"تن گندہ ہو تو کوئی بات نہیں من گندہ نہ ہو۔"
رشید نے پانی کا گلاس بھر کر ساتھی مزدور کو دیتے ہوئے کہا تو وہ بولا، "واقعی استاد سفید اور اجلے کپڑے پہن لینے سے اندر کا گٹھیا انسان چھپ تو جاتا ہے پر بدلتا کبھی نہیں، اس سیٹھ ہی کو دیکھ لو " ابھی دونوں آپس میں باتیں کر ہی رہے تھے کہ سیٹھ نے اے سی والے کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر بولا، "میں نے آپ لوگوں کو گپ شپ کے لیے دعوت نہیں دی۔ تم یہاں کام کرنے آئے ہو۔ جلدی ہاتھ چلاؤ۔"
سیٹھ کی جھڑکی سن کر پانی کا جگ پودے کی چھاؤں میں رکھتے ہوئے سر جھکائے کام میں مصروف ہو گئے۔ دوپہر کی تپتی دھوپ میں دونوں کا حشر نشر ہو رہا تھا۔ گرمی کی شدت سے دونوں کے لیے کھدائی کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ گزشتہ چار گھنٹوں سے کام میں مصروف تھے۔ ڈر تھا کہ سیٹھ انہیں بغیر اجرت کے ہی نہ لوٹا دے۔ ساتھی مزدور دھوپ کی شدت سے نڈھال تھا۔ اس نے دبے لہجے میں کہا، "اس کے اجلے کپڑے دیکھو اور اس کے اندر کا میل دیکھو۔ انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتا۔ جانے خود کو کیا سمجھتا ہے۔ کتنے فرعون آئے اور کتنے فرعون اس دنیا سے چلے گئے۔ یہ دنیا تو جوں کی توں قائم ہے۔" ساتھی مزدور کی بات سن کر رشید نے کہا،
"جلدی کرو, وقت پر گٹر کو صاف کرلیں، ورنہ سیٹھ مزدوری نہیں دے گا۔"
مزدور ساتھی پرانی سرخ رنگ کی اجرک سے چہرہ خشک کرتے ہوئے کدال چلانے لگ گیا۔
بنگلہ کے پچھواڑے اس صحن میں درخت کانٹ چھانٹ کی وجہ سے اتنے سایہ دار نہیں رہے تھے۔ صحن میں جگہ گھاس خشک ہوئی پڑی تھی۔
رشید جلدی جلدی کام ختم کرکے یہاں سے جانا چاہتا تھا۔ دونوں سیٹھ کے ہاں مزدوری پر آ کر پچھتا رہے تھے۔ دونوں کا جی تنگ ہو رہا تھا۔
ساتھی مزدور کا جی چاہ رہا تھا کہ کام کو یہیں چھوڑ کر بھاگ جائے۔ "بھاڑ میں جائے اس سیٹھ کی مزدوری۔"ساتھی مزدور نے تنگ آکر کدال پھینک دی۔ اور بڑ بڑانے لگ گیا۔ رشید نے جلدی سے اس کی کدال اٹھائی اور ساتھی مزدور کو تھماتے ہوئے بولا، " یہاں سے نکل بھاگنے کو میرا بھی جی کر رہا ہے لیکن پھر خیال آتا ہے کہ بچے انتظار میں ہوں گے کہ ابو کچھ لائے گا تو گھر میں کچھ اچھا پکے گا۔" دونوں اپنے بچوں کا سوچ کر خاموشی سے پرانا گٹر صاف کرنے لگے۔ یہ گٹر عرصہ دراز سے خشک پڑا تھا۔ گٹر کی صفائی کے دوران کیڑے مکوڑے جگہ جگہ سے نکل رہے تھے۔ دونوں مزدور کالے لمبے بوٹ پہنے مٹی باہر کو پھینکتے جارہے تھے۔ گرمی کی شدت سے ہانپتے ہوئے کچھ لمحے رکتے، رومال سے چہرہ صاف کرنے کے بعد پاس پڑے جگ سے پانی پی کر پھر کام پر لگ جاتے۔
جب سے گٹر صاف کرنے کے لیے رشید اس بنگلے پر آیا تھا اس کو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ایسے شخص کی ملکیت ہے جو خود کو فرعون سے بھی کوئی بڑی چیز سمجھتا ہے۔ لیکن پھر بھی مجبوری تھی کام جو کرنا تھا نہ کی اور نخرہ کی۔رشید نے ایک دفعہ پانی مانگا تو صاحب نے غصے سے گھور کر دیکھا اور تھوڑی دیر کے بعد ایک کٹورے میں پانی بھجوا دیا۔
ساتھی مزدور نے پانی کے برتن کو غور سے دیکھا اور ناک کے قریب لے جا کر بو محسوس کرتے ہوئے بولا، "یہ کٹورا کسی پالتو جانور کے لیے استعمال ہوتا ہوگا۔ اس سے گھن آ رہی ہے۔ یہ، یہ پھپھوندی اس برتن کے کناروں پر جمی ہوئی ہے۔ یہ دیکھو۔۔۔۔ "
رشید نے کٹورا ہاتھ میں لیا اور غور سے دیکھنے لگا۔ بس محسوس کی اور اس کٹورے کو ایک طرف کو رکھا اور بولا، "ایسے تنگ نظر لوگ انسانیت کی تذلیل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ آؤ اس نل سے پانی پی لیں۔" ساتھی مزدور نے نل کی طرف دیکھا۔ نل پر بیٹھا کوا اپنی چونچ میں خشک روٹی کا ٹکڑا نل کے منہ پر رکھے پانی سے تر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ رشید نل کی طرف بڑھا تو کوا روٹی کا ٹکڑا لے کر اڑ گیا۔
رشید نے نل سے کچھ پانی بہنے دیا اور جب پانی کچھ ٹھنڈا نکل آیا تو دونوں ہتھیلیاں جوڑ کر پانی پینے لگ گیا۔ اسی لمحے سیٹھ کا ملازم ان کی طرف بڑھا اور کام جلدی ختم کرنے کو کہا۔ دونوں مزدور جلدی جلدی بیلچہ اور کدال چلانے لگے۔ عصر تک دس فٹ گہرا گٹر صاف کر لیا۔
دونوں نے نل سے ہاتھ منہ دھویا۔ وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اجرت ملنے کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ دو بار ملازم کو پیغام بھجوایا۔ کافی دیر بعد سیٹھ نے اندر بلوایا اور غصہ کرتے ہوئے بولا، "گھنٹے بھر کا کام تھا، چار گھنٹے لگا دیئے اور اب چند لمحے انتظار نہیں ہوسکتا تھا۔"
سیٹھ بولے جا رہا تھا اور دونوں مزدور خاموشی سے سیٹھ کے بٹوے کو دیکھے جا رہے تھے۔ کافی باتیں سننے کے بعد دونوں کو اجرت ملی اور بجلی کی سی تیزی سے وہ اس گھٹن سے نکل آئے۔
