فلم کے شروع ہونے میں ابھی تک بہت وقت تھا کہ سگریٹ فروش سینما پہنچ گیا۔ سینما کے سامنے والی جگہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ بہت زیادہ لوگ: مرد، عورت، بوڑھے، جوان جیسے سارا شہر فلم دیکھنے کے لئے آیا ہو، حتیٰ سینما کے سامنے سے کچھ اس طرف میدان پر بھی فلم کے لئے منتظر لوگوں کے مجمعے دکھائی دے رہے تھے۔
سگریٹ فروش کو معلوم تھا کہ نئی فلم لگی ہے، اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ہر نئی فلم کے لگنے پر لوگوں کا زیادہ ہجوم ہوتا ہے اور اس فلم کے سریلے گانے تو خود اس نے بھی پچھلے چند مہینوں سے شہر کے تقریباً ہر ریسٹورنٹ سے سنے تھے لیکن اتنے زیادہ لوگوں کے آنے کا وہ پھر بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔ بے یقینی کے ساتھ خود سے کہہ دیا:
"۔۔۔اتنے زیادہ لوگ؟ اس سردی میں؟۔۔۔"
اور میٹھی امیدیں دل میں پیدا ہوگئیں۔ اس نے سوچا کہ اتنے زیادہ لوگوں میں ضرور بہت زیادہ سگریٹ بکیں گے۔ اپنی سوچ سے لطف اندوز ہوگیا، خوشی سے سینما کے دونوں طرف ٹکٹ گھر کو دیکھا۔ یہاں تو پھر اور بھی زیادہ بھیڑ تھا، لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح ایک دوسرے کے کندھوں پر چڑھتے اور ناتمام شور و غل اور دھکم پیل میں یہ کوشش کررہے تھے کہ ٹکٹ خرید لیں۔ سینما کے سامنے سے کچھ اس طرف میدان پر بھی ٹکٹ بک رہی تھیں لیکن وہ بلیک میں تھے جو اصلی قیمت سے چار پانچ گُنا زیادہ مہنگی تھیں اور یہ قیمت ادا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی لیکن درحقیقت اس کے باوجود بھی ٹکٹوں کا بازار خوب گرم تھا۔
سگریٹ فروش اسی طرح اپنی جگہ پر کھڑا تھا، چند لمحے تعجب اور خوشدلی سے سینما کے سامنے ہجوم کو چھپکے سے دیکھا، پھر اپنے چھوٹے سے میلے ہاتھ منہ تک اوپر کر کے انہیں سانسوں سے گرم کردیا، جب اس کی نرم انگلیاں کچھ گرم ہوگئیں تو اپنی پرانی کوٹ کے جیب میں ہاتھ ڈال کر سگریٹ کا ایک کھلا ہوا ڈبہ نکالا۔ ڈبے کا منہ کھول دیا، ایک دو سگریٹ آدھے ڈبے میں، آدھے ڈبے سے باہر نکال دیے اور پھر سامنے لوگوں کے ہجوم میں داخل ہوگیا۔
ہر جگہ پر جب لوگوں کا جمِ غفیر سامنے آتا تو وہ رکھ جاتا، سگریٹ ان کے سامنے کر دیتا اور پتلی سی معصومانہ آواز میں کہہ دیتا:
- "سگریٹ، سگریٹ۔۔۔ یہ ہے تازہ سگریٹ، فلٹروالا سگریٹ، مزیدار سگریٹ!
جب وہ ایک دانہ سگریٹ بیچ دیتا تو خوشی سے سگریٹ لینے والے سے پیسے لے کر کوٹ کی بغل جیب میں ڈال دیتا، پھر سامنے چل کر لوگوں کے ایک اور مجمع تک پہنچ جاتا تھا، پھر آواز لگا دیتا :
- "سگریٹ، سگریٹ۔۔۔ یہ ہے تازہ سگریٹ، فلٹروالا سگریٹ، مزیدار سگریٹ! ۔۔۔لے لیں سگریٹ۔۔۔۔"
سگریٹ فروش اسی طرح کھڑے لوگوں کے ایک مجمع سے دوسرے تک جاتا، ہر جگہ سگریٹ بیچنے کی کوشش کرتا اور جب فلم شروع ہو رہی تھی تو حقیقت میں اس کا اندازہ صحیح نکلا تھا، اس کے بہت زیادہ سگریٹ بک گئے تھے۔ وہی پہلا کھلا ڈبہ سارا بِک گیا تھا، دوسرے ڈبے کے سگریٹ بھی آدھے سے زیادہ بیچ دیے تھے۔
سگریٹ فروش اس وجہ سے خوش تھا لیکن کچھ تھک بھی گیا تھا اور اس کی چوڑی پتلی ناک سردی سے سرخ سی ہوگئی تھی، جب لوگ سینما میں داخل ہورہے تھے تو وہ بھی سینما کے دالان میں داخل ہوا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہاں پہلے خود کو کچھ گرم کرے پھر باقی سگریٹ کے بیچنے کی تگ و دو میں لگ جائے گا۔ سینما کا دالان خوب گرم تھا اب اس میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ فلم چند لمحے پہلے شروع ہوچکی تھی، آواز یہاں بھی بہت آسانی سے سنائی دے رہی تھی۔
سگریٹ فروش دالان کے ایک الگ کونے میں کھڑا ہوگیا۔ اس نے دونوں ہاتھ بغلوں میں ڈال دیئے تاکہ سردی سے ٹھٹھرتی انگلیاں گرم ہوجائیں۔ دالان کی تپش آہستہ آہستہ اس کے بقیہ جسم کو بھی گرم کررہا تھا۔ اب دانت اتنی تیزی سے نہیں لرز رہے تھے۔ وہ گرمی کی تپش سے لطف اندوز ہورہا تھا، خوشی سے کچھ نکلی ہوئی نظریں سینما کے دالان میں دوڑا دیں۔ سارا دالان پرانی اور نئی آنے والی فلموں کے پوسٹروں سے بھرا ہوا تھا، قسم قسم کے بڑے اور چھوٹے
پوسٹر، ہر ایک میں ایک الگ فلم کی کہانی اور ہر ایک میں ایک الگ منظر کی تصویر تھی۔
یہاں کسی نے ایک حسین لڑکی کو آغوش میں لے رکھا تھا، وہ محبت بھری آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ وہاں کوئی طاقتور جوان ہاتھ میں گن اُٹھائے ہوئے سامنے کھڑے آدمیوں پر حملہ آور ہوا تھا اور ان سے کچھ اِس طرف پھر چند نیزہ دار آدمی فلم کے ہیرو کو زنجیروں سے جکڑے ہوے نہ جانے کس سمت کھینچ رہے تھے۔
سگریٹ فروش اسی اثنا میں ایک سے دوسرے پوسٹر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ہر ایک کو مختصر لمحے کے لئے دیکھتا پھر دوسرے پوسٹر کی جانب آنکھیں پھیر دیتا لیکن ایک پوسٹر پر اس کی آنکھیں جم کر رہ گئیں، اس پوسٹر میں بھی سردی کا موسم تھا، زمین برف باری سے سفید ہوچکی تھی حتیٰ کہ درختوں کی شاخوں پر بھی اتنا برف پڑا تھا کہ چند شاخیں نیچے کی طرف جھک گئی تھیں اور پوسٹر کے درمیان میں فلم کا ہیرو اور ہیروئن ایک دوسرے پر برف کے گولے پھینک رہے تھے۔ دونوں خوش تھے، دونوں کے منہ ہنسی کے مارے کھلے تھے اور دونوں نے خوب گرم کپڑے پہن رکھے تھے۔ فلم کے ہیرو اور ہیروئن دونوں نے نہایت موٹے لمبے کوٹ اور نئے بوٹ پہن رکھے تھے۔ حتیٰ کہ ہیروئن نے تو ایک مفلر بھی گلے میں ڈال رکھی تھی، اُن کے ان گرم کپڑوں پر سگریٹ فروش کا دل للچایا گیا، اس نے اپنے آپ سے کہا کہ کاش وہ بھی اس طرح موٹا لمبا کوٹ اور گرم بوٹ پہنے ہوتا، پھر تو نہ سردی اس طرح اس کی ہڈیوں کوجما جاتی اور نہ ہی سردیوں کی بارشوں کا کیچڑ اس کے پرانے بوٹوں کے سوراخوں سے اندر پاؤں تک جاتا، پھر تو وہ ضرور بہت زیادہ سگریٹ بیچ پاتا اور خوب زیادہ پیسے کماتا، اتنے زیادہ حتیٰ کہ اپنی ماں اور چھوٹے بھائی کے لئے بھی گرم کوٹ اور بوٹ خرید لیتا۔
اس کے ساتھ ہی اسے اپنا خاندان یاد آیا۔ ایک سال اور چند دن پہلے اس کا والد فوت ہوچکا تھا، اسی دن سے گھربار کا سارا بوجھ اس کی ماں اور خود اس کے کندھوں پر پڑا تھا لیکن ان دونوں نے ہمت نہیں ہاری تھی جیسے ہی والد کی تدفین اور فاتحہ سے فارغ ہوگئے تو آستینیں چڑھا کرسختی سے زندگی کا بوجھ اٹھانے کمربستہ ہوئے۔ ماں نے لوگوں کے کپڑے دھونے کا کام شروع کیا اور خود اس نے چند ہفتے بعد یہی سگریٹ فروشی کا کام شروع کردیا، وہ ہر روز شہر آتا وہاں ایک مہربان دُکاندار سے اُدھار پہ سگریٹ کے چند ڈبے لیتا اور وہ دانے کے حساب سے لوگوں پر بیچتا تھا۔
دانے کے حساب سے سگریٹ کا بیچنا اور ایک جگہ تمام ڈبے کے بیچنے کے درمیان کچھ فرق تھا اور قیمت میں اسی فرق کے جتنے پیسے ہاتھ آتے وہ سگریٹ فروش کا منافع تھا۔
سگریٹ فروش اسی خاطر ہر روز عصر کے وقت تک شہر کے کونے کونے میں سگریٹ بیچنے کی اُمید میں پھرتا رہتا۔ عصر کو جب گھر جانے کا وقت ہوجاتا تو سگریٹ فروش پہلے دُکاندار کے پاس چلا جاتا اس کو بچے ہوئے سگریٹ اور بیچے گئے سگریٹ کے پیسے دے دیتا اور جو پیسے اس کو منافع ہوجاتے وہ لے کر سیدھا گھر لے جاتا۔ دوسرے دن پھر سے یہی عمل شروع ہوجاتا۔ یہ گھر کے خرچے میں اس کا حصہ تھا، اگرچہ اکثر اتنا بڑا حصہ نہیں بنتا تھا خاص طور پر ان دنوں میں جب اس کی ماں بھی کام کررہی تھی لیکن اب جب اس کی ماں ایک ہفتے سے گھر میں بیمار پڑی تھی تو سارے گھر کا خرچہ اسی تھوڑے منافعے سے پورا ہونا تھا۔ ماں اور چھوٹے بھائی کی امیدیں اسی سے وابستہ تھیں اور یہ کام اس کے کندھوں پر اور بھی زیادہ بوجھ ڈالتا تھا۔ اسے اس دن کی صبح یاد آئی ماں کو سخت کھانسی ہورہی تھی، بھائی نے اسے شہر جانے سے پہلے کہا تھا:
- "جب بازال چلے جاؤ تھولی سی متھائی بھی لے آنا" (جب بازار چلے جاؤ تو تھوڑی سی مٹھائی بھی لے آنا)۔
اس کو بھائی کی بات کوئی خاص اچھی نہیں لگی تھی، ماں نے نہ جانے کیوں بھائی کو مٹھائی کا اتنا عادی بنا دیا تھا کہ اب اس سے بھی مٹھائی مانگ رہا تھا لیکن اس نے پھر بھی بھائی ڈانٹا نہیں تھا صرف اس کو جواب میں ’اچھا‘ کہہ دیا تھا اور اب جب اس نے آج کے دن کے سگریٹ کی فروخت کو دیکھا تو اس کے دل میں یہ امید پیدا ہوگئی کہ شاید آج اپنے بھائی کی فرمائش بھی پورا کرسکے گا، آج روزگار اچھا تھا، اب تک عصر میں زیادہ وقت تھا اور اس نے خوب زیادہ سگریٹ بیچے تھے، اِس سوچ نے اُس میں اطمینان اور غرور کا ایک میٹھا احساس پیدا کردیا۔ سگریٹ فروش اسی سوچوں میں ڈوبا تھا کہ ایک بھاری آواز نے اس کی سوچوں کا سلسلہ توڑ دیا:
- "یہاں کیا کر رہے ہو؟"
سگریٹ فروش نے گھبرا کر سینما کے ملازم کو دیکھا جو اچانک اس کے سامنے پودے کی طرح اُگ آیا تھا، اس نے فوراً جواب دیا:
- "کچھ نہیں"!
اور جب اُس نے دیکھا کہ ملازم کی آنکھیں اب بھی اس کی طرف ترچھی تھیں تو اس نے مزید کہا:
- "صرف اپنے آپ کو کچھ گرم کررہا ہوں، واپس جارہا ہوں۔۔۔ ۔ باہر بہت زیادہ سردی ہے!"
سینما کے ملازم نے مزاحیہ انداز میں کہا:
- "اپنے آپ کو گرم کررہے ہو؟۔۔۔۔ کیا یہ حمام ہے کہ تم اس میں گرم ہوتے ہو؟ جاؤ نکلو!۔۔۔۔ لوفر! "
سگریٹ فروش کو ملازم کی آخری بات اچھی نہیں لگی لیکن کچھ نہیں کہا، سر کے اشارے سے اس کو ’اچھا‘ کہا۔ اسی طرح چپ چاپ سینما کے دالان سے نکل آیا۔ باہر ہوا اسی طرح ٹھنڈی تھی لیکن سگریٹ فروش اب زیادہ گرم ہوچکا تھا۔ اس نے سوچا کہ فلم کے وقفے کے وقت تک شہر میں کچھ سگریٹ بیچ دے گا پھر جب وقفہ ہوگا تو واپس سینما آجائے گا۔ وہ اسی نیت سے سامنے سینما کے ایک طرف واقع دُکانوں کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں بھی جس جگہ پر زیادہ لوگوں کی طرف پہنچتا تو سگریٹ کا ڈبہ ان کے سامنے پکڑکر ہمیشہ کی طرح وہی نعرہ دہراتا تھا:
- "سگریٹ، سگریٹ۔۔۔۔ یہ ہے تازہ سگریٹ، فلٹروالا سگریٹ، مزیدار سگریٹ!۔۔۔ لے لیں تازہ سگریٹ۔۔۔۔"
سگریٹ فروش نے زیادہ دیر تک شہر میں چکر لگایا جب فلم کے وقفے کا وقت نزدیک سمجھا تو واپس مڑ کر سینما کی طرف آیا، وہ اب زیادہ خوش تھا قسمت نے آج حقیقت میں اس کے ساتھ وفا کی تھی۔ اس نے سگریٹ کا دوسرا ڈبہ بھی پورا بیچ دیا تھا، تیسرے ڈبے سے بھی چند دانے بیچ دیے تھے، اس ڈبے کے سارے پیسے اس کا حصہ بنتا تھا۔ اس سوچ نے اُس کے ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ پہلا دی۔ اس نے خود سے کہا کہ فلم کے وقفے کے وقت یہ باقی سگریٹ بھی جلد بیچ دے گا پھر تو انشاء اللہ اپنے گھر جائے گا۔ ایک دفعہ تو نہ جانے اس کو یہ خیال بھی آیا کہ کاش آج اپنے ساتھ کچھ زیادہ سگریٹ لے آتا آج کے اچھے دن میں شاید وہ بھی بیچ پاتا لیکن پھر اس نے خود کو اس بات کا یقین دلایا کہ پچھلے دنوں کی بجائے یہی پیسے بھی کافی ہیں، وہ مطمئن تھا کہ شاید آج بھائی کے لئے کچھ مٹھائی خرید سکے، اس نے قدم اور بھی تیز کردیے۔ وہ راستے میں احتیاط کے ساتھ قدم اُٹھاتا تھا جہاں بھی کچھ کیچڑ سامنے آتا تو اس سے راستہ بدل دیتا تھا اس کے باوجود بھی اس کے پاؤں گیلے ہوچکے تھے لیکن اب وہ اس بات پر خاص توجہ نہیں دے رہا تھا۔
اسی طرح سگریٹ کا ڈبہ ہاتھ میں اُٹھائے ہوئے تیزی سے چل رہا تھا کہ سینما کے سامنے گزرے ہوئے سڑک کی طرف مڑگیا، گردن کچھ لمبی کرکے غور سے سامنے دیکھا، وہاں دور سینما نظر آیا، اب تک لوگوں کا ہجوم دکھائی نہیں دے رہا تھا، خوش ہوکر اپنے آپ سے کہا:
"چلو شکر ہے، ایسا لگتا ہے کہ صحیح وقت پر پہنچ گیا ہوں"
اور پھر اس طرف روانہ ہوگیا۔ اسی وقت ساتھ والی کچی سڑک میں ایک کار موٹر پر نظر پڑی جو اس کی طرف آرہا تھا، موٹر اور بھی نزدیک آگیا۔ سگریٹ فروش سڑک کے کنارے اپنی جگہ پر رُک گیا، سوچا کہ ایسا نہیں گاڑی اس کے ساتھ گزرنے کے وقت سڑک کے پانی او کیچڑ سے اس کے کپڑے خراب کردے اس لیے بہتر سمجھا کہ پہلے گاڑی کو پکی سڑک کی طرف جانے دے پھر وہ سڑک پار کردے گا لیکن گاڑی پکی سڑک تک نہیں پہنچی تھی کہ وہاں پانچ چھ قدم پیچھے اُسی کچی سڑک پر رُک گئی۔ سگریٹ فروش ذرا سا حیران ہوگیا۔ پریشان ہوکر غور سے گاڑی کی طرف دیکھا، خوبصورت سرخ رنگ کی گاڑی تھی آگے سیٹ میں تقریباً بیس پچیس سالہ دو جوان بیٹھے تھے پچھلی سیٹ بھی بھری دکھائی دے رہی تھی۔ سگریٹ فروش اسی طرح اُن کی طرف دیکھ رہا تھا کہ ڈرائیور نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو اپنی طرف بلایا۔ سگریٹ فروش نے اردگرد دیکھا کہ شاید کسی اور کو اشارہ کیا ہو لیکن جب ڈرائیور نے پھر ہاتھ اس کی طرف ہلایا تو وہ جلدی سے گاڑی کی طرف گیا، ڈرائیور کی کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ ڈرائیور نے کھڑکی کھول دی اس نے گاڑی کے اندر نظر ڈالی، پچھلی سیٹ میں بھی تین بندے بیٹھے تھے سب ڈرائیور کے ہم عمر دکھائی دے رہے تھے اور سب سرخ روشن آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے، ان کے منہ کھلے ہوئے تھے:
- "نام کیا ہے؟"
لڑکے نے فوراً جواب دیا:
- سیپودین (سیف الدین)!
ڈرائیور نے حیرانگی سے اس کے بات دہرائی:
- سیپودین؟
اور اس کے ساتھ ہی سب نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ سگریٹ فروش ان کے ہنسنے کی وجہ نہیں سمجھ سکا، حیرت کے ساتھ دل ہی دل میں کہا کہ اس میں ہنسنے کی کونسی بات ہے لیکن خاموش رہا۔ وہ اسی طرح اپنی جگہ پر کھڑا ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ڈرائیور نے پھر اس کی طرف منہ پھیر دیا، سر سے پاؤں تک اس پر نظر ڈالی اور پھر پوچھا:
- "تمہاری عمر کیا ہے؟"
- "دس سال! "
ڈرائیور نے پھر سوالیہ انداز میں اس کی بات دہرائی :
- "دس سال؟"
اور اس کے جواب کا انتظارکیے بغیر کہنے لگا:
- "پھر تو بڑے آدمی ہو۔۔۔۔۔شادی کی ہے؟"
اس وقت پھر سب نے ایک زوردار قہقہ لگایا، وہ اتنی زور سے اس پر ہنسے کہ ان میں سے ایک دو کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ۔ سگریٹ فروش سمجھ گیا کہ یہ لوگ ایسے ہی اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اس نے یہاں کھڑا رہنا بے سود سمجھا اور واپس چلنے کا ارادہ کیا لیکن اب وہ روانہ ہی نہیں ہوا تھا کہ ڈرائیور نے اس کے پاس سگریٹ کے ڈبے کو دیکھا:
- "ان سگریٹ کا کیا کرتے ہو؟"
- "بیچتا ہوں! "
گاڑی کی پچھلی سیٹ سے ایک موٹے منہ والے جوان نے کچھ غرور کے ساتھ جواب دیا:
- "اچھا؟ ۔۔۔۔ میں سمجھا کہ شاید خود پیتے ہو! "
اور ساتھ ہی بیٹھے جوان کے ساتھ خوب زور سے ہنس دیا۔ سگریٹ فروش نے ان کی طرف غصے سے دیکھا، ان کی اس طرح ہر دفعہ ہنسی نے اسے رنجیدہ کردیا تھا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا کہ ان لوگوں کو نہ جانے کیا ہوگیا ہے کہ ویسے ہی بے معنی اور فضول باتوں پہ ہنستے ہیں۔ اسی لمحے ڈرائیور نے اس کے سوچوں کا سلسلہ ٹوٹ دیا:
- "تو پھر کس لیے اس طرح سیدھے کھڑے ہو، دے دو ایک ڈبہ سگریٹ سارا دن یہاں گزر گیا! "
سگریٹ فروش نے ان کی طرف دیکھ کر حیرانگی سے کہا:
- "ایک ڈبہ؟"
جب ڈرائیور نے کہا:
- ہاں تو اور کیا!
سگریٹ فروش نے سرگرداں ہو کر جواب دیا:
- "پورا ڈبہ تو نہیں ہے!
یہ جواب ڈرائیور کو کچھ خاص اچھا نہیں لگا، وہ بے حوصلہ ہوکر بولا:
- "تو کتنے سگریٹ ہیں تمھارے پاس؟"
اس نے سگریٹ کا کھلا ڈبہ سامنے پکڑا:
- "صرف یہ"!
ڈرائیور نے ناراضگی کے ساتھ آنکھیں دوسری طرف پھیر دیں پھر غصے سے اس کی طرف دیکھا اور کہا:
- "دے دو یہی! "
سگریٹ فروش ان کے نزدیک چل کر سگریٹ کا ڈبہ پہلے ڈرائیور اور پھر دوسرں کے سامنے پکڑا، اسی کے ساتھ اس نے اُن کے منہ سے سِرکے جیسی ایک تیز بو بھی محسوس کی۔ سگریٹ فروش کو یہ بو اچھی نہیں لگی۔ جب ان سب نے ایک ایک دانہ سگریٹ اُٹھایا وہ بھی پرشکن پیشانی کے ساتھ فوراً ان کے سامنے سے واپس ہٹا۔ سب نے سگریٹ جلا دیے۔ ڈرائیور نے سگریٹ سے بڑا کش مارکر ترچھی نظر سے اسے دیکھا۔ ایسی حالت میں جب دھواں اس کے منہ پر پھونک دیا، اسے کہہ دیا:
- "اس طرح ترچھی نظروں سے کیا دیکھ رہے ہو؟"
سگریٹ فروش نے کہا:
- "پیسے! "
جب ڈرائیور نے پوچھا:
- "کس چیز کے پیسے؟"
سگریٹ فروش کا دل ڈوب گیا حیران ہوکر اپنے آپ سے کہا کیسے کس چیز کے پیسے، گھبرا کر جواب دیا:
- "سگریٹ کے پیسے! "
ڈرائیور نے اس کے الفاظ کچھ یوں دہرائے:
- "سگ۔۔۔۔ریٹ۔۔۔۔کے۔۔۔۔پیے۔۔۔۔سے؟!"
اور غرور کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا، ان کے بھی ہونٹوں پہ غرور کی ہنسی تھی اور ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ساتھ بیٹھے ہوئے جوان نے کہا:
- "صحیح کہہ رہا ہے نا۔۔۔۔۔۔دے دو پیسے! "
ڈرائیور نے نرمی کے ساتھ اُس کو ’صحیح ہے‘ کہہ کر لڑکے کو کہا:
- "آجاؤ! "
سگریٹ فروش پیسوں کی امید سے آگے چلا گیا لیکن ڈرائیور نے اچانک اسے گریباں سے پکڑ لیا، زور سے اپنی طرف کھینچا پھر ایسی حالت میں جب اپنی تیز آنکھیں اس کی خوفزدہ آنکھوں میں ڈال دیے تھے، اسے کہہ دیا:
- "لے لو پیسے! "
اور زور سے واپس اپنی طرف سے دھکیل دیا۔ سگریٹ فروش پیچھے کی طرف سڑک کی کیچڑ میں گر گیا۔ ایک تیز درد اس کی کمر میں اٹھا۔ کیچڑ سے گیلا ہوکر رونے لگا، اس کے رونے کی افسردہ آواز اُن کے قہقہے کے ساتھ ٹھنڈی ہوا میں جذب ہوگئی لیکن شدت سے گاڑی کی روانہ ہونے کی زوردار آواز نے یہ دونوں آوازیں اپنی آواز کے نیچے کچل دیے۔
