کیف عرفانی کی محبت ساتھ رکھتا ہوں ۔۔ افضل گوہر راؤ

اردو اور پنجابی شاعری کی روایت میں بعض ایسے شعرا بھی گزرے ہیں جنہوں نے خاموشی سے اپنے فن، فکر اور روحانی وابستگی کے ذریعے ادب کے دامن کو وسعت عطا کی۔ کیف عرفانی بھی انہی کہنہ مشق شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے حمد، نعت، غزل اور پنجابی نظم کے میدان میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ آپ کا تعلق پھالیہ، ضلع گجرات (موجودہ منڈی بہاؤالدین) سے تھا، جہاں کی تہذیبی اور روحانی فضا نے آپ کی شخصیت اور شاعری کو گہرے اثرات سے ہمکنار کیا۔ بنیادی طور پر آپ پیشۂ تدریس سے وابستہ تھے، اسی لیے آپ کی شاعری میں فکری پختگی، اخلاقی شعور اور تربیتی پہلو نمایاں طور پر جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں۔
کیف عرفانی کا قلمی نام ہی ان کی فکری اور روحانی جہت کی نمائندگی کرتا ہے۔ “کیف” سرور و وارفتگی کی علامت ہے، جب کہ “عرفانی” تصوف، معرفت اور روحانی آگہی کا استعارہ بن کر سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں محبت، انسان دوستی، روحانی وابستگی اور عقیدت کے رنگ بڑی شدت کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔ اردو غزل میں انہوں نے کلاسیکی روایت کو جدید احساسات کے ساتھ ہم آہنگ کیا، جب کہ پنجابی شاعری میں عوامی جذبات، تہذیبی شعور اور دیہی زندگی کی سادگی کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کی معروف پنجابی نظم “میری دھی ” عوامی سطح پر بے حد مقبول ہوئی، جس میں مشرقی معاشرت، بیٹی کی عظمت اور جذباتی وابستگی کو دل آویز پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔
کیف عرفانی کی نعتیہ شاعری ان کے قلبی عشقِ رسول ﷺ کی آئینہ دار ہے۔ ان کے نعتیہ اشعار میں عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ سادگی، سوز اور روحانی وارفتگی بھی پائی جاتی ہے۔ وہ مدحتِ رسول ﷺ کو محض شعری اظہار نہیں بلکہ روحانی سعادت تصور کرتے تھے۔ ان کے مجموعۂ کلام “محبت ساتھ رکھتا ہوں” میں اردو غزلیات اور پنجابی کلام دونوں شامل ہیں، جو ان کی فنی وسعت اور لسانی مہارت کا ثبوت ہیں۔ زیرِ مطالعہ شعری مجموعے " محبت ساتھ رکھتا ہوں " سے شعری انتخاب پیش_ خدمت ہے 
نعت رنگ:
تیری مدحت سے میری فکر جلا پاتی ہے
کیوں نہ میں تجھ کو بصیرت کا اجالا لکھوں
غزلیہ آہنگ:-
منافق لوگ مجھ سے اس لیے ناراض رہتے ہیں
میں کذابوں کی محفل میں صداقت ساتھ رکھتا ہوں

مرض میں وہ اضافہ کر گئے ہیں
ہمیں جن سے توقع تھی شفا کی

سر جھکانا میرا جن کو مقصود تھا
میرے سر کو وہی اب اٹھا کر چلے

گاؤں میں تھیں جو سیمیں بدن لڑکیاں
ان کے چہرے کا رنگ حیا یاد ہے

میں فدا کرتا ہوں جس پر جان بھی ایمان بھی
اُس تغافل کیش کو میری نہیں پہچان بھی

دیکھ کر طرزّ عمل اس دّور کے انسان کا
منہ چھاتے پھر رہے ہیں شرم ڈے حیوان بھی

وہ پرندے اُڑا نہیں کرتے
کاٹ دیتے ہیں جن کے پر بابا

شور پنچھی یونہی نہیں کرتے
کٹ گیا ہے کوئی شجر بابا

بے فیض بڑھاپا غالب ہے فٹ پاتھ پہ بیٹھا رہتا ہوں
کہتا ہوں گزرنے والے سے تھوڑی سی جوانی دیتا جا

وہ حسنِ دلربا ہے اور میں ہوں
نگارِ خوش قبا ہے اور میں ہوں
یہ عہدِ کربلا ہے اور میں ہوں
ستم کی انتہا ہے اور میں ہوں

جہاں میں پیار کی جب سے گرانی ہوگئی ہے
بہت مشکل بشر کی زندگانی ہو گئی ہے

کیف عرفانی کی شاعری اپنے عہد کے سماجی، معاشرتی اور انسانی مسائل سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ انہوں نے غمِ جاناں اور غمِ دوراں دونوں کو اس فنی مہارت اور سچے احساس کے ساتھ اپنی شاعری کا حصہ بنایا کہ ان کا کلام محض ایک مخصوص دور کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ ہر زمانے کے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں زندگی کے دکھ، انسان کی داخلی کشمکش، معاشرتی ناہمواریاں اور محبت کے لطیف جذبات اس انداز سے جلوہ گر ہوتے ہیں کہ قاری خود کو ان کی فکر کے بہت قریب محسوس کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کیف عرفانی کی شاعری آج بھی عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے اشعار کے وسیلے سے آج کے انسان سے براہِ راست مکالمہ کر رہے ہوں
بیدل حیدری نے آپ کی شاعری کو یوں سند عطا کی ہے جو ایک اعزاز سے کم نہیں ۔
" کیف عرفانی کی تقریبا سبھی غزلوں کو میں نے بغور پڑھا ہے ان کی غزل میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کا یہ عہد متقاضی ہے روایات میں جدت طرازی، فکر میں بلندی، شعور میں پختگی، اسلوب میں اچھوتا پن اور لہجے میں کاٹ موجود ہے۔ غم دوراں اور غم جاناں کا امتزاج اتنا حسین ہے کہ بعض شعروں کو بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے اور یہی ان کے کلام کی اصل خوبی ہے۔"
 بیدل حیدری کی تعریفی کلمات کے بعد مزید کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔۔ بس اتنا کہوں گا کہ کیف عرفانی آج بھی اپنی شاعری کے ذریعے ادب میں زندہ ہے
آخر میں خوب صورت شخصیت عزیزم محسن رضا کا شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے یہ عمدہ کتاب عنایت کی

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !