اردو ناول میں صنفی کردار نگاری ۔۔ معصومہ زینب

میں اردو ادب کی باقاعدہ طالبہ نہیں ہوں، صرف ایک قاری ہوں، اس لیے یہ سوال کسی حتمی رائے کے طور پر نہیں بلکہ ایک تجسس کے طور پر کر رہی ہوں۔

گزشتہ چند برسوں میں اردو کے مختلف ناول اور افسانے پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک سوال بار بار آیا ہے۔ مجھے اکثر ایسا محسوس ہوا کہ مرد کرداروں کو جذباتی، فکری اور نفسیاتی پیچیدگی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جبکہ خواتین کے کردار نسبتاً محدود خانوں میں بند نظر آتے ہیں۔ وہ یا تو معصوم ہیں، یا منفی، یا محض کسی مرد کردار کی زندگی میں ایک کردار ادا کرنے کے لیے موجود ہیں۔

خاص طور پر مجھے یہ محسوس ہوا کہ ماں، بہن، بیوی یا محبوبہ کے کردار اکثر اپنی الگ داخلی دنیا کے ساتھ سامنے نہیں آتے۔ مائیں گھر سنبھالتی ہیں، بہنیں معاونت کرتی ہیں، بیویاں یا محبوبائیں کسی مرد کردار کے جذباتی سفر کا حصہ بنتی ہیں، لیکن ان کی اپنی فکری یا نفسیاتی پیچیدگی کم دکھائی دیتی ہے۔

ایک اور چیز جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا، وہ یہ ہے کہ اردو ادب کے بہت سے مرد کرداروں کی زندگی میں متعدد خواتین موجود ہوتی ہیں، لیکن ان تعلقات میں اکثر گفتگو، مشترکہ دلچسپیاں، فکری تبادلہ یا انسانی رفاقت کم نظر آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عورت ایک مکمل انسان کے بجائے اکثر محبت، یاد، خواہش یا محرومی کی علامت بن کر رہ جاتی ہے۔

اسی طرح مجھے کئی ناولوں میں یہ بھی محسوس ہوا کہ اگر کسی عورت کا کوئی ماضی ہو، چاہے وہ صرف ایک جذباتی وابستگی ہی کیوں نہ ہو، تو اس کے کردار کو ایک خاص زاویے سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ مرد کرداروں کے ماضی کو اسی شدت سے موضوع نہیں بنایا جاتا۔

میرا ایک اور سوال خواتین کی جذباتی نمائندگی سے متعلق ہے۔ ہماری معاشرتی زندگی میں خواتین گھر، خاندان، بچوں، والدین اور سماجی تعلقات کا بہت بڑا بوجھ اٹھاتی رہی ہیں۔ تاریخی طور پر بھی وہ صرف گھروں تک محدود نہیں رہیں بلکہ کھیتوں، کاروباروں اور معاشرتی ڈھانچوں میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود اردو ادب میں مجھے نسبتاً کم ایسے خواتین کردار ملے جو اپنی مکمل فکری، جذباتی اور عملی قوت کے ساتھ سامنے آتے ہوں۔

میں “مضبوط خاتون کردار” سے مراد یہ نہیں لے رہی کہ وہ غیر معمولی طاقت یا اختیار رکھتی ہو، بلکہ صرف یہ کہ وہ ایک مکمل انسان محسوس ہو؛ جس کی اپنی خواہشات، تضادات، فکری زندگی، اخلاقی کشمکش اور داخلی دنیا ہو۔

مثال کے طور پر دنیا کے دوسرے ادب میں بعض خواتین کردار گھر کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی مکمل انسان محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی صرف کسی مرد کردار کے گرد نہیں گھومتی بلکہ ان کا اپنا وجود بھی واضح ہوتا ہے۔ اردو ادب میں مجھے ایسے کردار نسبتاً کم ملے ہیں، اگرچہ یقیناً کچھ استثنا موجود ہیں۔

میرا سوال یہ ہے:

کیا یہ محض میرا تاثر ہے، یا اردو ادب میں واقعی خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے کوئی تاریخی، ثقافتی یا ادبی رجحان موجود ہے؟

کیا دوسرے قارئین نے بھی ایسا محسوس کیا ہے؟

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !