عبداللہ حسین کے ناول باگھ کا مطالعہ مکمل ہوا۔ اس میں سب سے نمایاں چیز جو مجھے لگی وہ فکشن کی ایک زرخیز زبان تھی۔ اس میں جنگل میں اسد اور یاسمین کی ملاقات اور پھر گھر واپسی کا حصہ بہت عمدہ ہے اور میری یادداشت کے مطابق اردو فکشن کے یادگار ترین ٹکڑوں میں شامل کیے جانے کے قابل ہے۔
محبت اور ہم دمی کی خواہش اس ناول کی ایک نمایاں تھیم ہے۔ یہاں محبت عورت سے اور ہم دمی عورت اور مرد دونوں سے مطلوب نظر آتی ہے۔ تلاش بھی اس ناول کی ایک اہم تھیم ہے جو یہاں ایک "بوٹی" کی تلاش کے ذریعے واضح کی گئی ہے۔
جنگل میں ملاقات والے حصے کے بعد جیل میں اسد سے سلوک والے حصے میں بھی بہت توانا تجربہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اسد مقبوضہ کشمیر چلا جاتا ہے۔ یہ حصہ سیاسی کومنٹ سے جس گریز یا restraint کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اسے پڑھ کر اور پھر ایک اور جگہ چھاپہ مار کارروائی کا بیان پڑھ کر مجھے ہیمنگوے اور اس کے ناول
For Whom the Bell Tolls
کی یاد آئی۔ ہیمنگوے نے اس ناول میں اسپین کی خانہ جنگی کو اسی گریز کے ساتھ بیان کیا ہے۔
ناول کے اختتام پر ہم کسی بڑے تجربے کے منتظر ہی رہ جاتے ہیں اور ناول کو کافی غیر واضح چھوڑا گیا ہے لیکن اختتام سے آگے کی سمت ناول ہی میں موجود ہے۔ یاسمین اپنی جائیداد بیچ کر اسد کے پاس آ سکتی ہے جس کی تجویز ایک کردار نے اسد کو پیش کی تھی۔
اداس نسلیں میں پہلی عالمی جنگ اور جلیانوالہ باغ کے زمانے کا بیان بہت پرقوت تھا مگر آگے چل کر یہ ناول کافی غیر متوازن ہو گیا تھا۔ باگھ میں بھی نصف حصے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سیر سے ناول غیر متوازن ہونے کا خدشہ تھا لیکن یہ ناول اس سے بڑی حد تک بچ گیا۔ اس ناول کا قد کاٹھ ہیمنگوے کے فار ہوم دا بیل ٹولز جتنا تو ہے اور اردو فکشن میں یہ بہت غنیمت ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا اطہر بیگ کے پہلے ناول غلام باغ میں باگھ کی طرح "حکیم اور اس کی بیٹی" موجود ہے اور دوسرے ناول میں ایک مغوی پر "تالے چابی کا عذاب" دکھایا گیا ہے۔ یہ دونوں چیزیں باگھ میں موجود ہیں مگر اطہر بیگ نے انھیں بالکل مختلف اور معاصر فکشن زبان میں لکھا ہے۔
باگھ کی زبان بہت potent ہے جس میں اکثر اسد فلسفی بھی بن جاتا ہے مگر اس سے زیادہ ایک حسی آدمی ہی رہتا ہے جیسا کہ عام انسان کو ہونا چاہیے۔ ناول نگار کو عورت سے زیادہ مردانہ حسن کے بیان میں دلچسپی ہے۔ یہ بھی اردو میں ایک نئی چیز ہے۔ اسد، یاسمین اور ریاض یادگار کردار ہیں۔ بہرحال یہ ناول کئی حوالوں سے اردو فکشن کی ایک یادگار تخلیق ہے۔اور پھر ایک شیر جو اس تمام ناول کے پیچھے ناموجودی میں بھی موجود ہے
A lion is lurking in the background all along.
اور یاد رہے کہ اسد کا مطلب بھی شیر ہے۔
