لٹیرا/ ڈاکو ہیرو (حصہ اول)۔۔ سائرہ رباب

جب ہیرو ولین اور ولین ہیرو میں بدل دیے جاتے ہیں۔۔۔۔ 

اگر غور کیا جائے تو اکثر اسٹیٹ اسپانسرڈ سیاسی بیانیے اور مذہبی ڈسکورس انتہائی پیچیدہ اور کثیرالجہتی سماجی حقائق کو بلیک اینڈ وائٹ کی واضح حد بندیوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔
یہ صحیح ہے، یہ غلط۔
یہ اچھا ہے، یہ برا۔
یہ محبِ وطن ہے، یہ غدار۔

لیکن جب انہی مسائل کو سوشو پولیٹیکل کانٹیکسٹ میں رکھ کر دیکھا جائے تو حقیقت آہستہ آہستہ کھلتی ہے کہ زندگی اور سماج میں ہر جگہ 2+2=4 کا فارمولا لاگو نہیں ہوتا۔ یہاں اکثر باؤنڈریز دھندلی ہوتی ہیں، ایک دوسرے میں مدغم اور اوورلیپ کرتی ہیں۔ یہ دراصل وہ گرے ایریاز ہیں جہاں اچھائی اور برائی، ظلم اور مزاحمت، جرم اور بغاوت ایک دوسرے میں گھلے ملے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی اور مذہبی بیانیے ہمیں آسانی سے کنفیوز بھی کر سکتے ہیں اور مینی پولیٹ
(Manipulate) بھی۔

آج کی پوسٹ سماج کے انہی متنازع مگر مقبول کرداروں کے بارے میں ہے جنہیں دنیا مختلف ناموں سے جانتی ہے:
“ڈاکو”، “باغی”، “آؤٹ لا”، “بینڈٹ” یا بعض اوقات “لوک ہیرو”۔

دنیا بھر کے سینما کا جائزہ لیا جائے تو تقریباً ہر ملک اور ہر ثقافت میں لٹیرا ہیرو موجود ہے۔ چاہے ہالی وڈ ہو، بالی وڈ، ٹالی وڈ، لاطینی امریکا، چین، جاپان یا کوریا ۔۔۔۔۔ہر جگہ ایسے کردار ملتے ہیں جو ریاستی قانون کی نظر میں مجرم مگر عوام کی نظر میں ہیرو ہوتے ہیں۔

ایک طرف
رابن ہڈ،
ماسک آف زورو (1998)،
پان سنگھ تومار (2012)،
بینڈٹ کوئین (1994)،
شمشیرا (2022)،
پشپا (2021)،
ویر (2010)،
منگل پانڈے (2005)
جیسی فلموں میں ایسے کرداروں کو باغی ہیرو اور مظلوموں کے محافظ کے طور پر گلوریفائی کیا جاتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف
ہائی نون (1952)،
اسٹیج کوچ (1939)،
دی برتھ آف اے نیشن (1915)،
چائنا گیٹ (1998)،
ویراپن (2016)،
کِل (kill)(2024)
جیسی فلموں میں انہی کرداروں کو وحشی، سفاک، جنگلی، دہشت گرد اور سماج دشمن مجرم کے طور پر پورٹرے کیا جاتا ہے جن کا خاتمہ “قانون”، “ریاست” اور “امن” کے لیے ضروری بتایا جاتا ہے۔ جنہیں پبلک ، سماج اور ریاست کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ (threat) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔۔یہاں ریاست، فوج، پولیس اور اسپیشل فورسز ہیرو بن جاتی ہیں۔

یہی تضاد دراصل طاقت اور بیانیے کی سیاست کو بے نقاب کرتا ہے۔

Eric hobsbawn
اپنی کتاب BAndits" (1969)" میں بلخصوص اٹھارہویں سے بیسویں صدی تک دنیا بھر کے مختلف ممالک اور کلچرز میں پاے جانے والے ڈاکوؤں کی طرز زندگی ، ساخت اور ایکٹیویٹیز کا سوشو پولیٹیکل اور تاریخی جائزہ لیتا ہے اور مشاہدہ کرتا ہے کہ وہ افراد جنکو عام طور پر
کریمنل اور outlaw کے طور پر دیکھا جاتا ہے ، دراصل مختلف زمانوں میں اپنے سماجوں کے وہ با ہمت اور باغی افراد تھے جنہوں نے موجودہ سماجی اور معاشی استحصال کرنے والی طاقتوں کو چلینج کیا اور بھرپور مزاحمت کی ۔۔۔ وہ مظلوموں کے چارہ گر اور انکے حقوق کے چیمپئن تھے ۔ان لٹیرے ہیروز کو وہ " social bandit" کا لیبل دیتا ہے جو "مجرم ڈاکو" (criminal robbers) سے الگ ہیں۔۔
مصنف کے مطابق یہ انقلاب یا بغاوت تو نہیں مگر ابتدائی بغاوت (premitive rebellion) کے زمرے میں آتا ہے جو کلیر اور وسیع ویژن کے ساتھ کوئی منظم تحریک تو نہیں ہے مگر یہ اسٹیٹ اور اسکے مسلط کردہ آرڈر اور سیاسی و معاشی استحصال کی وجہ سے پیدا ہونے والی فرسٹیشن اور غم و غصہ کے نتیجے میں ایک سوشل احتجاج اور مزاحمت ہے ۔۔جہاں بڑے پیمانے پر کوئی ویژنری سٹرکچرل پولیٹیکل چینج کا خواب تو نہیں مگر ایک فوری رد عمل اور باغیانہ رویہ ہے جس کے پیچھے گہری مایوسی ، عدم اطمینان اور اضطراب موجود ہے ۔۔۔
اس سوشل احتجاج (protest) اور مزاحمت کو اسٹیٹ ڈی پولیٹیساٰئز (depoliticize) کرتی ہے ان کی مزاحمت کے اصل اسباب کو چھپا کر انکو سفاك اور ظالم دہشت گرد ، امن دشمن ، غدار ، مجرم ، وطن دشمن کے طور پر پیش کرتی ہے جو موجودہ سسٹم کے اندر ایک بڑا خطرہ (threat) ہیں ۔۔
جیسے کردوں کو ترکی میں پریزنٹ کیا گیا ۔۔جیسے ہی انکو deheroize کرنے میں کامیابی ملتی ہے فی الفور ان دہشت گردوں کے صفائے اور خاتمے کی سرکاری عسکری مہم کا آغاز ہوتا ہے ۔۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ہی کردار مختلف بیانیوں میں مختلف صورت اختیار کر لیتا ہے۔

مثلاً جنوبی بھارت کا مشہور باغی ویر اپن،
ایک طرف بھارتی ریاستی بیانیے اور بعض فلموں میں خونخوار مجرم ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی آبادی کے لیے وہ ایسا شخص تھا جو ریاستی جبر، جنگلاتی استحصال اور مقامی محرومیوں کے خلاف کھڑا ہوا۔ اسی طرح پشپا جیسی فلمیں ریاستی ڈسکورس کو چیلنج کرتے ہوئے ایسے آؤٹ لا کردار کو اینٹی ہیرو یا فوک ہیرو کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

ریاست کا ولن اکثر مقامی آبادی کا ہیرو بن جاتا ہے۔

خاص طور پر وہاں جہاں لوگ پولیس، عدلیہ، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں پر اعتماد کھو دیتے ہیں اور انہیں عوام دشمن طاقتوں کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ ایسے ماحول میں “لٹیرا ہیرو” ایک شکاری حکومت کے مقابل کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ وہ مقامی آبادی کو تحفظ دیتا ہے، ریاستی تشدد کا بدلہ لیتا ہے، جاگیرداروں، سود خوروں، ظالم ٹیکس کلکٹرز اور وسائل پر قابض طاقتور طبقات کو نشانہ بناتا ہے اور بعض اوقات لوٹی گئی دولت واپس عوام میں تقسیم کرتا ہے۔

اسی تناظر میں
سینٹ آگسٹین آف ہپو (St. Augustine of Hippo)کا مشہور قول ہے:
"اگر انصاف ، مساوات قائم رکھنے میں ناکام ہوں تو حکومتیں بھی لٹیروں کا گروہ ہیں ۔۔اور ایسے میں ڈاکووں کے گروہ جو لوگوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کر سکیں ، چھوٹے پیمانے پر اسٹیٹ بن جاتے ہیں۔"

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں بعض اوقات چھوٹے باغی گروہ، عوامی تحفظ اور انصاف فراہم کرتے ہوئے ایک “متبادل یا متوازی متوازی ریاست” کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

چونکہ ایسے کردار عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں، اس لیے ان کی ڈی ہیروائزیشن ریاست کے لیے ضروری ہو جاتی ہے۔ میڈیا، فلم، ادب اور آرٹ کے ذریعے ان کا ایسا امیج بنایا جاتا ہے جس میں وہ صرف سفاک مجرم، وحشی دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر دکھائی دیں تاکہ ان کے خلاف ہونے والے آپریشنز کو اخلاقی جواز فراہم کیا جا سکے۔

صرف فرد نہیں بلکہ اس پوری کمیونٹی، علاقے اور ثقافت کو بھی کریمنلائز کیا جاتا ہے جو ان باغیوں کو پناہ یا ہمدردی فراہم کرتی ہے۔(جیسا کہ پچھلے دنوں ہم نے کچے کے ڈاکوؤں ، اور بری امام کی کچی آبادیوں کے تناظر میں دیکھا) یوں طاقت کا اصل سوال، استحصال کی حقیقت اور مزاحمت کے سیاسی اسباب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

مائیکل ڈیننگ اپنی کتاب
“The Cultural Front: The Labouring of American Culture in the Twentieth Century”
میں یہ واضح کرتے ہیں کہ میڈیا اور فلمیں صرف تفریح نہیں بلکہ طاقت کے بیانیوں کی تشکیل کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔

جب ریاست کسی سماجی باغی کو کریمنلائز کرتی ہے تو دراصل وہ اپنی لیجیٹیمیسی (legitimacy)، اپنے قانون اور اپنے تصورِ انصاف کو محفوظ بنا رہی ہوتی ہے۔ جبکہ جب یہی کردار ہیروائز ہوتا ہے تو ریاستی طاقت کی اخلاقی لیجیٹیمیسی کمزور پڑنے لگتی ہے۔

اسی لیے “سماجی ڈاکو” کی ہیروائزیشن (heroization) ہمیشہ ایک سیاسی عمل ہوتی ہے۔کیونکہ یہ طاقت اور اخلاقی اختیار کو اوپر سے نیچے، یعنی ایلیٹ ریاستی اداروں سے عام لوگوں کی طرف منتقل کرتی ہے۔
یہ دراصل ایک فیلڈ یا ظالمانہ ریاستی آرڈر کی باٹم اپ (bottom up) اصلاح کی علامت بن جاتی ہے۔۔

Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !