چی گویرا کا جنم دن ۔۔۔ محسن علی

موت جہاں بھی مجھے آ لے، میں اس کا استقبال کروں گا۔
“ایک ایسا شخص جسے بچپن میں سانس لینا بھی مشکل تھا، بعد میں دنیا کی طاقتور حکومتوں کے لیے ایک دردِ سر بن گیا۔”
14 جون 1928ء کو ارجنٹینا کے شہر Rosario میں پیدا ہونے والے ارنیستو “چے” گویرا کی زندگی کسی ناول سے کم نہیں۔ دو سال کی عمر میں شدید دَمہ (Asthma) نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ کئی راتیں ایسی گزرتیں جب والدین کو لگتا کہ شاید صبح نہ دیکھ سکے۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آب و ہوا تبدیل کی جائے، چنانچہ خاندان Alta Gracia منتقل ہو گیا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں کمزور پھیپھڑوں والا ایک بچہ آہستہ آہستہ ایک غیر معمولی ارادے والے نوجوان میں تبدیل ہونے لگا۔

چے گویرا نے صرف کتابوں سے نہیں، سڑکوں سے بھی تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں اس نے موٹر سائیکل پر جنوبی امریکہ کا طویل سفر کیا۔ یہ سفر محض سیاحت نہیں تھا بلکہ غربت، ناانصافی، بیماری اور طبقاتی تقسیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا تجربہ تھا۔ بعد میں یہی مشاہدات اس کی سیاسی سوچ کی بنیاد بنے۔ اس سفر کی یادیں اس کی مشہور کتاب The Motorcycle Diaries میں محفوظ ہیں۔

1953ء میں اس نے طب کی تعلیم مکمل کی اور ڈاکٹر بن گیا، لیکن اس نے اسپتال کی نسبت میدانِ جدوجہد کا راستہ چنا۔ قسمت اسے Fidel Castro تک لے گئی، جہاں سے ایک نئی داستان شروع ہوئی۔ چند برس بعد وہ Cuban Revolution کے نمایاں کرداروں میں شمار ہونے لگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شخص کو صحت کے مسائل کی وجہ سے فوجی خدمات کے لیے ناموزوں سمجھا گیا تھا، وہ بعد میں بیسویں صدی کے معروف گوریلا جنگجوؤں میں شامل ہوا۔

14 جون 1967ء کو، اپنے آخری جنم دن پر، بولیویا کے پہاڑوں میں موجود چے گویرا نے اپنی ڈائری میں لکھا:

“میں انتالیس برس کا ہو گیا ہوں۔ اب وہ عمر آ رہی ہے جب مجھے گوریلا کی حیثیت سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے، تاہم ابھی تک میں تندرست اور چاق و چوبند ہوں۔”

شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری جنم دن ہوگا۔

چند ماہ بعد، اکتوبر 1967ء میں، Bolivia میں وہ زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ ٹانگوں کے زخم اس قدر شدید تھے کہ چلنا دشوار ہو چکا تھا، لیکن اس کے حوصلے کی کہانیاں آج بھی دنیا بھر میں دہرائی جاتی ہیں۔ 9 اکتوبر 1967ء کو اس کی زندگی کا سفر ختم ہوا، مگر اس کی تصویر، اس کا نام اور اس کی علامتی حیثیت آج بھی زندہ ہے۔

چے گویرا ایک متنازعہ شخصیت ضرور ہے۔ کچھ لوگ اسے آزادی اور مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ کچھ اس کی حکمتِ عملی اور نظریات پر تنقید کرتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ اس نے بیسویں صدی کی سیاسی تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا۔

اگر چے گویرا کو سمجھنا ہو تو صرف اس کی تصویر والی ٹی شرٹ کافی نہیں۔ اس کے خیالات، اس کے سفر، اس کی کامیابیوں اور اس کی غلطیوں کو بھی پڑھنا ضروری ہے۔ اس کی کتابیں The Bolivian Diary اور Guerrilla Warfare آج بھی اس کی سوچ کو جاننے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

“موت جہاں بھی مجھے آ لے، میں اس کا استقبال کروں گا، بشرطیکہ میری پکار کسی اور کان تک پہنچتی رہے اور میرا ہتھیار کسی اور ہاتھ میں منتقل ہوتا رہے۔” — Che Guevara

جنم دن مبارک ہو چی گویرا ❤️ 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !