نابینا افراد ۔ایک جائزہ۔۔۔۔فرخ سلیم

پاکستان میں نابینا یا بصارت سے محروم افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تخمینوں کے مطابق، ملک میں تقریباً 20 سے 22 لاکھ افراد مختلف درجات میں بصارت سےمحروم ہیں۔ بصارت کی کمی کی بنیادی وجوہات میں آنکھوں کی بیماریوں کا بروقت علاج نہ ہونا، غربت، غذائیت کی کمی، اور کم تعلیم یافتہ علاقوں میں آگاہی کی کمی شامل ہیں۔ بہت سے نابینا افراد اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں علاج نہ ہونے کی وجہ سے یا پیدائشی وجوہات کی بناء پر بصارت کھو بیٹھتے ہیں۔
معذوری کی نوعیت — “دکھائی دینے والی” معذوریاں
پاکستان میں نابینا افراد کی علیحدہ سے کوئی درجہ بندی نہیں ہے، اسے معذوری کی ہی ایک قسم تصور کیا جاتا ہے ۔ سرکاری سہولیات اور وسائیل کی تقسیم کے اعتبار سے معذوری کو چار قسمیں ہیں
1۔ جسمانی معذوری
2۔ ذہنی معذوری 
3۔ سماعت سے محرومی 
4۔ بصارت سے محرومی
بصارت سے محرومی پیدائشی بھی ہو سکتی ہے اور بعد از پیدائش بیماری، چوٹ یا عمر بڑھنے کے نتیجے میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ 
باب 2: بصارت کی کمی کی وجوہات اور اثرات
نابینائی پیدائشی (پیدائش کے وقت موجود) یا بعد میں بیماری، چوٹ، یا عمر بڑھنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں عام وجوہات میں شامل ہیں:
• موتیا (Cataract): قابل علاج نابینائی کی سب سے بڑی وجہ۔
• گلوکوما (Glaucoma): اکثر بصارت ختم ہونے تک پتہ نہیں چلتا۔
• شوگر سے متاثرہ آنکھ کی بیماری: شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی شکایت۔
• وٹامن اے کی کمی اور غذائیت کی کمی: بچوں میں نابینائی کی بڑی وجہ۔
• انفیکشن یا علاج نہ ہونے والی آنکھ کی چوٹیں۔
بصارت کی کمی کے اثرات گہرے ہیں:
• جسمانی: روزمرہ کام خود سے کرنے میں مشکلات۔
• نفسیاتی: انحصار، کم خود اعتمادی، اور تنہائی کے احساسات۔
• سماجی: تعلیم، روزگار، اور کمیونٹی میں شمولیت میں رکاوٹ۔
• معاشی: محدود روزگار کے مواقع، غربت، اور خاندان یا خیرات پر انحصار۔
ابتدائی علاج، صحت کی مناسب دیکھ بھال، اور آگاہی سے بہت سی نابینائی کی صورتیں روکی جا سکتی ہیں اور زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
نابینا افراد کی مشکلات
نابینا افراد کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئےحکومت اور دوسرے نان پرافٹ ادارے مالی معاونت اور دیگر ضرور ی سہولیات جیسے سکرین ریڈر ،وائٹ کین (پتلی چھڑی) اور بریل وغیرہ کی فراہمی کے لئے کام کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان سہولیات کے بارے میں نابینا افراد، ان کے لواحقین اور عام لوگوں کو بھی بہت کم یا سرے سے معلومات ہی نہیں ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سارے نابینا افراد جو غریب اور کم تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اپنی زندگی کسمپرسی کی حالت میں گزار دیتے ہیں۔ان کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ سرکار کی طرف سے ان کو مالی معاونت مل سکتی ہے ، کچھ مددگار آلات جو مفت بھی مل سکتے ہیں، تعلیم کا اور اس کے بعد ملازمت کا بھی بندوبست ہو سکتا ہے اور یوں ان کی زندگی میں انقلاب آسکتا ہے۔ متعلقہ ادارے بھی ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو ان کے دفاتر تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں ، یوں ضرورت مندوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان ایک وسیع خلیج حائیل ہے۔
 اس خلیج کو کم کرنے کے لئے ہم مستقبل میں نابینا افراد کے لئے حکومت اور این جی اوزکی فہرست، سہولیات کی تفصیل اور ان تک رسائ کا جو طریقہ کار موجودہے، آپ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں گے ۔ تاکہ اگرآپ میں سے کوئی کسی نابینا شخص کی مدد کرنا چاہے تو اپنا کردار ادا کر سکے۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !