مشاھدات ایران کا حرفِ آغاز یا کتھارسز(1)۔سعد مکی شاہ


یقین مانئے کہ میں ابھی تک الجھن میں ہوں کہ میں نے آخر کیا لکھا ہے؟ اسے یادداشتیں قرار دیا جائے، آپ بیتی کہا جائے، مشاہدات کی ایک طویل ڈائری سمجھا جائے یا پھر یہ سفرنامے کی معنویت اور معیار پر بھی پورا اترتا ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب شاید میرے پاس بھی نہیں۔ ممکن ہے اس کا فیصلہ قارئین کریں، ممکن ہے وقت کرے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تحریر ان تمام اصناف کے درمیان کہیں اپنا مقام تلاش نہ کر سکے ۔

بہرحال، جو کچھ دیکھا، محسوس کیا، برداشت کیا، سمجھا اور بعض اوقات نہ بھی سمجھ سکا، اسے لکھ دیا ہے۔ اب یہ سب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

2003 کے پہلے غیر قانونی سفر سے لے کر 2014 میں باقاعدہ اسفار کے آغاز تک، سفر تو جاری رہے مگر کبھی سنجیدگی سے یہ خیال نہیں آیا کہ ان تجربات کو کتابی صورت بھی دی جا سکتی ہے۔ انسان زندگی گزارتا رہتا ہے، واقعات اس کے گرد رونما ہوتے رہتے ہیں، کچھ یاد رہ جاتے ہیں، کچھ وقت کے گردوغبار میں گم ہو جاتے ہیں۔ شاید میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا جو سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی میں ایسا کچھ نہیں جسے کتاب کا حصہ بنایا جا سکے ۔

البتہ ڈائری لکھنے کا شوق بچپن سے تھا۔ کم عمری میں ھی کتب بینی کا شوق بھی تھا اور اکثر کاغذ پر اپنے خیالات اتارنے کی کوشش کیا کرتا تھا ۔ وہ تحریریں نہ ادب تھیں، نہ تاریخ اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر علمی سرمایہ مگر ان میں ایک چیز ضرور تھی اور وہ تھی کچھ نہ کچھ کرتے رھنا ۔ شاید کچھ بہتر کر جانے کی خواھش ۔

وقت گزرتا گیا، ڈائریاں گم ہوتی گئیں، صفحات بکھرتے گئے اور زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی۔

2014 کے بعد بھلا ہو فیس بک کا کہ اس نے لکھنے کی ایک نئی کھڑکی کھول دی۔ ایران سے متعلق مختصر تحریریں، سفر کے چھوٹے چھوٹے واقعات، لوگوں کے رویے، بازاروں کی رونقیں، مذہبی اور سماجی مشاہدات، کبھی مزاحیہ انداز میں اور کبھی سنجیدہ لہجے میں لکھتا رہا۔ اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ یہی منتشر تحریریں ایک دن کسی عمارت کی اینٹیں بھی ثابت ہو سکیں گی ۔

2018 میں عزیز دوست مولانا ثناء اللہ سعد صاحب نے سفرنامہ لکھنے کی باقاعدہ ترغیب دینا شروع کی۔ میں ہر بار ٹال دیتا۔ اپنی محدود ذہنی، فکری اور مالی کم مائیگی کا بھرپور احساس تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ سفرنامے بڑے لوگ لکھتے ہیں، بڑے ادیب ، بڑے صحافی ، نامور لوگ لکھتے ہیں۔ میرے جیسے عام آدمی کے مشاہدات میں بھلا ایسی کیا خاص بات ہو سکتی ہے؟

اس کتاب کے منصۂ شہود پر آنے کا اولین اور آخری کریڈٹ مولانا ہی کو جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مولانا نے ابھی تک یہ کتاب پڑھی نہیں ہے ۔ جب پڑھیں گے تو ممکن ہے چند لمحوں کے لیے افسوس میں مبتلا ہو جائیں کہ ان سے یہ کیا غلطی سر زد ھوئی ھے ۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ مسلسل اصرار نہ کرتے تو شاید یہ کتاب کبھی وجود میں نہ آتی۔

غالباً 2022 میں میں نے ایک مضمون اردو کے معروف پلیٹ فارم "ہم سب" کو بھیجا۔ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے اسے شائع بھی کر دیا۔ اس ویب سائٹ کے چیف ایڈیٹر محترم وجاہت مسعود صاحب اور ایڈیٹر جناب عدنان خان کاکڑ صاحب ہیں۔
یہ میرے لیے ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔
بظاہر ایک معمولی سی اشاعت ، مگر میرے لیے ایک ذہنی انقلاب سے کم نہیں تھی۔ لکھنے کی بابت خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ احساس ہوا کہ جہاں ملک کے نامور، معروف، مقبول، قد آور اور باوقار ادیب و صحافی لکھتے ہیں، وہاں مجھ جیسے "کوتاہ و سیاہ فکر" کو بھی جگہ مل سکتی ہے۔

اس کے بعد مضامین شائع ہوتے رہے اور میں لکھتا رہا۔

کچھ عرصے بعد دوسری معروف ویب سائٹ "مکالمہ" پر بھی کالم اور مضامین شائع ہونے لگے۔ جس کے چیف ایڈیٹر جناب انعام رانا صاحب اور ایڈیٹر محترم اسماء صاحبہ ھیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں ویوز ملے۔ قارئین کے تبصرے آئے۔ اختلاف بھی ہوا، اتفاق بھی ہوا، تعریف بھی ہوئی اور تنقید بھی۔ مگر ان سب نے مل کر میرے اندر لکھنے کی خواہش کو مزید تقویت دی۔
ممبئی انڈیا سے دور حاضر کے بابائے اردو جناب نادر خان سرگروہ صاحب کو میں نے اپنا ایک مضمون بعنوان "مشاہدات ایران" اصلاح کیلئے بھیجا ۔ انہوں نے بھرپور انداز سے ایک ایک لفظ ، ایک ایک سطر ، ایک ایک پیرے پر مفصل اصلاحی تبصرہ کیا ، مشورے دئیے اور تحریر کی توصیف بھی کی ۔ ساتھ ھی انہوں نے اس طویل تبصرے کو اپنی وال پر بھی شئیر کیا ۔ اس نے تو گویا عمل انگیز کا کردار ادا کیا ۔ ان کے اس اصلاحی اور مشاورانہ تبصرے نے میری آئندہ تحریر کو بہتر کرنے میں بے پناہ مدد کی ۔ میرے استاد ٹھہرتے ھیں ۔ صدق دل سے ان کا ممنون احسان رھوں گا ۔

چند یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے ایران سے متعلق تحریریں پڑھ کر رابطہ کیا۔ بعض نے معلومات حاصل کیں، بعض نے اپنی آراء دیں اور بعض نے غیر متوقع طور پر تعریف بھی کی۔ چند انجان قارئین نے مجھ سے کتاب کی متوقع اشاعت کی بابت بھی دریافت کیا ۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ سب کچھ یقیناً حوصلہ افزا تھا۔

یہی وہ مرحلہ تھا جب محسوس ہوا کہ شاید مشاہدات کو صرف فیس بک پوسٹوں میں دفن کر دینا مناسب نہیں۔

اسی دوران مجھے یہ احساس بھی ہونے لگا کہ تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ ایک تحریر دراصل مصنف کے وقت، تجربے، مشاہدے، غلطیوں، کامیابیوں، ناکامیوں اور بعض اوقات اس کے زخموں کا نچوڑ ہوتی ہے۔ قاری صرف سیاہی سے لکھے ہوئے جملے پڑھتا ہے مگر مصنف جانتا ہے کہ ان جملوں کے پیچھے کتنی راتیں، کتنی پریشانیاں، کتنی الجھنیں اور کتنی خاموش لڑائیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

اس کتاب کی اشاعت میں "ہم سب"، "مکالمہ"، "اردو کالمز آن لائن" اور مقامی روزنامہ "ملتان ویلی" میں میری تحریروں کی اشاعت سے ملنے والے حوصلے کا بھی بہت کردار ہے۔ ملتان ویلی کے چیف ایڈیٹر جناب ساجد یامین صاحب ھیں ۔
میں ان تمام احباب اور اداروں کا دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھ جیسے نوآموز لکھاری کو اظہار کا موقع دیا۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بعض اوقات ہم اپنے محسنوں کے ساتھ بھی ناانصافی کر بیٹھتے ہیں۔ "ہم سب" والے آج کل میری ہی کوتاہی کے باعث مجھ سے ناراض ہیں۔ میں اس کتاب کے توسط سے ایک بار پھر ان سے معذرت کا خواستگار ہوں۔ اختلافات اور غلط فہمیاں اپنی جگہ مگر احسانات کا اعتراف باقی رہتا ہے ۔

زندگی میں ایسے لوگ کم ملتے ہیں جو آپ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت پر آپ سے زیادہ یقین رکھتے ہوں۔ اگر ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ ہو تو بہت سی کتابیں کبھی لکھی ہی نہ جائیں، بہت سے فنکار کبھی سامنے نہ آئیں اور بہت سے خواب ہمیشہ خواب ہی رہ جائیں ۔
معروف ادیب جناب عارف انیس کی کتاب لکھنے کی بابت ترغیبانہ پوسٹ نے بھی مجھے سنجیدگی سے کتاب لکھنے پر مائل کیا۔ بعض اوقات ایک مختصر سی تحریر، ایک جملہ یا ایک مشورہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ شاید میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

دوستوں ، بالخصوص معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر حسان ہاشمی کا تو یوں سمجھئے کہ عملی تعاون بھی شامل ہے۔ مجاہد حسین شاہ کی مسلسل حوصلہ افزائی بھی میرے لیے سرمایہ ثابت ہوئی۔ جب کبھی سستی، مایوسی یا بے یقینی غالب آتی، ایسے دوست کسی نہ کسی صورت میں یاد دلاتے رہتے کہ کتاب مکمل ہونی چاہیے۔

میرے گھر میں میری بیٹی ھدیٰ سعد نے بہت جوش و جذبے سے پروف ریڈنگ میں میری مدد کی ۔ کتاب کے مندرجات کو قابلِ قبول ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی دیا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ باپ بیٹی کے تعلق میں محبت کا عنصر بعض اوقات تنقید کے معیار کو متاثر کر دیتا ہے لیکن ایک مصنف کے لیے اپنی اولاد کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی کی اہمیت بہرحال کم نہیں ہوتی۔

خیر جناب!

میں نے 2022 میں ایران کے مشاہدات کے تناظر میں لکھنا شروع کر دیا۔
لکھتے لکھتے رک جانا پڑتا کہ موضوع کے متعلق معلومات اور مشاہدات ابھی ادھورے تھے۔ کبھی محسوس ہوتا کہ کسی شہر کو ابھی پوری طرح نہیں دیکھا ، کسی واقعے کے تمام پہلو سامنے نہیں آئے یا کسی سماجی مسئلے پر مزید غور و فکر درکار ہے۔

چند صفحات لکھتا اور بوجوہ کبھی تین اور کبھی چھ ماہ کا وقفہ آ جاتا۔

؎ ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

یہ مصرعہ محض مصرعہ نہیں بلکہ میرے حالات کی مختصر ترین تشریح ہے۔

روزمرہ کی مصروفیات، معاشی مسائل، نفسیاتی الجھنیں، سوشل میڈیا ایڈکشن اور کچھ بادہ خواری کی بری لت۔۔۔!!!
ان سب کے درمیان کتاب لکھنا کسی باقاعدہ ادیب کی طرح تو ممکن نہ تھا۔ میں نہ تو کسی پرسکون پہاڑی مقام پر بیٹھا ہوا دانشور تھا، نہ کسی یونیورسٹی کا پروفیسر اور نہ ہی کل وقتی مصنف۔ میں ایک عام آدمی تھا جو زندگی کے روزمرہ معرکوں میں الجھا ہوا اور انہی معرکوں کے درمیان لفظوں کو پکڑنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔
کبھی ایسا ہوتا کہ لکھنے کا بہترین خیال آیا مگر کاغذ میسر نہ تھا۔
کبھی کاغذ موجود تھا مگر موڈ نہیں تھا۔ کبھی موڈ تھا تو وقت نہیں تھا۔
اور کبھی وقت، موڈ اور کاغذ تینوں موجود تھے مگر الفاظ غائب تھے۔
لکھنے والے جانتے ہیں کہ بعض اوقات ایک صفحہ لکھنے میں چند منٹ لگتے ہیں اور بعض اوقات ایک پیراگراف لکھنے میں کئی دن گزر جاتے ہیں۔

گزشتہ سال کتاب کا مواد تقریباً مکمل تھا مگر تشنگی اور کمی بہت زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے عمارت کھڑی تو ہو گئی ہے مگر اس کی دیواریں ابھی ادھوری ہیں۔
ایران کے حالیہ سفر کا اولین ہدف بھی دراصل "مشاہداتِ ایران" کی تکمیل تھا۔

میری خواہش تھی کہ کچھ ایسے پہلو بھی دیکھ سکوں جو پہلے اسفار میں میری نگاہ سے اوجھل رہے تھے۔ چند سوالات کے جوابات حاصل کر سکوں۔ بعض پرانے مشاہدات کی دوبارہ تصدیق کر سکوں۔ لیکن بوجوہ یہ ہدف اس انداز سے پورا نہ ہو سکا جس کی امید تھی۔
بس یوں سمجھئے کہ ایک غلطی "آزمودہ را آزمودن جہل است" کا شکار ہوا اور پھر وہاں سے واپسی اس حال میں ہوئی کہ جسمانی اور ذہنی صحت تقریباً تباہ ہو چکی تھی۔
بعض تجربات انسان کو کتابی علم سے زیادہ سکھا دیتے ہیں۔
زندگی میں چند غلط فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کی قیمت صرف پیسوں سے ادا نہیں ہوتی بلکہ صحت، سکون اور وقت کی صورت میں بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔
یہ انہی تلخ تجربات میں سے ایک تھا اور اس کے اثرات آج تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔

خیر ، اپریل 2025 میں واپس آ کر میں نے تازہ ترین سفر کی بابت بھی لکھنا شروع کر دیا تاکہ کتاب صرف ماضی کا بیان نہ رہے بلکہ حال کی جھلک بھی اس میں شامل ہو۔
اب یہاں ایک اور دلچسپ اور کسی حد تک تکلیف دہ ٹرننگ پوائنٹ آتا ہے۔
2025 میں بھی شاید میں 1990 میں رہ رہا تھا۔
اپنی تحریروں پر کافی اعتماد تھا۔ ویب سائٹس پر ہزاروں ویوز مل چکے تھے۔ قارئین کی حوصلہ افزائی موجود تھی۔ اس لیے میں نے بڑے اطمینان سے پاکستان بھر کے پبلشرز سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔
میرے ذہن میں ایک سادہ سا تصور تھا۔
مصنف کتاب لکھتا ہے۔ پبلشر کتاب چھاپتا ہے۔ کتاب فروخت ہوتی ہے۔ مصنف کو رائلٹی ملتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔
کہانی ختم۔ لیکن حقیقت شاید اتنی سادہ نہیں تھی۔
میں پبلشرز کو کتاب کے منتخب ابواب بھیجتا، 500 سے 700 صفحات کا حجم بتاتا، مختلف ویب سائٹس پر شائع ہونے والے مضامین کے لنکس بھیجتا اور پھر بڑے اعتماد سے پوچھتا ،
"جناب! رائلٹی کتنی دیں گے؟"
اب جب اس دور کو یاد کرتا ہوں تو خود پر ہنسی بھی آتی ہے اور ترس بھی۔
جناب ہم نے اپنے دور میں پڑھا ہی یہی تھا کہ رائٹر کو رائلٹی ملتی ہے، کالم نویس کو فی کالم معقول اعزازیہ دیا جاتا ہے، مصنفین کی پذیرائی ہوتی ہے۔
سو ہم کہاں غلط تھے؟
لیکن مارکیٹ کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور وہ اکثر کتابوں میں لکھے پڑھے گئے اصولوں سے مختلف نکلتے ہیں۔

