چاند مبارک (افسانہ)۔۔۔۔ زوبیہ حسیب


لیلٰی آپا اس وقت اپنے دو کمروں والے گھر کے آنگن میں بیٹھی سبزی بنا رہی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
“ارے اقرا! کہاں ہو؟ دروازے پر دستک ہو رہی ہے۔”
“جی، آ رہی ہوں امی!”
اقرا کمرے سے نکلی۔ لکڑی کا دو پٹ والا دروازہ کھولا تو سامنے حامد کو پایا۔
“امی! حامد آیا ہے۔” اس نے پلٹتے ہوئے اطلاع دی۔
“السلام علیکم آپا! کیسی ہیں؟”
اس نے دروازہ بند کیا۔
“میرے لال، مجھے کیا ہونا ہے؟ بوڑھی جان ہوں، دن گن رہی ہوں۔”
“آپا، وہ آج کچھ مہمان آ رہے ہیں تو اماں اقرا کو بلا رہی ہیں۔”
اس نے اجازت لیتے ہوئے اطلاع دی۔
“اللہ خیر کرے بیٹا…”
لیلٰی آپا مہمانوں کو پہچان گئی تھیں۔
“ارے اقرا! جلدی سے چادر اوڑھ لے، حامد کے ساتھ جانا ہے۔”
آپا نے صدا لگائی۔
πππ
“وعدہ رہا، جب میری بیوی آ جائے گی تو اماں کے بعد اسے تمہارا پابند کروں گا۔”
وہ اس وقت چائے کے برتن سمیٹ رہی تھی۔
“تمہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں خود کر لوں گی یہ کام۔ اور جب تک میں ہاں نہ کروں، کسی کی کیا مجال کہ تمہاری بیوی بنے!”
وہ اترائی۔
“ابو آنے والے ہیں، میں چلتی ہوں۔”
وہ باہر نکل گئی۔
“میں چھوڑ دیتا ہوں۔”
وہ اس کے پیچھے آیا۔
“نہیں، تم دروازہ بند کر لو۔”
وہ باہر نکل گئی۔
الیاس میاں حافظ صاحب کے پڑوسی تھے۔ حامد اور اقرا بچپن کے دوست تھے۔ دونوں قابل اور ذہین تھے۔
πππ
وہ اس وقت اقرا کے سامنے تھا۔
“کیسا لگ رہا ہوں میں؟”
سفید رنگ کی قمیض شلوار کے نیچے سادہ کھسہ اس پر بہت اچھا لگ رہا تھا۔
“ماشاءاللہ! آج تو بات پکی سمجھو۔”
اس نے لاڈ سے نظر اتاری۔
اصل مسئلہ گھر تھا۔ ہر آنے والا رشتہ الگ گھر کی فرمائش کر کے نکل جاتا، جس کے لیے حامد راضی نہ تھا۔ اسی بات پر حافظ بیگم خوش تھیں۔
“لیلٰی، میں تو تنگ آ گئی ہوں ان رشتوں سے۔ سب نے وہی مرغی کی ایک ٹانگ پکڑ رکھی ہے۔”
“ارے بہن! اللہ شرم رکھنے والا ہے، وہ سب کر دے گا۔ ہماری لاڈلی کہاں ہے؟ ملنے کو بھی نہ آئی آج۔”
“ہاں، اس کے سر میں ذرا درد ہے۔”
لیلٰی آپا سوگوار ہوئیں۔
“رک تو ذرا، خود دیکھتی ہوں بچی کو۔”
حافظ بیگم اندر آ گئیں۔
“ہائے ہائے! لڑکی تو بخار میں پک رہی ہے۔”
انہوں نے ماتھے پر ہتھیلی رکھی۔
“میں ابھی حامد کو بھیجتی ہوں، وہ ڈاکٹر کو لے آئے گا۔”
حافظ بیگم دہلیز پار کر گئیں۔
πππ
“آپا! کیا ہوا ہے اقرا کو؟”
اس نے جھٹ سے دروازہ کھولا۔
“آئیں ڈاکٹر صاحبہ!”
ساتھ ہی اس نے اپنے پیچھے آتی خاتون کو اندر آنے کی اجازت دی۔
“روٹین کا بخار ہے۔ میں دوائیاں لکھ رہی ہوں، صبح شام استعمال کرنی ہیں۔”
خاتون نے اپنا قلم چلایا۔
“جی بہتر۔”
وہ اس کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“اقرا… اقرا آنکھیں کھولو۔”
حامد نے اسے پکارا۔
“پانی…”
اس کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی۔
حامد نے اسے سہارا دے کر پانی کا گلاس تھمایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ حامد نے گلاس پر ہاتھ رکھ دیا۔ لیلٰی آپا بھی قریب تھیں۔
یکایک وہ حامد کے بازو پر ڈھلک گئی۔
حامد نے سنبھال کر اس کا سر تکیے پر ٹکا دیا۔
بخار سے سرخ چہرہ آج کچھ اور ہی داستان سنا رہا تھا، جو سیدھی اس کے دل میں اتر رہی تھی۔
===
لیلٰی آپا اقرا کی صحت کے حوالے سے کافی پریشان تھیں۔
“کیسی تاروں جیسی چمک تھی میری اقرا کے چہرے پر، اب تو جیسے زرد پڑ گئی ہے۔”
لیلٰی آپا حافظ بیگم سے ہم کلام ہوئیں، جو اقرا کی عیادت کو آئی تھیں۔
حامد تو جیسے آٹھوں پہر اس کے پاس رہتا تھا۔ کل تو حد ہی ہو گئی۔ اقرا کا سر سہلاتے سہلاتے وہ صوفے پر ہی سو گیا تھا۔
وہ تو لیلٰی آپا نے فجر کی نماز کے بعد کمرے میں جھانکا تو دنگ رہ گئیں۔ گلابی رنگ کے کُرتے میں وہ مضطرب سا پڑا سو رہا تھا جبکہ اس کے بائیں ہاتھ کی انگلیاں اقرا کے سیاہ گھنے بالوں میں الجھی ہوئی تھیں۔
لیلٰی آپا نے اسے اٹھا کر اپنے گھر بھیجا اور خود اس کے سرہانے بیٹھ گئیں۔
وہ بھی اس کے ہوتے ہوئے خود کو کسی جنت میں محسوس کرتی تھی۔
πππ
“میں تو تھک گئی ہوں بہن!”
حافظ بیگم چارپائی پر بیٹھتے ہوئے گویا ہوئیں۔
“میں چاہتی ہوں کہ عید کا چاند نظر آنے سے پہلے اپنے حامد کی بات پکی ہو جائے تو اسی قربانی میں سے اپنے چاند کا ولیمہ کر دوں گی۔”
“ارے چاند تو نظر آنے ہی والا ہے، بس ڈیڑھ مہینہ ہے۔ ابھی تو شیرین عید گزری ہے۔”
لیلٰی آپا نے اطلاع دی۔
“امی…”
اندر سے اقرا کی آواز آئی۔
“امی! حامد کہاں ہے؟”
اسے نقاہت محسوس ہوئی۔
“چندا، وہ صبح ہی گھر گیا ہے۔ رات بھر تیرے پاس ہی تھا۔”
“واہ بھئی! کیا دوستی نبھائی ہے حامد نے!”
لیلٰی آپا نے تشکر بھری نظروں سے حافظ بیگم کی طرف دیکھا۔
اقرا کی صحت پہلے سے بہتر تھی۔
===
وہ اس وقت گھر کے ایک کونے میں رکھے پودوں کو پانی دے رہی تھی۔
حافظ بیگم نے پیار سے اس کی نظر اتاری۔
“اللہ سلامت رکھے دونوں کی دوستی کو۔”
“ہاں، حامد ہی کی بدولت یہ لڑکی صحت یاب ہوئی ہے۔”
لیلٰی آپا نے تائید کی۔
πππ
وہ سب اس وقت بریانی کے مزے لوٹ رہے تھے جن میں لیلٰی آپا، حامد اور اقرا شامل تھے۔
“اقرا! تم میری بیوی کو بھی بریانی بنانا سکھا دینا۔ اب اچھا تھوڑا لگے گا کہ میں اپنی خوبصورت بیوی کے ہوتے ہوئے تمہارے ہاتھ کی بریانی کھانے آؤں۔”
اقرا نے اسے تیکھی نظروں سے گھورا۔
“اچھا آپا، میں چلتا ہوں۔ لگتا ہے توپوں کا رخ میری طرف ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے کوئی گولا مجھ پر نازل ہو، نکل چلتا ہوں۔”
وہ دروازے کی طرف دوڑا۔
“کچھ چاہیے آپا؟ میں بازار جا رہا ہوں۔”
اس نے اقرا کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“ارے نہیں میرے لال، مجھ بوڑھی کو کیا چاہیے۔”
لیلٰی آپا نے جواب دیا۔
وہ بائیک پر بیٹھ کر نکل گیا۔
اقرا نے دونوں پٹ بند کر دیے۔
===
“امی…!”
اس کی آواز دہلا دینے والی تھی۔
“الٰہی خیر!”
لیلٰی بیگم تار پر لٹکی چادر کھینچتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑیں۔
“کیا ہوا میری بچی؟”
“امی… وہ… حامد!”
لیلٰی بیگم باہر نکل گئیں۔
گلی کے نکڑ پر سامنے سے آنے والی ایک بڑی گاڑی اس سے ٹکرا گئی تھی اور وہ آدھ موا سا سڑک پر پڑا تھا۔
کچھ ہی لمحوں میں الیاس میاں اور حافظ صاحب اسے ہسپتال لے گئے تھے۔
πππ
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔
“حافظ چچا…”
اسے جیسے یقین تھا۔
اگلے لمحے اس نے تشکر بھرا سانس خارج کیا۔
کمرے میں دوپٹہ اور چادر لا کر باہر نکل گئی۔
اچانک کچھ یاد آیا اور واپس اندر آ گئی۔
“امی! میں حامد کو دیکھنے جا رہی ہوں۔”
فکر میں جیسے وہ سچ ہی اگل گئی۔
جواب لیے بغیر ہی نکل گئی۔
===
“حامد…!”
اس نے جھٹ سے دروازہ دیوار سے پٹخا۔
حافظ بیگم نے دروازے کی طرف دیکھا۔
“آؤ، حامد تمہارا ہی پوچھ رہا تھا۔ میں نے کہا آتی ہی ہو گی۔ لو، تم بیٹھو، میں اس کے لیے کچھ لا کر آتی ہوں۔”
حافظ بیگم نے اس کا ماتھا دبایا۔
“کیسا ہو؟”
وہ اس کے قریب آئی۔
“دیکھ لو…”
اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔
وہ اس کی طرف لپکی۔
اس کے بازو اور پاؤں پر چوٹ آئی تھی۔ شاید سر پر بھی چوٹ تھی۔
اس نے ماتھے کی پٹی کا جائزہ لیا۔
“کچھ چاہیے؟”
“نہیں…”
حافظ بیگم کمرے میں آئیں۔
“لے میرا لال، ہلدی والا دودھ پی لے، ابھی راحت مل جائے گی۔”
اس نے لمحہ بھر کو مونڈی آنکھیں کھولیں۔
“دودھ لو حامد…”
اس نے دودھ کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
حامد نے بائیں ہاتھ کا سہارا دیتے ہوئے گلاس ہونٹوں سے لگا لیا۔
اس کے چہرے کی نقاہت نے اسے بے چین کیا۔
πππ
کیا ہوا تھا… بس بازو ہی تو ہلکا سا ٹوٹا تھا۔ چند ہفتوں کی پٹی تھی، لیکن اس کی تو جیسے سانس ہی ٹوٹنے کو تھی۔
لمحوں میں ہونے والی دعا دیر تک جاری رہتی۔
آنکھیں کچھ اور کہتیں، دل کچھ اور سنتا تھا۔
===
“شکریہ۔”
اس نے پانی کا گلاس تھمایا۔
“شکریہ کیسا؟ ایک احسان تم نے کیا، ایک میں نے کر دیا۔ بات ختم۔”
وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔
“خیر، احسان تو نہ وہ اترا ہے نہ یہ اترے گا۔”
وہ سیدھا ہوا۔
“مطلب…؟”
وہ چونکی۔
“سرپرائز!”
وہ ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے واش روم کی طرف چل دیا۔
“میں چھوڑ دوں؟”
اقرا نے سہارا دیا۔
“لے چلو مگر چھوڑنا نہیں۔”
اقرا نے اس کی طرف دیکھا۔
πππ
حامد کی پٹی اتر چکی تھی۔ اسی لیے حافظ بیگم نے میاں جی اور لیلٰی آپا کو کھانے پر بلایا تھا۔
فل بلیک ڈریس میں وہ سادہ سے بال بنائے پہلے سے زیادہ چمک رہی تھی۔
گلابی رنگ کے تھری پیس سوٹ میں وہ بھی جچ رہا تھا۔
“بس بھائی صاحب، آپ سے بات کرنے کو تکلیف دی آپ کو۔”
“ہائے ہائے! یہ کیا بات کی آپ نے بہن؟ تکلیف کیسی؟ ساتھ بسم اللہ۔”
لیلٰی آپا نے اپنائیت ظاہر کی۔
“اتنے سالوں کی دوستی ہے ہماری۔”
الیاس میاں نے حافظ صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بس اسی دوستی کو رشتے میں بدل دیں بھائی صاحب۔ اپنی اقرا کا ہاتھ میرے حامد کو دے دیں۔”
حافظ بیگم نے لاٹھی چارج کیا۔
لیلٰی آپا اور اقرا نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
===
وہ برتن اٹھا کر کچن میں آ گئی۔
“یہ کون سی نئی شرارت ہے؟”
اس نے قدموں کی آہٹ محسوس کی۔
“پہلے بھی میں نے کبھی تمہیں بتا کر شرارت نہیں کی۔”
اس نے ہمیشہ کی طرح جواب دیا۔
“تم نے تو بس ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔ بولو، اب بھی دو گی نا؟”
اس کی آنکھوں میں سوال تھا۔
وہ مسکرا دی۔
πππ
آج ذوالحج کا چاند نظر آنا تھا۔
سفید کرتے کے ساتھ سیاہ کھسے میں وہ آسمان پر چمکتا کوئی تارا لگ رہا تھا۔
سیاہ رنگ کے سادہ شرارے میں وہ بھی افق پر روشن چاند کی طرح دمک رہی تھی۔
چند لمحوں میں وہ “اقرا الیاس” سے “اقرا حامد” بن گئی تھی۔
“Let’s start buddy!”
حامد نے ہر بار کی طرح ہاتھ بڑھایا۔
“ہمم…”
وہ دونوں بچوں کی طرح چھت پر دوڑے۔
“چاند مبارک…”
“کون سا؟”
اقرا نے چاند ڈھونڈا۔
“محبت کا…”
وہ شرارت سے کہتا ہوا دور بھاگا۔
“تمہیں تو میں…!”
وہ بھی اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !