا کمرہ تو اندر سے پختہ تھا مگر گرد اور جالے دیواروں سے لٹک رہے تھے۔ کتنی ہی آندھیاں اور طوفان آئے جس کی وجہ سے کمرہ کی حالت خراب تھی۔ ان بوڑھے ہاتھوں میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ کمرے کی صفائی کر لیتے۔ ہاں مگر بستر، میز اور کرسیاں صاف پڑی تھیں۔
رضیہ اماں کے کمرے کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ اسی دوران پڑوس سے ایک بچی گھر میں داخل ہوئی اور اماں سے آ کر بولی، "بی اماں آپ کے لیے شام کو سبزی بنائی ہے۔ میں شام کو کھانا لیتی آؤں گی، آپ تکلیف نہ کیجئے گا۔"
وہ بچی پیغام دے کر واپس چلی گئی تو رضیہ نے اماں سے پوچھا، "اماں کیا روز کھانا پڑوس سے آتا ہے؟" اماں نے سر پر چادر جوڑتے ہوئے کہا، "بس بیٹی کبھی کبھار پڑوس سے کھانا آ جاتا ہے تو مجھے کھانا نہیں بنانا پڑتا ورنہ تو مجھے خود ہی سب کام کرنا پڑتا ہے۔"
اماں یہ باتیں کر کے کافی وقت کے لیے خاموش ہو گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے اس کے اندر سے کوئی طوفان اٹھ رہا ہے۔ لیکن وہ اس طوفان کو روکے بیٹھی ہے۔ شاید وہ نہیں چاہتی تھی کہ اپنے بیٹوں کے بارے میں کچھ ایسا ویسا کہہ دے جس سے ان کی عزت پر حرف آئے۔ اس بوڑھی اماں کی تنہائی دیکھ کر رضیہ کو رہ رہ کا خیال آ رہا تھا کہ کیسے اس نے اپنے بیٹوں کی کامیابی کے لیے دن رات دعائیں مانگی ہوں گی۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جب وہ کامیابی کے زینے چڑھیں گے تو اپنی اس بوڑھی ماں کو تنہا چھوڑ جائیں گے۔
بیٹوں نے شاید خود غرضی کی انتہا کر ڈالی تھی۔ لیکن ماں تھی کہ ابھی بھی بیٹوں کے لیے دعا کا دامن پھیلائے بیٹھی تھی۔ دنیا کی تیز رفتاری میں رشتوں کے بندھن ٹوٹتے نظر آ رہے تھے۔ ترقی کی دوڑ نے خاندانی بندھن کو توڑ کے رکھ دیا تھا اور یوں آشیانے بکھرے تھے کہ اب تنکا تنکا ہو کر پڑے تھے۔
رضیہ نے ڈھلتی شام کو دیکھا تو وہ جانے کے لیے اٹھی تو اماں کا چہرہ بجھ سا گیا۔ جیسے اس کے اندر سے آواز آ رہی ہو کہ بیٹی ابھی تو بیٹھو ابھی تو دل کا بوجھ ہلکا بھی نہیں ہوا تھا کہ تم اٹھ کر جانے لگی ہو۔ رضیہ دروازے کی طرف بڑھی تو اماں اس کے پیچھے بوجھل قدموں سے دھیرے دھیرے چلی آ رہی تھی۔ اماں کے لبوں سے الوداع کے الفاظ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے دروازے تک آئی۔ رضیہ نے اماں سے ہاتھ ملایا اور خدا حافظ کہہ کر چل پڑی۔ رضیہ نے گلے میں اگے جا کر مڑ کر جو دیکھا تو اماں ابھی تک دروازے سے لگی رضیہ کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہ کہہ رہی ہوں کہ بیٹی کبھی کبھار چکر لگا جایا کرو، یوں کچھ تنہائی تو کم ہو۔ رضیہ جی کڑا کر کے گھر کو لوٹ ائی۔
