جوں جوں ریل گاڑی آگے بڑھتی جاتی تھی منظر بدلتا جاتا تھا۔ کچھ فاصلے پر آگے ریلوے اسٹیشن کمر مشانی تھا۔ 1925 کی ایک بھیگی صبح جب سورج سیاہ سفید بادلوں کی اوٹ میں منہ چھپائے اداس دکھائی دیتا تھا۔ تب نیرو گیج لکی مروت برانچ ریلوے لائن پر ریل گاڑی چلتی ہوئی ریلوے اسٹیشن پر آ کر رکی۔ ریل گاڑی سے کچھ مسافر اترے۔ ان مسافروں میں دو ادھیڑ عمر میاں بیوی بھی تھے۔
مہر بانو پیشانی پر برسوں کی جھریاں اور بالوں میں سفیدی لیے تیس سال بعد اپنے علاقے میں قدم رکھ رہی تھی۔ آج سے تیس برس پہلے یہ جگہ کچے گھروں سے آباد تھی۔ مگر آج یہاں کا منظر اجنبی تھا۔ مہر بانو نے پتھر اور پختہ اینٹوں کے ڈھانچے کو غور سے دیکھا اور اجنبیت کو محسوس کیا۔ پھر وہ گٹھڑی کو دوپٹے میں دبائے بوجھل قدموں سے اسٹیشن کی مشرقی سمت بے اختیار بڑھنے لگی۔ وہ ایسے آگے بڑھ رہی تھی جیسے کوئی مقناطیسی طاقت اسے اپنی طرف کھینچے جا رہی ہو۔ مہر بانو کو پگڈنڈی اترتا دیکھ کر تاج بابا نے پیچھے سے آواز لگائی مگر مہر بانو کے خیالات کا تسلسل اور بڑھتے قدم نہ تھم سکے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر مہر بانو جھاڑی نما درخت کی طرف بڑھتی رہی۔ تاج بابا ٹین سے بنے چھوٹے سے صندوق کو سر سے اتار کر مہر بانو کو کھڑا آوازیں دے رہا تھا۔ اس کے خیال میں مہر بانو شاید رستہ بھول گئی تھی۔ ریل گاڑی کچھ دیر رکی اور کچھ دیر بعد سیٹی بجاتی دھواں اگلتی آگے بڑھ گئی۔ چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن پھر سے ویران ہو گیا۔ انسان کو اپنا بچپن اور بچپن کے رشتے کبھی نہیں بھولتے۔ یہ بچپن راہ چلتے کبھی کہیں بھی کسی وجہ سے پوری شد و مد سے یاد آنے لگتا ہے۔ مہر بانو جھاڑی نما کیکری کے درخت کی شاخوں کو چھو کر دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ جھولا جھلانے کا منظر ابھر رہا تھا۔ بچپن میں کبھی اس کے بابا اسی جگہ گھنی ککریوں پر بچپن میں اسے جھولا جھلایا کرتا تھا۔ اج نہ وہ بابا اس دنیا میں تھا نا وہ جھولا، بس یہی ایک ککری تھی جو اس کے بچپن کی یادوں کا محور تھی۔ یہ ککری بہت اداس دکھائی دیتی تھی۔ زمانے کے ارتقا کے ساتھ اب اس ککری کی شکست و ریخت کا مرحلہ جاری تھا۔ پہاڑی علاقے میں ایسی جھاڑیاں عام تھیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بالاآخر اچھے خاصے درخت کی شکل اختیار کر لیتی تھیں۔ اس کی لچکدار شاخیں تنے بن کر ایک چھتری کی شکل اختیار کر لیتے تھے۔ بادلوں کی فضا میں بدلتی شکلیں اور تیز ہوا کے تھپیڑے رانوں کے بوڑھے بدن پر کوڑے برسا رہے تھے۔ مگر اندر کی دنیا میں جو گرداب اٹھ رہے تھے ان کا شور کہیں زیادہ تھا جو مہر بانو کو اداسی کے بحر قلزم میں ڈبوئے جا رہے تھے۔ ککری کے اوپر آج بھی کچھ پرندوں کے گھونسلے نظر آ رہے تھے۔ جانے اس ککری پر کون کون سے پرندے آئے اور گھونسلے بنا کر نئی نسل کو پروان چڑھا کر یہاں سے رخصت ہوئے۔ یہ بہت ہی قدیم ککری کا درخت تھا جسے آندھیوں نے توڑ کر جھکا دیا تھا۔ سرد ہوا چل رہی تھی۔ تاج بابا بوڑھے بدن کو ڈھانپے اسٹیشن کے ایک کونے میں دبک کر بیٹھ رہا۔ وہ اپنی بوڑھی بیوی کی ذہنی کیفیت بھانپ چکا تھا۔ تاج بابا کی یادوں کے دریچے بھی کھلنے لگے تھے۔ اسٹیشن کے مختصر سے ہال کے در دیوار کو ہاتھوں سے ایسے ٹٹولنے لگ گیا جیسے اپنا ماضی کریدنے لگا ہو۔ مقامی آبادی سے دور افتادہ یہ ریلوے اسٹیشن چند ریلوے کے ملازموں کی وجہ سے کچھ آباد نظر آتا تھا۔ اسٹیشن کے عقب میں مکڑوال کی پہاڑیوں کی کانوں سے نکلے کوئلے کے انبار اور ان کے گرد گرد گرد گرد جھاڑیوں کے جنگل کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ تیز ہوا کے جھونکے بارش کی پھوار اڑائے اسٹیشن کے در و دیوار سے ٹکرانے لگے تھے۔ ریلوے اسٹیشن کے سامنے بلند جھاڑیوں کے پار نینو زئی قبیلے کی جھونپڑیوں سے دھوئیں کے بھبھوکے فضا میں بکھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ مہر بانو کے چہرے کی جھریوں پر بارش کی بوندیں ندی کی طرح بہہ رہی تھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر کانپتے ہاتھوں سے ککری کی اوٹ میں مٹی میں دبے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے یوں لپک کر اٹھائے جیسے کوئی گم شدہ خزانہ ہاتھ آ گیا ہو۔ اس کی نظریں ادھر ادھر تلاش میں تو پہلے ہی سرگرداں تھیں لیکن جونہی ککری کے آس پاس مٹی کے ڈھیروں کی طرف اس نے نگاہ دوڑائی تو اس کو چھوٹے چھوٹے کنکر نظر آئے۔ جب ان کو ہاتھوں میں اٹھانے کی کوشش کی تو وہ مٹی کے ٹوٹے برتنوں کے وہ ٹکڑے تھے جن پر اس کے بنانے والے اور اس کو استعمال کرنے والوں کے ابھی تک نشانات محسوس کیے جا سکتے تھے۔ ان ٹکڑوں کی بو محسوس کرتے ہوئے اس کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ ایسے لگا جیسے مٹی کے برتنوں کے ان ٹکڑوں پر اس کے اماں ابا کے ہاتھوں کی مہک آج بھی تازہ ہو۔ آج سے 50 سال پہلے اسٹیشن کی جگہ اس کے بابل کی گارے اور پتھر سے بنی جھگی آباد تھی۔ جہاں اس کے اماں ابا اور اس کے دادی دادا آباد تھے۔ وہ ابا کے پہاڑی بکریوں کے ریوڑ کو چھڑی سے ہانکا کرتی تھی۔ مگر اج مہربانو کے بابل کی کٹیا کی جگہ اسٹیشن کی خاموش عمارت اور اس کے پہلو میں ایک اداس ککری کھڑی تھی۔ وقت کتنی تیزی سے بدلتا ہے اور یہ زمین کتنی شکلیں بدلتی ہے مہر بانو نے آج یہاں اتر کر محسوس کیا تھا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں پر آج مٹی کے ڈھیر پڑے ہیں۔ اس کے خاندان کے کبھی یہاں گھروندے ہوا کرتے تھے اور جیتے جاگتے خوابوں سے بھری آنکھوں والے لوگ یہاں آباد ہوا کرتے تھے۔ مہر بانو کچھ مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے گٹھڑی میں باندھے اور تاج بابا کے ساتھ ریلوے اسٹیشن سے اتر کر کپڑوں کے ساتھ یادوں کی گٹھڑی سنبھال کر چل پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
