بیٹوں کی نفسیات۔۔۔۔ فرح رضوان

بڑے مجرم بڑے ادارے نہیں پکڑ پارہے ہیں تو خدارا چھوٹے مجرموں پر نظر رکھیں اور ان پر نظرکرم سے گریز فرمائیں ۔ 
۔۔۔۔۔
کوئی بھی ذہنی نفسیاتی اور جری مجرم بڑا ہوتے ہی مجرم نہیں بنتا بلکہ بچپن میں والدین کی غفلت جھگڑوں مارپیٹ اور خصوصاً ماؤں کے بے جا لاڈ اور "چھوٹی چھوٹی" بدزبانیوں زیادتیوں ڈھٹائیوں کو اپنی ممتا اور سستی کے ہاتھوں اگنور کرنے پر ان کی بے خوفی بڑھتی جاتی ہے ۔ 
۔۔۔۔۔
بیٹا پیدا ہونے کا تاج پہننا پہنانا بھی کسی بھی معاشرے میں مجرموں کی بڑھوتری کا باعث بن سکتا ہے ۔ 
قرآن کریم میں استعارہ استعمال کیا گیا ہے جس میں مرد کو کسان اور عورت کو کھیتی سے تشبیہہ دی گئی ہے ،کامن سینس تب کی خواتین میں بھی موجود تھا جن کے اقوال ملتے ہیں کہ زمین تو وہی اگاسکتی ہے جس کا بیج کسان بوتا ہے جبکہ سائنس کئی سال پہلے مسئلہ حل کرچکی کہ بیٹا پیدا ہونے یا نہ ہونے کا سہرا باپ کے سر جاتا ہے اس میں خاتون کا نہ ہی قصور ہے نہ ہی اعزاز تو بات ختم۔۔۔۔۔ ہوسکتی تھی لیکن لوگ سنیں سمجھیں جذب کریں اور ہٹ دھرمی یا جہالت نہ کریں تب ہی بات بن سکتی ہے ۔ 
وہی پرانے گھسے پٹے رونے ،مسائل،دھمکیاں،خواہشات اور ارمان اور عزت کے معیار اب بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں جو بیٹے کی پیدائش سے وابستہ ہیں ۔
پھر ایسے مہان آقاؤں کو جب جنم دیا جاتا ہے تو انہیں سر پر دماغ پر سوار کیا اور کروایا بھی جاتا ہے ۔ 
عموماً ایسے گھرانوں میں ایک ہی ماں اپنی بیٹیوں کی اچھی تربیت کرتی نظر آتی ہے کہ وہ بچیاں بچپن سے پڑھتی بھی اچھا ہیں ،تمیزدار بھی بنائی جاتی ہیں سلیقہ شعار بھی،وہ گالی نہیں دے سکتیں کیونکہ یہ بری بات ہوتی ہے لیکن اپنے سے چھوٹے بھائیوں کی موٹی موٹی گالیاں سن لینا برداشت کرلینا ان سے پٹ جانا ان کے نخرے اٹھانا انہیں بٹھا کر کھلانا ان کے فرائض منصبی میں ان کی گھٹی میں شامل کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔یہ ہے ہمارے "مسلم" معاشرے کی بنت جہاں رب العزت نے عباد الرحمٰن کی شرائط اور نشانیاں جو بھی بتائی ہوں یہ خواتین و حضرات یہی سمجھتے اور سمجھاتے ہیں کہ "مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں " مسلم مرد !متقی مرد !جنتی مرد! کیا ایسے ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز بھی نہیں ۔
قرآن سمجھ نہیں آتا پڑھا نہیں جاتا لیکن تاریخ تو سمجھ آتی ہے نا؟ اس معاشرے میں پنپا سلطانہ ڈاکو ہی تھا نا جو اپنی ماں کا کان چبا گیا تھا کہ اگر بچپن میں ہی جب یہ کان ان شکایتوں پر دھرے جاتے جو ارد گرد کے لوگ میری ماں سے کرتے تھے اور تب میری سرزنش کی جاتی تو نہ میں ایسے جرائم کرتا نہ ان کی ایسی سزا ملتی ۔ 
آج بھی انگنت سلطانہ ڈاکو ان ماؤں کی آغوش میں پنپ رہے ہیں جو اپنی بنیادیں مضبوط کرنے کے لئے خود اپنے بیٹوں کو اکھڑ بدتمیز مونہہ پھٹ ہاتھ چھوٹ بناتی ہیں کہ خود ان کے باپ جوان ہوتے بیٹے سے دب کر رہنے میں عافیت ڈھونڈتے ہیں ۔ 
طویل تحقیقات کی ضرورت ہی نہیں سوشل ویب سائٹس پر موجود اولاد نرینہ کی دعاؤں اور وظائف کے اشتہارات ہی ہمارا کچھا چٹھا کھول کر رکھ دیں گے کہ زینب اور نور مقدم کے قاتل ،موٹروے کے ناہنجار ہوس پرست ،نوکری کے نام پر مظالم کی انتہا کرنے والے شیاطین پلتے کہاں ہیں ،پروان کیسے چڑھائے جاتے ہیں ۔ 
قربانی کے جانورجو اب کثرت سے سڑکوں پر بدکے اور بپھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ان کے پیچھے بھی اکثر اوقات دس بارہ پندرہ سال کے مجرم لڑکے دکھائی دیتے ہیں جن کی ایذا رسانی کے بعد یہ مویشی بے قابو ہوجاتے ہیں۔ 
ایسے معاشرے میں بے لگام انٹرنیٹ کی سہولت ،شراب،شباب،نشہ عام کردینا تعلیم اور حقیقی دین سے دور کردینا،قتل و غارت زنا تیزاب زدنی کسی پر کوئی روک نہیں کوئی سزا نہیں یہ سب بلا شبہ سوچی سمجھی سازش ہی کا نتیجہ ہی ہے ،تو ایسے میں فہم و ادراک رکھنے والے سبھی افراد کی زمہ داری تو مزید بڑھ جاتی ہے نا! ہم کیا کر رہے ہیں ؟ ہم والدین کی تربیت کے لئے عملی اقدامات کیا کررہے ہیں ؟ کیا کرسکتے ہیں ؟ کیا آپ صرف اپنے گھر والوں اور بچوں کی تربیت پر مکمل توجہ دے پارہے ہیں ؟ کیا آپ اپنے گھر والوں اور بچوں کی تربیت کے علاوہ اردگرد کے افراد کی تربیت کو بھی اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں ؟ یا آپ اپنے کام میں اس کی تھکن دور کرنے میں ،اپنے سکرین ٹائم میں اتنے مصروف و منہمک ہیں کہ نہ اسلامی فریضہ ادا کر پارہے ہیں نہ اخلاقی ذمہ داری نبھا پارہے ہیں اور بلیم گیم چیمپئن شپ ٹرافی کے فائنل میں پہنچ چکے ہیں ؟ 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !