یہ ایک قابلِ غور بات اور بڑا المیہ ہے کہ کس طرح نوجوانوں کی توجہ حقیقی مسائل اور مظالم سے ہٹا کر اس نسبتاً کم اہم مسئلے کی طرف مرکوز کر دی گئی۔ جب والدین اور بزرگ “جنسی آزادی” کے تصور کی مزاحمت کرتے ہیں اور نوجوان اس کے حق میں اصرار کرتے ہیں تو سماج میں ایک بڑی “ sexual war” جنم لیتی ہے۔ بزرگوں کے نزدیک ہر مسئلے کی جڑ یہی “جنسی آزادی” ہے، جبکہ نوجوان کے لیے یہی آزادی نجات کا واحد ذریعہ، تہذیب و ترقی کی علامت اور حقیقی آزادی کی نوید بن جاتی ہے۔
نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ جنسی آزادی کی جنگ دراصل ایک “اینٹی کالونیل وار” ہے جو سامراجی اور استعماری قوتوں کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ لیکن شریعتی کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے نزدیک یہ “سیکشوئل وار” خود سامراج کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، جس کا مقصد ان تمام مزاحمتوں اور تحریکوں کے امکانات کو روکنا ہے جو سماج میں موجود استحصال، نا ہمواری اور دیگر مسائل کا خاتمہ کر سکتی تھیں۔
جیسا کہ افریقہ اور ایشیا میں دیکھا گیا کہ کس طرح “جنسی آزادی” کی جنگ کو ان تمام جدوجہدوں کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا جو سماج کے اندر سیاسی اور معاشی بہتری لا سکتی تھیں۔ نوجوانوں کی تمام تر توانائی، جذبہ اور توجہ کا رخ اس مصنوعی لڑائی کی طرف موڑ دیا گیا، جو دوسرے تعمیری اور اجتماعی کاموں میں صرف ہو سکتی تھی۔
شریعتی کے مطابق “جنسی آزادی” کا تصور انسان کو باٹم یعنی نچلی سطح تک محدود رکھتا ہے اور اسے ٹاپ یعنی اوپری سطح تک آنے ہی نہیں دیتا۔ گزشتہ چند دہائیوں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افریقہ اور ایشیا کے جن حصوں میں یہ جنگ جیت لی گئی، وہاں مقامی مسائل اور استحصال کی صورتیں جوں کی توں برقرار رہیں۔ غربت، سماجی نا ہمواری، معاشی و سیاسی ابتری، کرپشن اور پسماندگی میں رتی برابر بھی تبدیلی نہ آئی۔ البتہ اس کے اثرات “کاسمیٹک کنزمپشن” کی 1955ء تا 1965ء کی رپورٹس سے دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں یہ کنزمپشن تقریباً پانچ سو گنا بڑھی، جبکہ سماجی مسائل اور “misery” میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جس عمر میں نوجوانوں کو اسکولوں اور کالجوں میں کتابیں پڑھنی چاہییں، علم حاصل کرنا چاہیے، اور جب ان کی ذہنی، عقلی اور تنقیدی صلاحیتیں پروان چڑھ رہی ہوتی ہیں، جب ان کے اندر سماجی، سیاسی اور انسانی شعور نشوونما پا رہا ہوتا ہے، اور وہ عصرِ حاضر کے انسان کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے قابل ہو رہے ہوتے ہیں، جب “ہیومن آئیڈیاز” اور نئے تصورات ان کے اندر جنم لے رہے ہوتے ہیں۔۔۔ ٹھیک اسی مرحلے پر ان کی تمام تر توجہ اور کاوشوں کا رخ “جنسی آزادی” کے محدود آئیڈیل کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔
پھر ان کی تمام توانائی “جنسی آزادی” سے متعلق مذاکرات، مباحث، مکالمات اور آرٹیکلز پر صرف ہو جاتی ہے، اور نتیجتاً ایک ہی مسئلے تک محدود رہنے کی وجہ سے سماج کئی دہائیاں پیچھے رہ جاتا ہے۔
اسی طرح اجتماعی جدوجہد کا راستہ روکنے کے لیے مسائل کو بھی مختلف “فریگمنٹس” میں تقسیم کر دیا گیا۔ یعنی سماج کے ہر مسئلے کو الگ الگ خانوں میں بانٹ دیا گیا: انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، خواجہ سراؤں کے حقوق، ہم جنس پرستوں کے حقوق، اور دیگر مختلف شناختی مباحث۔ اسی سلسلے میں “جنس و شناخت کی سیاست” ( جیسےlgbtq) بھی ایک مرکزی بحث بن کر ابھری، جہاں نوجوان اکثر اپنی توانائی وسیع سماجی اور معاشی ڈھانچوں کے تجزیے اور تبدیلی کے بجائے شناختی مباحث، اصطلاحی اختلافات اور نظریاتی مناظروں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ یوں نوجوانوں کی بڑی تعداد ان جزوی اور fragmented مباحث میں اس طرح محصور ہو جاتی ہے کہ وہ ان بڑے نظامی سوالات تک پہنچ ہی نہیں پاتے جو دراصل ان تمام مسائل کی جڑ ہوتے ہیں، اور نتیجتاً اجتماعی اور مربوط مزاحمتی سیاست کمزور پڑ جاتی ہے۔