کسی پبلشر نے کہا ،
"مسودہ بھیج دیں، تین سال انتظار کریں۔"
کسی نے فرمایا ،
"اگر کتاب فروخت ہوتی رہی تو قیمت فروخت کا دس فیصد دیتے رہیں گے۔"
کسی نے کہا ، "رائلٹی کی مد میں پچاس کتابیں مل جائیں گی۔"
 پاکستان کے ایک بڑے اور معروف ترین پبلشر نے تو کمال ہی کر دیا۔
فرمایا ۔۔۔
"آپ کی کتاب تقریباً تیس لاکھ روپے میں شائع ہوگی اور یہ رقم آپ کو ایڈوانس ادا کرنا ہوگی۔" ان کی یہ وٹس ایپ چیٹ اب بھی محفوظ ھے ۔
میں چند لمحے خاموش رہا
پھر سوچا کہ کہیں میں کتاب چھپوانے نہیں بلکہ کوئی چھوٹا موٹا پرنٹنگ پریس کا سیٹ اپ لگوانے تو نہیں پہنچ گیا؟ ۔۔۔ یقین جانئے ۔ لمحہ موجود میں بھی ایک چھوٹے پرنٹنگ پریس کا مکمل سیٹ اپ 30 لاکھ روپے میں لگانا ممکن ھے ۔
یہ صرف مثالیں ہیں ۔

حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ، پیچیدہ اور بعض اوقات افسوسناک تھی۔
پاکستان بھر میں کم و بیش دو سو پبلشرز سے رابطہ کیا۔
کسی نے دس لاکھ مانگے۔
کسی نے پندرہ اور کسی نے بیس لاکھ ۔
اور بعض نے تو ایسی شرائط پیش کیں کہ اگر انہیں قبول کر لیتا تو کتاب شاید میری ہی نہ رھتی ۔
اسی دوران مجھے پاکستان کی اشاعتی صنعت کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔
اور یہیں سے میری تحقیق کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
میں سوچنے لگا کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟
پبلشر غلط ہیں؟ مصنف غلط ہیں؟ یا پورا نظام ہی کسی بنیادی خرابی کا شکار ہے؟
جتنا مطالعہ کیا، جتنے لوگوں سے بات کی اور جتنا مشاہدہ کیا، اتنا ہی احساس ہوا کہ مسئلہ کسی ایک فریق کا نہیں بلکہ مجموعی ماحول کا ہے۔
کتاب کم پڑھی جا رہی ہے۔
مطالعے کا رجحان کمزور ہو رہا ہے۔
اور دوسری طرف لکھنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ اشاعت کا پورا نظام عجیب تضادات کا شکار ہو چکا ہے ۔
سب سے پہلے تو ہمارے وہ بے شمار نابغۂ روزگار شعراء، ادباء اور دانشور حضرات ہیں جو دو سو، تین سو یا پانچ سو کتابیں اپنے خرچ پر چھپوا کر مفت تقسیم کر دیتے ہیں۔ ان کے اپنے محرکات ہو سکتے ہیں اور میں ان کے اخلاص یا نیت پر کوئی حکم لگانے کا حق نہیں رکھتا مگر ایک عام مشاہدہ بہرحال بیان کیا جا سکتا ہے۔
کتاب کی رونمائی ہوتی ہے۔
تصاویر بنتی ہیں۔
مشہور شخصیات کے ہاتھوں کتاب پیش کی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر مبارک بادوں کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔
مصنف کے نام کے ساتھ "صاحبِ کتاب" کا اضافہ ہو جاتا ہے اور اسے ڈوپامائن بھی وافر مقدار میں دستیاب ھوتا رھتا ھے ۔
اور یوں بعض اوقات کتاب پڑھے جانے کی بجائے بک شیلف کی زینت کا سامان بن جاتی ھے ۔
میری ناقص رائے میں یہ رجحان اشاعتی صنعت کے لیے بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے۔
جب ہزاروں کتابیں خریدی جانے کے بجائے مفت تقسیم ہو رہی ہوں تو قاری کے ذہن میں بھی آہستہ آہستہ یہ تصور پیدا ہو جاتا ہے کہ کتاب ایسی چیز ہے جو مفت ہی ملنی چاہیے۔
حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
کتاب کے پیچھے مصنف کا وقت، محنت، سفر، تحقیق، تجربہ، کاغذ، طباعت، ڈیزائن، پروف ریڈنگ ، بے تحاشہ بھاگ دوڑ اور بے شمار دوسرے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔
کسی بھی سنجیدہ کتاب کے پیچھے بعض اوقات برسوں کی زندگی لگی ہوتی ہے۔
پبلشر کے لیے یہ صورتحال یقیناً فائدہ مند ہوتی ہے۔
اسے کتاب بیچنے کی فکر نہیں رہتی۔
گویا مصنف خود اپنی کتابیں خریدتا ہے۔
خود تقسیم کرتا ہے۔
خود تقریبِ رونمائی کرتا ہے۔
اور بعض اوقات خود ہی اپنی تشہیر کا تمام خرچہ بھی برداشت کرتا ہے۔
ایسے ماحول میں پبلشر نئے اور غیر معروف لکھاری پر سرمایہ کاری کیوں کرے؟
یہ سوال بھی اپنی جگہ بالکل جائز ہے۔

اسی لیے میں پبلشرز پر تنقید کرتے ہوئے بھی ان کے بعض مؤقف سے اتفاق کرتا ہوں۔

اگر کوئی شخص غیر معروف ہے، اس کی سابقہ فروخت کا ریکارڈ موجود نہیں، اس کا قارئین کا حلقہ محدود ہے تو ایک کاروباری ادارہ اس پر سرمایہ لگانے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا۔
یہ فطری بات ہے۔
لیکن میرا اختلاف یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ کم از کم تحریر کو ایک بار پڑھ تو لیا جائے۔
مسودہ دیکھ تو لیا جائے۔
مواد کا معیار جانچ تو لیا جائے۔
ہو سکتا ہے کسی گمنام شخص کی تحریر میں وہ جان ہو جو کسی معروف نام میں نہ ہو۔
ہر مشہور مصنف کبھی نہ کبھی غیر معروف ہی ہوتا ہے۔
ہر بڑا نام کسی زمانے میں ایک عام نام ہوتا ہے۔
اگر نئے لوگوں کو موقع ہی نہ دیا جائے تو پھر نئے نام پیدا کیسے ہوں گے؟
خیر جناب ۔۔۔ !!!
اس موضوع پر تو شاید الگ کتاب لکھی جا سکتی ہے مگر یہاں ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ انہی چکروں میں میری کتاب مزید تاخیر کا شکار ہوتی رہی نیز ان کی بابت یہ بھڑاس بھری معلومات آپ تک بھی پہنچ جائیں ۔
ایک اور مسئلہ پائریسی کا ہے۔
کتابوں کی دنیا میں یہ ایک خاموش مگر خطرناک بیماری ہے۔
کوئی اچھی کتاب مقبول ہو جائے تو چند حضرات فوراً اس کی نقل تیار کر لیتے ہیں۔ پبلشر سے آپ 1000 کتاب چھپوائیں تو وہ 1500 چھاپ کر 1000 آپکے حوالے کر کے 500 خود بیچ سکتا ھے ۔ اسے صرف اضافی کاغذ کا خرچہ کرنا پڑتا ھے ۔ جبکہ پائریسی کی صورت میں مصنف کا نقصان الگ ، اور
اصل پبلشر کا نقصان الگ ۔
اور قاری کے ہاتھ میں اکثر ناقص معیار کی نقل پہنچتی ہے۔
اسی تمام صورتحال نے بالآخر مجھے فیصلے تک پہنچا دیا۔
میں نے طے کر لیا کہ اگر کتاب چھپنی ہے تو خود ہی چھاپوں گا۔
اچھی ہے یا بری ، کامیاب ہوتی ہے یا ناکام ، پسند کی جاتی ہے یا نظر انداز کر دی جاتی ہے، کم از کم یہ اطمینان تو ہوگا کہ فیصلہ میرا اپنا تھا۔
پرنٹنگ اور پبلشنگ کے شعبے سے کچھ عرصہ وابستگی بھی میرے لیے کچھ مفید ثابت ہوئی۔
میں نے حساب کتاب کیا۔
اخراجات دیکھے۔
 خدشات و خطرات کا اندازہ لگایا۔
دوستوں سے مشورے کیے اور اس کے الٹ فیصلہ کر لیا۔
چاہے جو ہو ، کتاب خود شائع کی جائے گی اور تعداد بھی 1000 ھوگی ۔
اس فیصلے کے بعد ایک عجیب سی ذہنی راحت محسوس ہوئی۔ گویا برسوں سے لٹکا ہوا معاملہ بالآخر کسی نتیجے تک پہنچ گیا ہو ۔
ہاں، مالی مسائل اپنی جگہ موجود تھے ۔
بہرحال کتاب کی اشاعت کا مرحلہ شروع ہو گیا۔
ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ مشورہ دیتے ہیں ، چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو عملی مدد کرتے ہیں اور عملی مدد ہمیشہ لفظی حوصلہ افزائی سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔
بہت سے مخلص دوستوں نے مجھے سمجھایا ،
"شاہ جی! کتابیں کم بکتی ہیں۔"
"دو سو چھاپ لیں۔"
"پانچ سو چھاپ لیں۔"
"اگر چل گئی تو دوبارہ چھاپ لیجیے گا۔"
ان کی باتیں یقیناً عقلی اور کاروباری لحاظ سے درست تھیں۔
لیکن میرے مزاج کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو پھر اس پر ڈٹ بھی جاتا ہوں۔
کبھی یہ ضد فائدہ دیتی ہے اور کبھی نقصان ۔۔۔ !!!
لیکن بہرحال یہ خصوصیت موجود ہے۔

سو میں نے سوچا ،
"جہاں ستیاناس ، وہاں ڈیڑھ ستیاناس سہی" ۔۔۔ !!!
چنانچہ ایک ہزار کتابیں چھاپنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔
اس فیصلے میں کاروباری دانش یقیناً کم ھے مگر جذبہ ضرور زیادہ تھا ۔
اور بعض اوقات انسان منافع کے حساب سے نہیں بلکہ اپنے یقین کے حساب سے فیصلے کرتا ہے۔
مجھے یقین تھا کہ اگر میں نے برسوں کی محنت، سفر، مشاہدات اور تجربات کو ایک کتاب کی شکل دی ہے تو اسے قارئین تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی پوری کرنی چاہیے ۔
بفضلِ خداوندِ متعال مجھے امید ہے کہ یہ کتاب اپنی راہ خود بنائے گی۔

آہستہ آہستہ ہی سہی مگر اپنے حقیقی قاری تک پہنچے گی ۔
میں مفت تقسیم کرنے کے رجحان کا ہرگز قائل نہیں الا یہ کہ کوئی کتب بین اس کی قیمت ادا نہ کر سکتا ھو ۔
میری رائے میں کتاب کی حرمت اس بات میں ہے کہ اسے پڑھنے والا اس کے لیے کچھ قیمت ضرور ادا کرے ، خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو ۔
قیمت صرف روپے پیسے کی نہیں ہوتی ۔
بعض اوقات قیمت توجہ کی ہوتی ہے۔
وقت کی ہوتی ہے۔
دلچسپی کی ہوتی ہے۔
جب انسان کسی چیز کے لیے کچھ ادا کرتا ہے تو اس کی قدر بھی زیادہ کرتا ہے ۔ تبھی تو ھمارے تبلیغی بھائی ۔۔۔ جان ، مال اور وقت لگانے کی دعوت دیتے ھیں ۔
گزشتہ دنوں دوستوں کی محفل میں ایک دلچسپ گفتگو ہوئی ۔
موضوع تھا ایک ہزار کتابوں کا وزن ۔
حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ فی کتاب وزن تقریباً سات سو گرام ہے ۔
یوں کل وزن تقریباً سات سو کلو گرام بنتا تھا۔
یعنی وزن کے حساب سے ساڑھے سترہ من کے قریب ۔
ہمارے ایک انتہائی آرام پسند دوست نے ، جنہیں محبت سے "آرامی" کہا جاتا ہے ، فوراً کیلکولیٹر نکالا ۔
چند لمحے ضرب تقسیم کی ،
پھر نہایت سنجیدگی سے بولے ،
"شاہ جی ۔۔۔ !!! سات سو کلو ضرب تیس روپے کریں تو اکیس ہزار روپے بنتے ہیں۔"
گویا انہوں نے پوری کتاب کو کباڑ کی قیمت پر فروخت کر دیا تھا ۔
محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔
میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ بعض دوست انسان کو اوقات پر رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
جب آدمی خود کو مصنف سمجھنے لگے تو وہ فوراً اسے ردی والے کے ترازو میں تول دیتے ہیں۔
اور شاید یہی دوستی کا اصل "حسن" بھی ہے ۔
(جاری ہے)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !