کہاں بولنا ہے ؟ ۔۔۔ نوازش علی ندیم

لاہوتی نے کائنات کے سب سے بڑے معلم پر درود بھیجا اور اس کے تلامذہ کے ذکر سے اپنی گفتگو آغاز کی وہ معلم جو تزکیہ اور تعلیم کے لئے ہی بھیجا گیا جس نے وحشی قبیلوں کو تہذیب سکھائی 
 یہ اس کی تربیت اور تہذیب نفس کا معجزہ تھا کہ اس کے تلامذہ میں ایک ایسی ہستی بھی شامل تھی جس نے کہا مجھ سے جو چاہو پوچھ لو کہ میں زمین سے زیادہ آسمان کے راستوں سے واقف ہوں ۔

اس خطیب کا ہر فرمان آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے 
 لیکن دو فرامین ایسے ہیں جو ہر اس انسان کے روزوشب کا وظیفہ ہونا چاہئیں جو یہ چاہتا ہے کہ اسے باوقار زندگی باشعور لمحے اور سربلند احساس دیا جائے ۔

 "جوں جوں عقل بڑھتی ہے گفتگو کم ہو جاتی ہے" ۔

"کلام کرو تاکہ پہچانے جاو"۔۔۔

ان دو اقوال کی حکمت اور باہمی مطابقت دیکھئیے 
انسان کے قول و فعل میں حکمت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ باتوں کو صرف ظاہری انداز سے نہیں بلکہ فکری گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرے۔ بظاہر یہ دو اقوال ایک دوسرے کے مخالف محسوس ہوتے ہیں:
عقل بڑھتی ہے تو گفتگو کم ہو جاتی ہے۔
کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ۔
لیکن غور کیا جائے تو دونوں اقوال ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ ایک انسان کی خاموشی کی حکمت بیان کرتا ہے، جبکہ دوسرا گفتگو کی صحت، معیار اور مقصدیت کو واضح کرتا ہے۔
ان دونوں اقوال کو سمجھنے کے لیے انسانی شخصیت، علم، شعور اور اظہار کے توازن کو سمجھنا ضروری ہے۔
عقل بڑھتی ہے تو گفتگو کم کیوں ہو جاتی ہے؟
عقل مند انسان کم بولتا ہے کیونکہ:
 وہ جانتا ہے کہ ہر بات کہنے کی نہیں ہوتی
عقل انسان کو یہ بصیرت دیتی ہے کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے۔
. وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے
کم گوئی کا مطلب گونگا پن نہیں بلکہ سوچ کر بولنا ہے۔
. وہ جانتا ہے کہ خاموشی بہتر ہے یا گفتگو؟
عقل مند آنکھ جھپکنے میں فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس وقت بولنا مفید ہے یا نقصان دہ۔
 اس کی گفتگو فضول نہیں ہوتی
کم گو انسان کی بات کم مگر معنی خیز ہوتی ہے۔
کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ 
اس کا مقصد کیا ہے؟
یہ قول انسان کو اظہار کی اہمیت بتاتا ہے:
. انسان اپنی گفتگو سے پہچانا جاتا ہے
خاموش رہنے سے شخصیت کا وقار تو بڑھتا ہے، لیکن مکمل شناخت گفتگو سے ہوتی ہے۔
. انسان کے علم، کردار اور نیت کا پتا اس کے کلام سے چلتا ہے
الفاظ باطن کی کھڑکیاں ہیں۔ جب تک انسان بات نہ کرے، اس کا باطن نظر نہیں آتا۔
. خاموشی کبھی کبھی غلط فہمی پیدا کرتی ہے
لوگ کبھی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شاید یہ شخص کم علم ہے یا معاملات سے بے خبر ہے۔
. اظہار نہ ہو تو صلاحیتیں دب جاتی ہیں
کلام انسان کی قابلیت کو نمایاں کرتا ہے
استاد، خطیب، شاعر، رہنما، سب اپنے اظہار سے پہچانے جاتے ہیں۔
دونوں اقوال میں مطابقت ہے تضاد نہیں توازن ہے
اصل بات یہ ہے کہ یہ دونوں اقوال ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔
 کم گفتگو کا مطلب یہ نہیں کہ کبھی نہ بولو
عقل مند کم بولتا ہے، مگر بولتا ضرور ہے ۔جب بات کرنا ضروری ہو، فائدہ مند ہو، یا حق ظاہر کرنا ہو۔
. پہچان معیاری گفتگو سے ہوتی ہے، زیادہ گفتگو سے نہیں
کلام پہچان کا ذریعہ ہے، لیکن بے تحاشہ اور بے مقصد کلام شخصیت کو بے وقار کر دیتا ہے۔
. خاموشی وقار ہے اور گفتگو اظہار
وقار کے لیے خاموشی ضروری، اور شناخت کے لیے بات کرنا اہم ہے۔
انسان کا کمال یہی ہے کہ وہ جانتا ہو کب چپ رہنا ہے اور کب بولنا ہے۔
. عقل گفتگو کو کم کرتی ہے، مگر معیار بلند کرتی ہے
عقل مند کی گفتگو کم ہوتی ہے مگر اثر رکھتی ہے . یہی گفتگو اسے پہچان بھی دلاتی ہے۔
. خاموشی اندرونی تربیت ہے، گفتگو بیرونی اظہار
خاموشی انسان کو سوچنا سکھاتی ہے، اور گفتگو اسے ظاہر کرنا۔
جس نے خاموش رہ کر خود کو سنبھال لیا، وہ جب بولتا ہے تو پہچان پیدا ہوتی ہے۔
دونوں اقوال کی عملی تطبیق
جاہل زیادہ بولتا ہے، عقل مند صحیح وقت پر بولتا ہے۔
یہاں دونوں اقوال ایک لائن میں جمع ہو جاتے ہیں۔
کم بولنا عقل کی نشانی ہے ۔
مگر صحیح وقت پر بولنا شخصیت کی پہچان ہے۔
خاموش رہنا دانش ہے 
اور بولنا فن ہے۔
خاموشی بند دروازہ ہے 
اور گفتگو اس دروازے کی چابی۔

یہ دونوں اقوال دراصل انسان کو ایک ہی پیغام دیتے ہیں۔
خاموشی تمہیں وقار دیتی ہے اور سوچنے کا ہنر سکھاتی ہے۔
اور گفتگو تمہیں دنیا میں پہچان دیتی ہے اور تمہارے علم کو ظاہر کرتی ہے۔
لہٰذا عقلمندی یہ نہیں کہ ہمیشہ چپ رہا جائے،
اور نہ یہ کہ ہر وقت بولتے رہا جائے،
بلکہ اصل حکمت یہ ہے کہ جانا جائے کہ کہاں خاموش رہنا ہے اور کہاں بولنا ہے۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !