عمر خان نے اپنی بات ختم کی اور عینک اتار کر ساتھ پڑے پرانے بنچ پر رکھ دی۔ پھر اس نے چھڑی ایک طرف رکھی اور چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے لبوں سے لگا لیا۔ حمید نے چائے کا گھونٹ حلق سے اتار کر جواب دیا، "احساسات ہی تو زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ زندگی میں تلخ تجربات تو ہوتے ہی ہیں، ایسے میں احساسات کو اور زیادہ طاقت ملتی ہے۔"
عمر خان دوبارہ سے عینک لگاتا ہے اور کسی پرانے اخبار کے لپٹے ٹکڑے کو جیب سے نکالتے ہوئے اسے کھول کر شہ سرخی پر نظر دوڑاتا ہے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر سے عینک اتار کر بات شروع کرتا ہے۔"عمر خان کے اس حصے میں اب تو لگتا ہے ہم بھی اس پرانے اخبار کے ٹکڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔ ہماری ہونے کا کوئی احساس کر لے تو اس کی مہربانی ہے ورنہ ہم خاموشی سےاس اخبار کے ٹکڑے کی طرح ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے ہیں ۔"
حمید اس کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہتا ہے، "ہاں ٹھیک ہی کہتے ہو، ہم بوڑھے جانے زندگی کے کن کن مراحل سے گزرے ہیں لیکن ہماری اولادوں کو بنی بنائی دنیا مل گئی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں سب کچھ ایسے ہی تھا۔ ہماری مشقت کا احساس انھیں بہت دیر باد ہوگا۔"
عمر خان نے حمید کی بات سن کر اپنے سر سے سندھی ٹوپی اتار کر ساتھ بنچ پر رکھی اور کچھ توقف کے بعد بولا، "ہر نئی نسل اپنی نئی سوچ لے کراس دنیا میں آتی ہے۔ نئی نسل کو مگر ہر روز پر ماضی کے حالات کا کچھ خاص علم نہیں ہوتا۔ ہاں ہم بوڑھوں کو ہی ان کی سوچ کے مطابق ڈھلنا پڑ جاتا ہے، یہی عقلمندی ہے۔" دونوں بوڑھے پینشنرز کبھی بات شروع کر دیتے تو کبھی سوچوں میں گم ہو جاتے۔ ایسے لگتا تھا جیسے دونوں اپنے ماضی کو کھنگال کھنگال کر کوئی بات ڈھونڈ لاتے ہیں اور پھر اس پر بات آگے بڑھاتے ہیں۔ حمید نے اپنی پرانی بھورے رنگ کی جیکٹ کی جیب سے رومال نکالا اور بات بڑھاتے ہوئے بولا ، "ہمارا زمانہ تو لد گیا۔ اب جو سانسیں بچی ہیں تو یہ بچوں کے حساب سے ہی لینا ہوں گی۔ارد گرد کا جو ماحول ہوتا ہے یہ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔ اگر ہم موسم کی طرح بدلنا نہ سیکھیں تو کئی معاملات میں ہم الجھ کر رہ جائیں گے۔ اس الجھنے سے بہتر ہے ہم تھوڑا سا حالات کو دیکھ کر اپنے اندر تبدیلی لے آئیں۔" دونوں خاموشی سے بینچوں سے اٹھے اور ویران پٹڑی کی طرف چل پڑے۔ ریلوے اسٹیشن کے جنوب کی طرف قریب ہی شہر کا پھاٹک تھا اور پھاٹک سے پہلے ریلوے کا گودام آتا تھا۔ دونوں گودام تک چلے اور ہانپنے لگ گئے۔
عمر خان اور حمید ریلوے کے محکمے سے ریٹائر ہوئے تھے۔
دونوں سہ پہر کے وقت اکثر ریلوے کی پٹڑیوں پر آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ انہیں ملازمت کے دوران جو سرونٹ کوارٹر دیے گئے تھے محکمے نے ابھی ان سے واپس نہیں لیے تھے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں نے اپنے بیٹوں کو وہاں اسی ریلوے اسٹیشن پر بھرتی کرا لیا تھا۔ اور بڑے صاحب نے انہیں انہی مکانات میں رہنے کی اجازت دے دی تھی۔ حمید پیدائشی طور پر کبڑا تھا ۔ابھی جوان ہی تھا کہ اس نے ریلوے اسٹیشن کے ایک کونے پر اپنا پکوڑوں کا ٹھیلا لگایا تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر ایک صاحبِ دل افسر آن لگا تھا۔ ایک دن معائنہ کے دوران اس نے حمید کو دیکھا اور اس کی ہمت سے متاثر ہوا اور اعلیٰ افسران کو اس نے سفارش کر بھیجی کہ اس نوجوان کو ریلوے اسٹیشن پر چابی بردار بھرتی کر لیا جائے۔ اس نیک دل افسر کی نیکی کی وجہ سے حمید اسی محکمے میں بھرتی ہو گیا اور ساری ملازمت یہیں گزار دی۔ دونوں اپنے دور کے افسران بالا کے بارے میں اکثر باتیں کیا کرتے۔ عمر خان کچھ سوچ کر ایک پرانا قصہ یاد کر تے ہوئے بولا، "اکرم نام کا ایک بڑا افسر ہمارے ریلوے اسٹیشن پر اچانک معائنہ پر آگیا۔ اس کے دماغ میں کسی نے بٹھا دیا کہ یہ میانوالی کے لوگ بڑے اکھڑ ہوتے ہیں۔ ان سے سختی سے پیش آنا ہے۔" عمر خان کچھ دیر خاموش رہا۔ وہ سر کھجاتے ہوئے کچھ یاد کرنے لگا۔ حمید کچھ دیر اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو حسبِ عادت کریدنے کے بعد بولا، "ہر افسر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اسی مزاج کے مطابق وہ لوگوں سے روابط بھی رکھتا ہے اور لوگوں کے ساتھ معاملات بھی طے کرتا رہتا ہے ۔" حمید نے اپنی بات مکمل کی تو عمر خان نے
آپ نے اپنا واقعہ جاری رکھتے ہوئے کہا، "اتفاق سے اس دن میرا بچہ بیمار تھا اور مجھے ڈیوٹی پر پہنچنے میں دیر ہوگئی، میں نے لاکھ منتیں ترلے کیے لیکن اس نے میری ایک نہ سنی اور مجھے جرمانہ کر دیا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اگلے ہی دن اس کا اپنا بیٹا بیمار ہو گیا۔ گھر سے جو تار پہنچا تو تڑپ کر رہ گئے۔ اس رات میں ڈیوٹی پر تھا۔ صاحب بھاگے بھاگے آئے اور ماڑی انڈس ریل گاڑی کے آنے کا وقت پوچھا۔ میں نے بتایا کہ صاحب!ماڑی انڈس ریل گاڑی رات کو لیٹ آتی ہے۔ گاڑی کے آنے تک وہ میرے پاس ہی بیٹھ رہے۔میں اس کو تسلیاں دیتا رہا اور جب ریل گاڑی آئی تو وہ گاڑی پر سوار ہو کر لاہور روانہ ہو گئے۔"
"پھر کیا ہوا، اس کا بچہ ٹھیک ہوا؟" حمید نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا تو عمر خان نے کہا, "بچہ تو کچھ عرصہ بعد ٹھیک ہو گیا۔ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ اس بڑے صاحب نے واپس آتے ہی مجھ سے معافی مانگی اور دو سوٹ اور جوتے لے آیا۔"
حمید حیرت سے عمر خان کو دیکھتا رہ گیا۔ اس کی حیرت دیکھ کر وہ بولا ، "صاحب نے کہا دیکھ عمر خان اس دن تیرے بچے کی بیماری کا سن کر احساس نہ کیا۔ جب میرا بیٹا بیمار پڑا تو تمھارے بیٹے کا شدت سے احساس ہوا اور اپنی کوتاہی پر ندامت ہوئی۔اسی وقت تہیہ کرلیا تھا کہ واپس آ کر تم سے معذرت کر لونگا ۔"
حمید نے سر ہلاتے ہوئے کہا ،"اس افسر کا ضمیر زندہ تھا ورنہ افسر اور معذرت؟"
عمر خان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، "سچ کہتے ہو، ضمیر زندہ ہو تو کیا ہی بات ہے ۔"
دن ڈھل چکا تھا۔ شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ دونوں آہستہ آہستہ ریل کی پٹڑیاں پھلانگتے گھروں کو لوٹنے لگے۔دونوں کے ہاتھ میں چھڑیاں تھیں اور چھڑیوں کے سہارے ریلوے پٹڑی کے گرد اگی جنگلی گھاس کو ٹٹول ٹٹول کر آگے بڑھتے بڑھتے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم تک آگئے۔ دونوں کی سانسیں پھول رہی تھیں۔ سامنے ریلوے اسٹیشن کی مسجد تھی۔ مغرب کی اذان سن کر دونوں مسجد میں نماز پڑھنے چلے گئے ۔
