رنگ، رنج اور غالب: ڈاکٹر ہاجرہ انور کی علمی و تخلیقی معراج۔۔عامر عباس ناصر اعوان

علم و ادب کی تاریخ میں بعض کامیابیاں محض شخصی کامیابیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری، تہذیبی اور تخلیقی روایت کا استعارہ بن جاتی ہیں۔ ایسے ہی خوش کن اور یادگار لمحات میں سے ایک لمحہ وہ ہے جب محترمہ ڈاکٹر ہاجرہ انور نے ہزارہ یونیورسٹی سے اپنے منفرد اور نہایت اہم تحقیقی مقالے "Painting Agony: Illustrating Selections from Dewan-e-Ghalib" پر کامیابی کے ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کر لی۔

یہ کامیابی صرف ایک تعلیمی منزل کا حصول نہیں بلکہ ادب، جمالیات، مصوری اور تحقیق کے حسین امتزاج کی ایک ایسی داستان ہے جو آنے والے برسوں تک اہلِ علم و فن کے لیے باعثِ تحریک رہے گی۔ اس کامیابی کی اہمیت اس اعتبار سے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر ہاجرہ انور کو آرٹ اور تخلیقی علوم سے وابستہ فیکلٹی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی شخصیت ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے۔ یہ اعزاز ان کی مسلسل محنت، غیر معمولی فکری استعداد، تخلیقی بصیرت اور علمی ریاضت کا زندہ ثبوت ہے۔
ڈاکٹر ہاجرہ انور کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کے وجود میں علم، ادب، فن اور تدریس ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ ایک حساس شاعرہ ہیں، ایک مخلص استاد ہیں، ایک باصلاحیت محققہ ہیں اور اب ایک کامیاب ڈاکٹر بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہی تنوع ان کے تحقیقی موضوع میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتا ہے۔

غالب: ایک شاعر، ایک فلسفہ، ایک کائنات

اردو ادب کی تاریخ میں اگر کسی شاعر نے انسانی احساسات، داخلی کشمکش، محبت، محرومی، امید، ناامیدی، فلسفۂ وجود اور شعور کی پیچیدگیوں کو سب سے زیادہ گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے تو وہ مرزا اسد اللہ خان غالب ہیں۔

غالب محض شاعر نہیں بلکہ ایک فکری جہان ہیں۔ ان کی شاعری میں ایسا تنوع، ایسی تہہ داری اور ایسی معنوی وسعت موجود ہے کہ ہر دور کا قاری ان کے کلام میں اپنے زمانے کی بازگشت سن لیتا ہے۔

غالب کے اشعار میں عشق بھی ہے، عرفان بھی؛ شکست بھی ہے، وقار بھی؛ درد بھی ہے اور اس درد کا جمال بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیڑھ صدی گزرنے کے باوجود غالب آج بھی اردو ادب کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کے اشعار کی تفہیم پر ہزاروں صفحات لکھے جا چکے ہیں، بے شمار کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں اور متعدد تحقیقی کام سامنے آ چکے ہیں، لیکن ڈاکٹر ہاجرہ انور کا تحقیقی زاویہ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ انہوں نے غالب کو صرف الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ رنگوں اور تصویروں کے ذریعے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

"Painting Agony" — تحقیق کی ایک نئی جہت

ڈاکٹر ہاجرہ انور کے تحقیقی مقالے کا عنوان ہی اپنے اندر ایک پورا فلسفہ سموئے ہوئے ہے:

Painting Agony: Illustrating Selections from Dewan-e-Ghalib

یعنی:

"کرب کی مصوری: دیوانِ غالب کے منتخب اشعار کی تصویری تعبیر"

یہ عنوان بظاہر سادہ مگر درحقیقت نہایت پیچیدہ اور فکری نوعیت کا ہے۔

یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا شاعری کو مصوری میں ڈھالا جا سکتا ہے؟

کیا ایک شعر کی معنوی گہرائی کو رنگوں اور خطوط میں منتقل کیا جا سکتا ہے؟

کیا لفظوں میں پوشیدہ درد، تصویروں میں بھی اسی شدت کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے؟

یہ سوالات ادب، نفسیات، جمالیات اور بصری فنون کی سرحدوں کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں۔

ڈاکٹر ہاجرہ انور نے اپنے تحقیقی سفر میں انہی سوالات کے جوابات تلاش کیے اور غالب کے منتخب اشعار کو بصری آرٹ کی زبان عطا کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

لفظ سے تصویر تک کا سفر

شاعری اور مصوری بظاہر دو مختلف فنون ہیں، مگر دونوں کا بنیادی سرچشمہ انسانی احساس ہے۔

شاعر لفظوں سے تصویر بناتا ہے جبکہ مصور رنگوں سے شاعری تخلیق کرتا ہے۔

جب شاعر کہتا ہے:

"دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں"

تو قاری کے ذہن میں ایک منظر ابھرتا ہے۔

مصور اسی منظر کو رنگوں، سایوں، اشکال اور علامتوں کے ذریعے کینوس پر منتقل کرتا ہے۔

لیکن غالب جیسے شاعر کی شاعری کو مصوری میں منتقل کرنا آسان کام نہیں۔

غالب کے اشعار محض جذباتی نہیں بلکہ فکری بھی ہیں۔

ان میں فلسفہ بھی ہے، استعارہ بھی، رمز بھی اور تہہ در تہہ معنویت بھی۔

ایسے اشعار کی بصری ترجمانی ایک غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کی متقاضی ہوتی ہے۔

کرب کی جمالیات

ڈاکٹر ہاجرہ انور کے تحقیقی موضوع کا مرکزی نکتہ "Agony" یعنی کرب ہے۔

غالب کی شاعری میں کرب صرف دکھ نہیں بلکہ شعور کی بیداری کا نام ہے۔

ان کے ہاں درد ایک تخلیقی قوت بن جاتا ہے۔

تنہائی تفکر میں بدل جاتی ہے۔

ناکامی معرفت کا دروازہ کھول دیتی ہے۔

اور محرومی انسانی تجربے کی وسعت میں اضافہ کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ غالب کا کرب محض ذاتی نہیں رہتا بلکہ آفاقی بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر ہاجرہ انور نے اسی آفاقی کرب کو بصری اظہار کا موضوع بنایا۔

یہ ان کی فنی بصیرت کا ثبوت ہے کہ انہوں نے دکھ کو محض آنسو کے استعارے میں محدود نہیں کیا بلکہ اسے ایک فکری اور جمالیاتی تجربے کے طور پر پیش کیا۔

ادب اور مصوری کا تاریخی رشتہ

انسانی تہذیب کی تاریخ گواہ ہے کہ ادب اور مصوری کا رشتہ صدیوں پر محیط ہے۔

قدیم غاروں کی تصویروں سے لے کر فارسی مخطوطات، مغلیہ منی ایچر آرٹ اور یورپی نشاۃِ ثانیہ کے شاہکاروں تک، ہر دور میں تصویر اور لفظ ایک دوسرے کے ساتھ سفر کرتے رہے ہیں۔

لیکن اردو ادب میں غالب جیسے پیچیدہ شاعر کی تصویری تعبیر پر تحقیق نسبتاً کم ہوئی ہے۔

اسی لیے ڈاکٹر ہاجرہ انور کا تحقیقی کام محض ایک مقالہ نہیں بلکہ ایک نئی علمی جہت کی بنیاد بھی ہے۔

یہ کام اردو ادب، بصری فنون اور جمالیاتی مطالعات کے درمیان ایک نئے مکالمے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق اور تخلیق کا حسین امتزاج

عام طور پر تحقیق کو منطق اور استدلال کا میدان سمجھا جاتا ہے جبکہ تخلیق کو جذبے اور احساس کا۔

مگر جب تحقیق اور تخلیق ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جائیں تو علم کے نئے افق روشن ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ہاجرہ انور کا مقالہ اسی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔

انہوں نے محض نظری مباحث پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تخلیقی سطح پر غالب کے کلام کے ساتھ ایک عملی مکالمہ بھی قائم کیا۔

یہی ان کے کام کی سب سے بڑی انفرادیت ہے۔

استاد، شاعرہ اور محققہ

ڈاکٹر ہاجرہ انور کی شخصیت کئی جہات کی حامل ہے۔

بطور استاد انہوں نے نئی نسل کے اذہان کی آبیاری کی۔

بطور شاعرہ انہوں نے احساسات کو لفظوں کا پیکر عطا کیا۔

بطور محققہ انہوں نے علم کے نئے در وا کیے۔

اور بطور تخلیقی ذہن انہوں نے ادب اور مصوری کے درمیان ایک خوبصورت پل تعمیر کیا۔

ایسی شخصیات کسی ادارے کا سرمایہ ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی فکری دولت ہوتی ہیں۔

خواتین کی علمی پیش قدمی

پاکستانی خواتین نے گزشتہ چند دہائیوں میں علم و تحقیق کے میدان میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ لائقِ تحسین ہیں۔

ڈاکٹر ہاجرہ انور کی کامیابی اسی روشن روایت کا تسلسل ہے۔

انہوں نے ثابت کیا ہے کہ محنت، لگن، مطالعہ اور تخلیقی جستجو کے ذریعے ہر منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ان کی کامیابی نوجوان طالبات، محققین اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ خواتین کے لیے امید اور حوصلے کا ایک روشن مینار ہے۔

ہزارہ یونیورسٹی کے لیے باعثِ افتخار

ڈاکٹر ہاجرہ انور کی یہ کامیابی ہزارہ یونیورسٹی کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔

جامعات کی اصل شناخت ان کے محققین، اساتذہ اور علمی خدمات سے ہوتی ہے۔

جب کسی جامعہ سے ایسا تحقیقی کام سامنے آتا ہے جو علم کے نئے دریچے وا کرے تو اس کا اثر ادارے کی حدود سے نکل کر قومی علمی منظرنامے تک پہنچتا ہے۔

ڈاکٹر ہاجرہ انور کا تحقیقی کام اسی نوعیت کا ایک اہم علمی اضافہ ہے۔

غالب اور کینوس کا مکالمہ

اگر غالب آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو شاید وہ مسکرا کر دیکھتے کہ ان کے اشعار صرف دیوان کے صفحات تک محدود نہیں رہے بلکہ کینوس پر بھی زندہ ہو گئے ہیں۔

ان کا درد رنگوں میں ڈھل گیا ہے۔

ان کی تنہائی تصویروں میں بولنے لگی ہے۔

ان کے سوالات بصری علامتوں میں ڈھل کر نئی نسل سے ہم کلام ہیں۔

اور ان کا شعری جہان ایک نئے تخلیقی قالب میں جلوہ گر ہے۔

یہی کسی بڑے شاعر کی اصل عظمت ہوتی ہے کہ اس کا فن ہر دور میں نئے معانی پیدا کرتا رہے۔

حرفِ آخر

ڈاکٹر ہاجرہ انور کی پی ایچ ڈی کی تکمیل محض ایک تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ علم، ادب، تحقیق اور فن کے باہمی رشتے کی ایک شاندار مثال ہے۔

انہوں نے ثابت کیا ہے کہ تخلیقی ذہن جب تحقیق کے ساتھ جڑ جائے تو نئی راہیں روشن ہوتی ہیں اور علم کی دنیا میں نئے امکانات جنم لیتے ہیں۔

ان کی یہ کامیابی ان کے اساتذہ، شاگردوں، احباب، جامعہ اور تمام اہلِ ادب و فن کے لیے باعثِ مسرت ہے۔

ہم دل کی گہرائیوں سے انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے علم میں مزید برکت، ان کی تحقیق میں مزید گہرائی، ان کے فن میں مزید نکھار اور ان کی زندگی میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔

ڈاکٹر ہاجرہ انور نے آج ثابت کر دیا ہے کہ جب جذبہ، محنت، مطالعہ اور تخلیقی بصیرت ایک مقام پر جمع ہو جائیں تو رنگ بھی بولنے لگتے ہیں، تصویریں بھی شعر کہنے لگتی ہیں اور غالب بھی کینوس پر زندہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر ہاجرہ انور! آپ کو اس تاریخی اور یادگار کامیابی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے بہت بہت مبارک باد۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !