"تھا جس کا انتظار، وہ شاہکار آ گیا".
کمپنی کی مشہوری کے واسطے کتاب کے دام اگرچہ نہایت موزوں یعنی بالکل سستے رکھے تھے مگر کوئی شنوائ نہیں ہوئی۔ پھر"ایتر کے گھر تیتر، باہر باندھوں کہ بھیتر" کے مصداق مال مفت دل بے رحم" کی طرح بالکل بلا معاوضہ دوستوں کو نقد دل و جان کی طرح لٹا دینے کا ارادہ باندھ لیا۔
بیگم نے لاکھ لاکھ سمجھایا کہ"آئے ہائے، یہ نگوڑی کتاب کوئی پنج سورتہ تو ہے نہیں کہ اسے فی سبیل اللہ جہان بھر میں بانٹتے ہو۔ ارے کم از کم اپنا نفع نقصان ہی دیکھ لو۔ اب تو لاگت لگاوٹ ہی نگوڑی نکل آوے تو غنیمت جانیو ۔
چندے جگری یاروں دوستوں پیاروں کا بھرم بھی کھل جاوے گا۔ آنکھوں بندھی پٹی اتر جاوے گی۔
ساری حقیقت ظاہر ہووے گی کہ کتنے پانی میں ہو۔اجی میں نے کہا: بڑےآکڑ باز طرم خان بنے پھرتے ہو۔ ٹکے کی دو دو۔ جب کتاب کا بهاو بهاونا کوئی پوچھے گا تب مانوں گی"
ہم نے جوابا" کہا
"بیگم خوامخواہ بات کو بیکار مت بڑهاو۔
"ایاز قدر خود بشناس". ایرے غیرے پچ کلیان لوگوں میں ہماری کیا اپچ۔بعون اللہ، لوگ باگ ہمیں پڑهیں گے تو خود ہی پہچان جائیں گے۔
"ایک آنکھ پھوٹتی ہے تو دوسری پہ ہاتھ رکھتے ہیں"۔۔۔
اور یہ ہماری کتاب کے بارے میں بھی ناشدنی، بدشگونی کی باتیں بھلا کیوں کرتی ہو؟
ہم نے اچھے بھلے عالمانہ انداز میں نہایت دل جمعی سے متاثر کن و دلنشین تحریریں لکھی ہیں۔ بقول شخصے نثر میں ادبی زمینوں کے طبق آسمانوں تک اڑا دیئے ہیں۔"
ہم نے اب ایسی بھی کیا قاضی کی گدهی چرائ ہے" کہ تم ریشہ خطمی ہوئی جاتی ہو۔
باقی رہے ہمارے دوست، تو خود دیکھ لینا، وہ ایسی عمدہ کتاب مفت پا کر باغ باغ ہو جائیں گے اور انشاءاللہ ایسی ایسی دل کو لگتی، لاجواب باتیں تبصرے میں لکھیں گے کہ جناب کی طبیعت شریف صاف ہو جائے گی۔ "قبول خاطر و لطف سخن خدا داد است"
ہماری تعریف میں ایسی ایسی کہیں گے کہ دهوئے نہ چھوٹے۔
"سونے کا گڑوا، پیتل کی پیندی"
جیسی روح ویسے فرشتے۔
بیگم نے محلے والیوں کو سنا کر کہا!
اجی کلجگ ہے کلجگ"
یہ جو تم ایینچن چھوڑ گھسیٹن میں پڑے رہتے ہو". اچھے بھلے کمائ کے دنوں میں خوامخواہ بیکار کی خرافات لکھ لکھ کر کورے کاغذ کالے کرتے رہتے ہو، انتہائی واہیات بکواس لکھنے میں اگواکار بنے حساب دوستاں در دل رکھے پھرتے ہو، اول درجے کے احمق الذی ہو۔
ہائے میری پھوٹی قسمت کے کارن ماں باپ نے کس نکھٹو کے پلے باندھ دیا۔ وگرنہ کون احمق لٹ کھسٹ کر بھی یوں خوش ہوتا ہو گا؟
"کمانی نہ پہیا، گاڑی جوت مورے بھیا"
اپنے کے یہاں خیر سے سفید پوشی کے بھرم تو چھپتے نہیں، آپ چلے ہیں حاتم طائی کی قبر کو لات مارنے۔
غضب خدا کا۔۔ ارے کہے دیتی ہوں، تم لاکھ لاکھ شبد جوڑو، تب بھی نام کی جھوٹی پزیرائی بھی کوئی نہیں کرنے کا۔
آخر کو گھوم گھما کر دال بھات تو مجھ نگوڑی نے ہی رکھنا ہے تمھارے آگے۔
جب بیگم نے اپنے دل کے سارے پھپھولے پھوڑ لیے تو ہم کسی لدو گدھے کی ماند کھسیانے سے ہو کر، جلے بجھے ڈاک خانے کی سمت روانہ ہوئے۔
وہ دن اور آج کا دن۔۔
نہ کسی دوست نے شکریہ کہا، نہ تعریف کے ٹوکرے برسائے۔ آدهی کتابیں بندر بانٹ میں نمٹ گئیں، آدهی گیراج میں اپنی قسمت کو روتی ہوئی اب تک پڑی سڑ رہی ہیں۔ اسے تو اب کم بخت پنساری اور کباڑی بھی نہیں لیتے۔
