جین زی اور ماڈرن سینما۔۔ سائرہ رباب

میں اس پر پہلے بھی کافی لکھ چکی ہوں۔ بالی وڈ ہو یا لالی وڈ، یہ سب بڑی حد تک نیو لبرل کلچرل امپیریلزم کے اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں جس میں ایسی فلمیں، کہانیاں اور آئیڈیالوجیز پروموٹ کی جاتی ہیں جو خاندان، شادی، برادری، مقامی ثقافت اور ہر اُس اجتماعی یونٹ کو کمزور کریں جو فرد سے اوپر کوئی وجود رکھتا ہو۔
ڈاکٹر علی شریعتی کے مطابق سامراجی اور طاقتور نظام اکثر نوجوانوں کی توجہ حقیقی سیاسی، معاشی اور سماجی جدوجہد سے ہٹا کر ایک مصنوعی “sexual war” یا جنسی شناختی سیاست کی طرف موڑ دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنی توانائی جنسی آزادی ، جنسی شناخت 
اور انفرادی خواہشات کے مباحث میں صرف کریں جبکہ اصل مسائل جیسے استحصال، غربت اور طبقاتی ناانصافی پس منظر میں چلے جائیں۔ ان کے نزدیک “جنسی آزادی” کو ایک انقلابی حل بنا کر پیش کرنا دراصل جدید کلچرل امپیریلزم کی حکمتِ عملی ہے، جس کے نتیجے میں حقیقی اجتماعی مزاحمت کمزور ہو جاتی ہے اور اصل جنگوں کی جگہ ایک ایسی جنگ لے لی جاتی ہے جو زیادہ تر مارکیٹ، کنزمپشن اور انتہا پسند انفرادیت کو مضبوط کرتی ہے۔
ان فلموں میں اکثر شعوری طور پر ہر اُس “ممنوع” یا حساس چیز کو نارملائز اور گلیمرائز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے روایتی معاشرے احتیاط یا اخلاقی حدود کے ساتھ دیکھتے تھے۔ اسی لیے بار بار وہی موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں: بے جا برہنگی (nudity)، فری سیکس، عارضی اور غیر سنجیدہ تعلقات (gf/bf culture)، ایل جی بی ٹی کیو اور ٹرانس جینڈر مباحث، سطحی پارٹی کلچر، اور “وومن امپوورمنٹ” کا ایسا ماڈل جو اکثر صرف مارکیٹ، صارفیت اور انتہائی انفرادیت کے تصور تک محدود ہوتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ان موضوعات پر بات کیوں ہو رہی ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ پورے معاشرے کی حقیقی اور مقامی مشکلات کو مسلسل پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ کسان، مزدور، مقامی ثقافتیں، زبانیں، کمیونٹی نظام، طبقاتی مسائل، نوجوانوں کی بے روزگاری، ذہنی دباؤ، دیہی زندگی، ماحولیاتی تباہی، کارپوریٹ مافیا اور ریاست کا گٹھ جوڑ اور عام لوگوں کی اصل جدوجہد اکثر ان کہانیوں میں جگہ ہی نہیں پاتی۔
آج امریکا اور یورپ میں خود ہالی وڈ کے کانٹینٹ کے خلاف بھی بے شمار آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ وہاں بھی لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آخر کیوں ہر چیز کو صرف مارکیٹ، خواہش اور انفرادی آزادی کے زاویے سے دکھایا جا رہا ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ برصغیر میں بھی عوامی رجحانات اس مصنوعی امپوزڈ کلچر کو مکمل طور پر قبول نہیں کر رہے۔ اگر غور کریں تو “کانٹارا”، “پشپا” اور “RRR” جیسی فلموں کی غیر معمولی کامیابی، جبکہ بالی وڈ کے کئی بڑے پروجیکٹس کی ناکامی، اس بات کی علامت ہے کہ بڑی تعداد اب بھی مقامی ثقافت، جڑوں، روایت، کمیونٹی اور اپنے تہذیبی اظہار سے جڑی کہانیوں کو زیادہ پسند کرتی ہے۔ اسی لیے نارتھ انڈیا کے لوگ بھی بالی وڈ کی بجائے ساؤتھ انڈین سنیما کو “پین انڈین” قرار دے رہے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مغرب زدہ اور مصنوعی کانٹینٹ اکثر اوپر سے امپوز کیا جاتا ہے، جبکہ عوام کی بڑی اکثریت اب بھی اپنی ثقافتی شناخت سے جڑی چیزوں میں زیادہ سچائی اور اپنائیت محسوس کرتی ہے۔ کئی بار اس انڈسٹری کے پیچھے فنڈنگ اور مفادات کے ایسے نیٹ ورکس بھی ہوتے ہیں جن پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ جین زی بھی اس معاملے کو بڑے اور تنقیدی تناظر میں دیکھے اور سمجھے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !