درجہ دوم کا شہری( افسانہ)۔۔۔۔۔لہر نیازی

"دیکھو! ہر مہمان کی عزت نفس کا خیال رکھنا ہے اور اسے مکمل پروٹوکول دینا ہے۔ سمجھ گئے نا۔"
عزیز جمیل نے تمام ملازمین کو ہدایات جاری کرتے ہوئے تحکمانہ انداز میں کہا اور سامنے سے آنے والے مہمانوں کی طرف بڑھ گیا۔
سارے بنگلے کو قمقموں اور جھنڈیوں سے سجا دیا گیا تھا۔ اور صحن میں ہر طرف خوشبو کے فوارے لگا دیے گئے تھے۔ جو خوشبو بکھیر رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ بہت بڑے شاہی محل کا احاطہ ہو۔
زرق برق میں ملبوس مہمان ٹولیوں میں بٹ گئے تھے۔ ہر مہمان حسب مراتب اپنی تعلیم میں کھنچا چلا گیا۔ ہر مہمان پہلے مہمان سے بڑھ کر تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے تکبر اور غرور کا بھی مقابلہ جاری تھا۔
 ہر مہمان اپنی کسی بڑی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے عہدے کی وجہ سے عزت سے نوازا جا رہا تھا۔ یہاں پر انسانیت کی بجائے عہدوں کو وقار حاصل تھا۔
ایسے موقعوں پر جس ہستی کو عزت اور وقار بخشنا چاہیے تھا وہ کسی تنہا کوٹھڑی میں پڑا تھا۔ اس محل کو تعمیر کرنے والا شخص کباڑ کی طرح ایک کونے میں رکھ کر بھلا دیا گیا تھا۔
 اج اس سلطنت میں کوئی اور براجمان تھا۔ اسی کے محل میں بیٹا اپنے مہمانوں کے استقبال میں مصروف تھا۔
ملازموں کو بھی آج ذرا بھی فرصت نہیں ملی تھی۔ وہ صبح پانی کا جگ رکھ کر گئے اور مڑ کر نہ دیکھا تھا۔
بنگلے کے پچھواڑے ملازموں کے پرانے کوارٹر میں امیر خان تنہائی میں پڑا تھا۔ اسے آج ذرا سی آہٹ بھی کافی بلند لگ رہی تھی۔ اسی کی دہائی میں انسان کے اعضاء عموماً طاقت کھو دیتے ہیں مگر اس عالم تنہائی میں امیر خان کئی نئے تجربات سے گزر رہا تھا۔
 بڑے شہر میں نیا کاروبار کھولنے کی خوشی میں بیٹا جشن منا رہا تھا۔ شہر کے مشہور کاروباری حضرات نے آنا تھا۔ اس لیے بیٹے نے بوڑھے باپ کو مہمانوں کی نظروں سے اوجھل کردیا تھا، شاید بوڑھے باپ کی موجودگی اس کے نفیس مہمانوں کو گراں گزر سکتی تھی۔
آج وہ باپ جو اپنے بیٹے پر کبھی فخر کیا کرتا تھا وہی باپ اپنے بیٹے کے لیے وجہ شرمندگی سمجھ لیا گیا تھا۔
ملازموں کے کمرے میں پڑا ہوا یہ عمر رسیدہ شخص صرف باہر سے آنے والی کبھی کبھار کی آواز سن کر مہمان کی حیثیت کا اندازہ لگا رہا تھا۔ سرونٹ کوارٹر کا جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا پلستر اس کے اندر کی شکست و ریخت کا استعارہ تھا۔  
کمرے کے پیلے بلب کی زرد روشنی میں اس کے چہرے کا رنگ بھی زردی پڑ چکا تھا۔ کمرے میں روشندان نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ کمرے کے ہر کونے میں چھت پر لٹکے ہوئے مکڑی کے جالے انسان کی زندگی میں پیدا ہونے والی الجھنوں کی تشریح کرنے کے لیے کافی تھے۔ 
اسی لمحے سرونٹ کوارٹر کے قریب آ کر اپنے موبائل فون پر بات کرتے ہوئے قہقہے لگاتا ایک شخص سنائی دیا۔
امیر خان نے کمرے کے اندر سے اس شخص کی کیفیت کو محسوس کرنے لگا۔ "تو جو کوئی بھی ہے تیرے قہقہے میں احساس محرومی چھلک رہا ہے۔ اے نادان تجھے حقیقت کی کچھ خبر نہیں۔ تیرے قہقہے بے روح ہیں۔ تو تھوتھا چنا باجے گنا ہے۔"
 اس تنہائی کے عالم میں امیر خان کے اعصاب حد سے زیادہ بہتر کام کرنے لگے تھے۔
 آج اسے وہ کچھ سمجھ آ رہا تھا جو ادھر ادھر چلتے پھرتے صحت کے عالم میں اسے کبھی بھی سمجھ نہ آیا تھا۔
 تنہائی کے اس عالم میں اس پر راز زندگی عیاں ہو چلے تھے۔ "شاید بیٹے کی تربیت میں کہیں کمی رہ گئی تھی ورنہ میرا لختِ جگر ایسا تو نہ تھا۔" امیر خان کو اپنے بیٹے کا جب بھی خیال آنے لگتا تو وہ خود کلامی کرنے لگتا۔ آج اس تنہا کوٹھڑی میں اس نے کئی بار خود کلامی کہ تھی۔ یوں دل کا بوجھ ہلکا کیا تھا۔
 اس بوسیدہ کمرے میں پڑی پرانی چارپائی کی رسیاں اس کے بوڑھے بدن پر زمانے کے نقش کنندہ کر چکی تھیں۔ اسے اپنی مرحومہ شریک حیات کا بھی رہ رہ کر خیال آ رہا تھا۔ بیٹی بھی دیار غیر کو سدھار چکی تھی۔ شاید آج بیٹی قریب ہوتی تو اس سے کئی بار خیریت دریافت کر چکی ہوتی۔ بیوی مرحومہ تو اور بھی اس پر فدا تھی۔ اسے اس حال میں کب رہنے دیتی۔ امیر خان انہی سوچوں میں گم تھا کہ مغرب کی اذان اس کے کانوں میں پڑی تو وہ نیت کرکے اشاروں سے نماز پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !