صائمہ آفتاب کی عمر بھر کی بات۔۔ ڈاکٹر شکیل پتافی

  اُردو شاعری جن معیارات کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے وہ شعرا کے ساتھ ساتھ ان شاعرات کی رہینِ منت بھی ہے جو اپنے اجلے تخیل کی تابندگی سے شاعری کے روپ کو بڑی عمدگی کے ساتھ نکھار رہی ہیں۔ ان شاعرات میں صائمہ آفتاب کا نام بڑے احترام اور اعتماد سے لیا جاتا ہے۔ اُردو غزل ہو یا نظم ، صائمہ نے اپنی تازہ کاری سے دونوں اصناف کو فکر بالیدگی عطا کی ہے۔ 
               صائمہ آفتاب کی غزل گوئی جدید اردو شاعری میں ایک منفرد اور دلنشین رنگ رکھتی ہے۔ ان کی ہر غزل میں نئے امکانات کا وفور نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ہاں نسائی شعور بڑی لطافت کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے جس کے باعث ان کے لہجے میں تازگی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کی غزلوں کا سب سے نمایاں وصف جذبوں کی سچائی اور اظہار کی شفافیت ہے۔ صائمہ آفتاب محبت، ہجر، یاد اور ذات کے مسائل کو نہایت نرم اور مؤثر انداز میں بیان کرتی ہیں۔ ان کے ہاں جذبات کی شدت تو ہے ہی لیکن وہ چیخ و پکار میں تبدیل نہیں ہوتی بلکہ ایک مہذب اور باوقار اسلوب میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی خوبی ان کی غزل گوئی کو دیگر معاصر شاعرات سے ممتاز کرتی ہے۔
               صائمہ آفتاب کی غزل میں ان کی زبان نہایت سلیس اور رواں ہے، جس میں مشکل تراکیب یا ثقیل الفاظ کی بھرمار نہیں ملتی۔ وہ عام فہم الفاظ کے ذریعے پیچیدہ احساسات کو بیان کرنے کا ہنر رکھتی ہیں۔ ان کے ہاں استعارہ اور علامت کا استعمال بھی نہایت خوبصورتی سے کیا گیا ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور شعر کے مفہوم کو کئی جہتیں عطا کرتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ صائمہ آفتاب کی غزل ایک حساس دل کی ترجمان ہے، جو نہ صرف ذاتی تجربات کو بیان کرتی ہے بلکہ اجتماعی احساسات کو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ان کی شاعری جدید اردو غزل میں ایک اہم اضافہ ہے اور ان کا نام ان شاعرات میں شمار کیا جا سکتا ہے جنہوں نے روایت اور جدت کے درمیان ایک خوبصورت توازن قائم کیا ہے۔
             غزل کے ساتھ ساتھ صائمہ آفتاب کی نظم بھی گہرے احساس اور فکری پختگی کی آئینہ دار ہے۔ ان کی نظموں میں داخلی کیفیات، اور سماجی مسائل نہایت خوبصورتی سے یکجا ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی نظموں میں صرف ذاتی تجربات تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرتی ناہمواریوں، رشتوں کی پیچیدگی اور انسان کے باطنی کرب کو بھی بڑی حساسیت سے بیان کرتی ہیں۔ ان کے ہاں نظم ایک وسیع کینوس کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جہاں خیال کو پوری آزادی کے ساتھ اظہار ملتا ہے۔
             صائمہ کی نظموں کا اسلوب سادہ مگر اثر انگیز ہے جس میں جذبات کی روانی اور خیالات کی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ علامت اور استعارے کا استعمال اس مہارت سے کرتی ہیں کہ قاری بیک وقت حسنِ بیان اور معنوی وسعت دونوں سے لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔ صائمہ آفتاب کی نظم میں ایک خاص طرح کی سنجیدگی اور فکری توازن پایا جاتا ہے، جو ان کی تخلیقی شناخت کو مضبوط بناتا ہے اور انہیں جدید اردو نظم کی معتبر آوازوں میں شامل کرتا ہے۔۔۔۔۔
           صائمہ آفتاب کا تازہ شعری مجموعہ "عمر بھر کی بات" کے زیرِ عنوان شائع ہو چکا ہے۔ اس میں موجود غزلیں ہو یا نظمیں، دونوں آفاقی امتیازات کے ساتھ منفرد اسلوب کی حامل ہیں۔ اس مجموعہ کی اشاعت پر انہیں دلی مبارک باد۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس شعری مجموعہ کے دور رس اور دیر رس اثرات مرتب ہوں گے۔ 
چند اشعار بطورِ نمونہ پیش ہیں:
 
رات گزری نہ آنکھ بھر سوئے
ہم کہاں تجھ کو بھول کر سوئے

نوع انساں کی بے بسی دیکھو 
نیند آتی نہ تھی مگر سوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غم ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے 
ہوا، خوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے 

اجل اک عالم وحشت میں رقصاں 
سبھی کو باری باری ڈھونڈتی ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں نہ خود کو سنبھال رکھیے آپ 
دل کے شیشے میں بال رکھیے آپ 

یہ جو ہم مل کے مل نہیں پاتے 
اس کمی کا ملال رکھیے آپ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرائی آگ کا ایندھن نہیں بنوں گی میں
طمانیت ہوں ، سو الجھن نہیں بنوں گی میں 

جو ہو سکے تو مجھے ہم سفر بنا لے، مگر
یہ بات طے ہے کہ دلہن نہیں بنوں گی میں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راز کو آشکار مت کرنا 
جان من، جاں نثار، مت کرنا 

میں اگر کہہ بھی دوں " چلے جاو"
تم مرا اعتبار مت کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفور شوق سے مجبور دیکھنے کے لیے 
خدا بھی آتا تو ہے طور دیکھنے کے لیے 

سب آس پاس کے منظر ہٹانا پڑتے ہیں 
کسی کو جاتے ہوئے دور دیکھنے کے لیے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر صدا تھک کے لوٹ آئی مری
کوئی سنتا نہیں دہائی مری

آ لگا مجھ کو آخری پتھر 
اب مکمل ہے پارسائی مری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !