ہر ایک شاید وہیں اٹکا تھا۔جہاں میں تھی۔مجھے بہت جلد ان سے ملنا ہے۔ میں نے طے کر لیا تھا۔میری شادی ایک متوسط گھرانے میں ہوئی تھی۔جہاں چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو بھی دبانا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی اپنا بھرم رکھنے کے لئے بھی بہت سے پاپڑ بیلنا ہوتے ہیں۔ازدواجی زندگی کا کچھ حصہ شوہر سے جھگڑنے اور چڑچڑا ہٹ میں گزرا۔آخر فیصلہ کیا مجھے اس جہنم میں نہیں رہنا۔تین سال میں ہی میری بس ہوگئی اور میں امی کے گھر آ گئی۔انھوں نے بھی پلٹ کر نہ پوچھا۔آپ میرے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔کل کلاں بچے ہوں گے تو زندگی مزید دشوار ہوگی۔یہ وجہ کہہ کر خود کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ بھی کہا تھا یہاں رہی تو روٹی کپڑے کے چکر میں ہی ماری جاؤں گی۔وہ خیال رکھتا تھا۔ احساس کرتا تھا۔ محبت کرتا تھا۔حتیٰ المقدور محنت بھی کرتا تھا۔ میرا نظریہ تھا محبت پیٹ نہیں بھرتی۔ تمھارے اندر آگے بڑھنے کا بھی ملکہ نہیںکہ حا لات بدلنے کی امید پر ساتھ بندھی رہوں۔ میں اکثر لڑکیوں کو سمجھایا کرتی۔شادی اس سے کرنا جو تمھاری ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہو۔
ایکسپو سینٹر میں کتب میلہ تھا عارفہ بجیا سے ملاقات وہیں ہوئی تھی۔ وہ بچوں کو مختلف سرگرمیاں کروا رہی تھیں۔ ایک ہی ملاقات میں احترام اور محبت کا ایسا رشتہ بندھا کہ پھر جڑ کر رہ گئے۔پھر ہم نے طے کیا بچوں کی تربیت کیلئے اداروں میں کام کریں گے۔ وہ بہت ہی خوش ہوئیں۔ہم نے اس حوالے سے کتب اکٹھی کیں۔ ورکشاپس بنائیں۔ پہلے مرحلے پر ہمیں بچوں میں رشتوں کی اہمیت کو ابھارنا تھا۔بتانا تھا کہ زندگی میں رشتوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔کوء مادی چیز رشتوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔یہ سب سے بڑی دولت ہے۔انھیں آپس میں رشتوں کی مضبوطی کے طریقے بتانے تھے۔میرے اندر شاید چور تھا۔لہذا ورکشاپ کروا نے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔پہلا لیکچر بجیا کا طے ہو ا۔شاندار لیکچر تھا۔میری آنکھیں کھل گئی تھیں۔ آخر میں دعا ہوئی۔بچوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔پھر ہم نے کئی پروگرام کیے?۔اسکولوں میں کالجز میں۔ وہ ساحرانہ انداز بیاں کی مالک تھیں۔مجھے ان پر رشک آتا۔ ورکشاپ کے لمحے گھنٹوں حصار میں قید رکھتے۔اور اندر طوفاں بپا کرتے۔مگر جلد ہی خود پر قابو پا لیتی۔ میں نے بہت سے لیکچر اٹینڈ کیےتھے۔ یہ ان چند لوگوں میں سے ایک تھیں۔جن میں کچھ الگ ہی بات تھی۔میری رہائش ایک پوش علاقے میں تھی۔ سب کے لئے وہاں آنا آسان تھا۔لہذا میرا گھر جا?ئےملاقات قرار پایا۔ایک ہفتے سے ان کی طبیعت ناساز تھی۔وہ نہیں آ پارہی تھیں۔لہذا ہم نے عیادت کا سوچا نیز یہ کہ اچانک پہنچ کر خوش کر دیں گی۔ہم تین دوستیں تھیں۔میرے ذہن میں سوالات کا طوفان سا اٹھا۔کیوں اور کیسے کے کئی سوالات تھے۔
دوسرے دن ملاقات کا بلاوا ان کی طرف سے آیا۔ ہم جیسے منتظر بیٹھے تھے۔آج ہم جیسے کچھ انوکھا سیکھنے جا رہے ہوں۔ ہمارے لئے انھوں نے خاص طور پرمکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ بنایا تھا۔کہنے لگیں ملتان سے آیا ہے۔ہم سراپا گوش انھیں ہی سن رہے تھے۔متجسس تھے۔وہ بات آگے بڑھائیں۔ وہ دھیمی سی ہنسی ہنسیں اور کہا۔مجھے معلوم ہےتمھارے ذہن میں کیا سوالات ہیں۔ تمھارا اندازہ تھا کہ مادی لحاظ سے خوشحال خاتون ہوں مگر گھر آنے پر تمھیں الٹ ملا۔ اب تم سوچ رہی ہو کہ ایسے گھر میں اتنا سوچنے، بامقصد کچھ کرنے کی فرصت ہی کہاں ملتی ہوگی کہ ایسے میں دو وقت کی روٹی کا چکر ہی ختم نہیں ہوتا۔وہ سو فیصد سچ کہہ رہی تھیں۔اسی چیز نے تو بے چین کر دیا تھا۔ کہنے لگیںمیری شادی ہوئی تو ابا سے ناراض تھی۔آخر کیا دیکھ کر شادی کی۔اپنا گھر تک تو ان کے پاس ہے نہیں۔ابتدائی سال اسی کڑھن میں ضائع چلے گئے۔ کچھ شوہر کی بھی غیر ذمہ داری کہ پھر میں میکے جا بیٹھی۔اس وقت دو بچے ہوچکے تھے۔جب میکے گئی۔ والد صاحب اچانک بیمار ہوئےاور بستر سے جا لگے۔میں سب کچھ بھول بھال کر ان کی خدمت میں جت گئی۔ کچھ ہی عرصے میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ پوری رات سو نہ پاتے۔ لمحے بھر کو نیند نہ آتی اور پھر تکلیف الگ۔کوشش کرتے کہ انکی آواز نہ نکلے۔میرا خیال کرتے کہ میں اٹھ نہ جاؤں۔میں ان کے کمرے میں ہی سونے لگی تھی کہ انھیں رات بھر ضرور ت ہوتی تھی۔ان کی ذرا سی آہٹ بھی مجھے تڑپا دیتی۔ان کی حالت غیر سے غیر ہوتی چلی گئی۔ایسی ہی کئی راتوں میں میں نے انھیں اپنے لئے دعا کرتے پایا۔میں تو انھیں بتا ہی چکی تھی کہ اب مجھے واپس نہیں جانا۔ان کی کمر مسلتے، بالوں میں ہاتھ پھیرتے،تلوے دباتے یہ کہتے سنا میرے رب میں نے اس کے تمام معاملات تجھے سونپے۔وہ میرا گھر بستے دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی قبولیت میں کچھ وقت تھا۔
انھی دنوں فہم دین کورس میں داخلہ لیا۔یہ شاید آغاز تھا۔ پھر تو جیسے راہ مل گئی۔ بہت سے علماء کو سنا اور مقصد زندگی سمجھ آیا۔ایک دن عجیب سوال ذہن میں آیا۔ہم اس وقت نماز کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔مولانا صاحب نے کہا۔ نماز کسی صورت نہیں چھوڑی جا سکتی۔اول کھڑے ہو کر پڑھیں اور اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر۔ اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھیں اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اشاروں سے نماز پڑھیں۔
میرا سوال تھا اللہ رب العزت کو ایسی کیا حاجت کہ وہ ہر صورت میں بندے کو نماز کا پابند کر رہیں؟ مولانا صاحب کا جواب ایک الگ ہی زاویہ سے تھا۔کہنے لگے میری بیٹی اللہ ربی نے اس سے ہمیں سکھایا ہے کہ تعلق کا جڑا رہنا کتنا اہم ہے۔اللہ ربی کسی بھی حالت میں بندے سے تعلق کی ڈوری توڑنا نہیں چاہتے۔چاہے تعلق کتنے بھی کم تر درجے کا کیوں نہ ہو۔ یہ حکم ہمیں بھی بتاتا ہے کہ ہم بھی اپنے تعلقات آخری حد تک جوڑنے والے ہوں۔ کمزور تعلق اللہ کی رحمت سے مضبوط ہو ہی جاتے ہیں۔ ٹوٹے تعلق نہیں جڑتے۔کبھی جڑنے کی صورت نکل بھی آئے تو مزا کھو دیتے ہیں۔یہ لمحہ میری زندگی میں انقلاب کا تھا۔میں نے شوہر کو فون کیا۔وہ دوڑے چلے آئے۔ پھر طے کیا ایک دوسرے کو سکھ دینے کی مقدور بھر کوشش کریں گے۔ جو استطاعت سے زائد ہو تقاضا نہیں کریں گے۔ دعا اور دوا کرنے کی برابر کوشش کریں گے۔اب اللہ کا کرم ہے ہمارا تعلق مثالی ہے۔ ہماری سفید پوشی نے بچوں کو ذمہ دار اور خود دار بنا دیا ہے۔ دولت نہ سہی اور بے بہا نعمتیں ہیں۔عزت ہے۔ انکھوں کو ٹھنڈا کر نے والی اولاد ہے۔خوشیاں کشید کرنے کا سلیقہ ہے۔کچھ پس انداز کرکے پلاٹ کافی عرصہ پہلے لیا تھا۔اللہ نے چاہا تو بہت جلد وہ گھر بھی دے دے گا۔ زندگی کا مقصد مل گیا ہے یہ رب کی سب سے بڑی عطا ہے۔ اس نے فکری لحاظ سے بے پایاں دولت دی ہے۔اپنے بندوں کی خدمت لے رہا ہے۔میرا گمان حقیقت تھا۔بہت کچھ بدلنے کا سامان جو ہوا تھا۔ اب مجھے گھر جانے کی جلدی تھی۔کئی کام جو سر پر تھے۔سرتاج کے لئے خود کو سنوارنا بھی تھا اور ہاں پہلے اسے فون کرنا تھا۔
