اللہ اکبر، اللہ اکبر ۔۔۔ آسیہ عمران

  رات کے دو بج رہے تھے۔وہ کروٹیں بدل بدل کر تھک چکی تھی۔نیند کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔بہن کے الفاظ ذہن میں گونج رہے تھے.تمھاری ساس ضرور تمھارے شوہر کی شادی کروائیں گی۔ بہت چالاک ہیں وہ کچھ ایسا جادو کریں گی کہ مان جائے گا وہ بھی اور تم بیٹھی رہنا اپنی خوش گمانیوں میں،تم واقعی انکی چالاکیاں نہیں جانتی۔ وہ خود پریشان اور واہموں کے زیر اثر تھی۔ بار بار دہرا کر اس نے اسے بھی پریشان کر ڈالا تھا۔ دن بھر کی مصروفیات میں سب جھٹکنے کی کوشش کی اور کچھ کامیاب بھی ہوئی مگر عشاء کے بعد بستر پر جیسے ہی لیٹی یہ بات پھر سے ذہن میں آ چپکی پھر لاکھ خود کو سمجھایا۔میرا رب  ہے نا دیکھ رہا ہے سب کچھ۔وہ کچھ بھی غلط نہیں ہو نے دے گا۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم ہر ایک کے لئے اچھا چاہو اور تمھارا رب کسی کو تمھارے ساتھ برا کرنے دے۔نہیں نہیں ہو سکتا۔اولاد کا نہ ہونا کوئی ایسی وجہ نہیں کہ اسے گھر سے بے گھر کیا جائے۔وہ خود کو دلاسہ دیتے سونے کی کوشش کرتی۔کروٹ بدلتی دوسری طرف وہ آواز پھر سے گونجنے لگتی۔آخر تھک کر وہ ایک دم اٹھ بیٹھی پانی پیا۔

             اسے  اپنی بہن پر غصہ آنے لگاجس نے اپنی بات دہرا دہرا کر اسے پریشان کر ڈالا تھا۔ اس نے تہجد کا ارادہ کیا۔اب وہ مسئلے کا حل چاہتی تھی۔اسے یوں سولی پر چڑھ کر زندگی نہیں گزارنی تھی۔کچھ سوچ کر وہ مطمئن ہو گئی۔ اسے اپنا مقدمہ مالک دو جہاں کے سامنے پیش کرنا تھا۔اس کا شوہر ڈیوٹی پر تھا۔ وہ بغیر مداخلت اپنا مقدمہ لڑ سکتی تھی۔ رات کا آخری پہر اور جا?ئےنماز اس نے تکبیر کہی ۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔اللہ اکبر۔ اور اس کے آنسو بہنے لگے دل سے جیسے بوجھ اتر رہا تھا۔وہ رو کیوں رہی تھی وہ تو مقدمہ لڑنے آئی تھی۔ روتی رہی۔روتی رہی۔ مسئلہ تو شاید پہلی تکبیر نے ہی حل کر دیا تھا۔بد گمانی، بے یقینی کی جمی تہہ اکھڑنے لگی تھی۔وہ آخر کن چکروں میں پڑ ی تھی۔بھلا اللہ کی مرضی کے بغیر بھی کچھ ممکن تھا۔ جو اللہ کو منظور تھا تو پھر بھلا اعتراض کسے تھا۔وہ تو تھا ہی اپنا۔وہ ہر حالت میں بہتر ہی کرتا۔اگر اسں کا فیصلہ اسے ہٹانے کا تھا تو بھلا کس کی مجال جو اسے ٹھہر نے دیتا۔یقیناً  اس نے کسی اور جگہ اس سے کچھ بہتر اس کے لئے پہلے سے تیار کر رکھا  ہوگا۔ اگر اس نے اسے روکنا تھا تو کس کی مجال اسے چپہ بھر بھی ہٹا پاتا۔

اسے سورہ الانعام آیۃ ۷۱ یاد آئی۔

وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗ? اِلَّا ہُوَ? وَاِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ

اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

 وہ حدیث بھی جیسے کچھ سمجھا رہی ہو۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں آنحضورؐ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا کہ آپؐ نے فرمایا :’’اے لڑکے

(1) تو اللہ کے حقوق کی حفاظت کر اللہ تعالیٰ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ کے حقوق کی حفاظت کر ہر وقت اللہ کو اپنے سامنے پائے گا۔

 (2)جب تو مانگے تو اللہ ہی سے مانگ

 (3)جب مدد طلب کرے تو اللہ سے ہی کر

(4) اس بات کو جان لینا کہ تمام کے لوگ جمع ہو کر بھی تجھے نفع پہنچانا چاہے تو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں پہنچا سکتا۔ جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے مقرر کر دیا ہے

(5)اور عام لوگ جمع ہوکر بھی تجھ کو نقصان پہنچانا چاہیں تو اسکے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جو اللہ نے لکھ دیا ہے۔

اللہ اکبر۔اللہ اکبر ۔اللہ اکبر۔اللہ اکبر۔وہ باآواز بلند کہنے لگی،کہتی رہی کہتی رہی اور کہتی  چلی گئی۔ اس کا پورا  وجود جیسے تکبیر میں گم تھا ۔ ہر راستہ صاف تھا۔اور وہ ریاضت کے راستے پر دوڑ پڑی۔کسی نے ایک دم جیسے اسے چھوڑا تھا۔ اس نے گہری سانس لی۔اور پھر کب وہ نیند کی آغوش میں پہنچی پتہ ہی نہ چلا۔جب آنکھ کھلی دور کہیں سے فجر کی اذان گونج رہی تھی۔اللہ اکبر۔اللہ اکبر۔اللہ اکبر۔

            وضو کرتے وہ سوچ رہی تھی۔بے یقینی بھی کیسا گناہ ہے۔جو کئی آفتیں لا کھڑی کر تا ہے۔  خدشات بھی تو آفت ہیں، نیند، سکون چین سب چھین لے جاتے ہیں۔ حال کو نگل جاتے ہیں۔ خوشیوں کو  ہڑپ اور نیندیں حرام کرتے ہیں۔اس نے مسکراتے ہوئے خود سے کہا۔مجھے بس تکبیر کی ضرورت تھی۔ایسے میں بس ایک تکبیر کی ضرورت۔اس نے دوپٹہ لپیٹتے کھڑکی سے جھانکا۔ ہر منظر محو تکبیر تھا۔ عالم کی ہمراہی میں وہ بھی جھک گئی کہ اصل کرنے کا یہی کام تھا۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !