"زبان کی ایک جنبش سے کسی پر تہمت لگانا تو آسان ہے لیکن
اس تہمت کو دھوتے دھوتے زندگیاں تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہیں۔"
مولوی نذیر نے عینک اتارتے ہوئے کلیم کے ویران گھر کی طرف دیکھ کر کہا تو مجھے رانو کا خیال آیا۔ رانو کا خیال آنا تھا کہ اس کے بچپن کی مسکراہٹیں اور اٹھکیلیاں میرے سامنے گونجنے لگیں۔ کتنے معصوم تھے وہ بچپن کے یارانے جنھیں جھٹ میں کسی کی نفرت تباہ کر گئی۔
گاؤں کی کچی گلی جو کھیتوں کی طرف کھلتی تھی اس کے کونے پر آخری کچا گھر تھا۔ جس کی چار دیواری کے اب نشان باقی تھے۔ مگر ایک کونے میں کچا مکان ابھی بھی تھا جس کی چھت میں سے اب سراخ بھی نظر آنے لگے تھے۔ مگر آج بھی جب کبھی میں گاؤں چھٹی آتا تو اسی گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے اس طرف جی بھر کے دیکھتا۔ اس گھر کے در و دیوار سے میرا بچپن کا ایک روحانی رشتہ تھا۔ کلیم میرا کلاس فیلو بھی تھا اور لنگوٹیا یار بھی۔ یہ گھر کبھی رانو اور کلیم کے قہقہوں سے گونجتا تھا۔ سکول سے واپسی پر ہم تینوں کلیم کی اماں کے ہاتھ کی بنی چوری کھایا کرتے اور بستہ رکھ کر میں وہیں کھیلنے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ کلیم کے بابا بھی بھلے آدمی تھے۔ جب بھی گنے کے کھیتوں سے لوٹتے میرے لیے گنا ضرور توڑ لاتے۔ میں میٹرک کرنے کے بعد شہر ماموں کے ہاں چلا آیا۔ طویل عرصہ گاؤں سے باہر رہا۔ پڑھائی کی مصروفیات تھوڑا کم ہوئیں۔ ایم فل کا تھیسز جمع کرانے کے بعد سوچا گاؤں کا چکر ہی لگا لوں۔ ان چند سالوں میں جانے کب قیامت گزر گئی۔
میں ابھی کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ ایک دبلا پتلا بڑی بڑی داڑھی والا نیم پاگل شخص میرے پاس سے گزرا اور اسی شکستہ کمرے میں جا بیٹھا۔ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا جسے وہ بڑے عجیب طریقے سے دانتوں سے کاٹ کاٹ کر کھائے جا رہا تھا۔ جاڑے کا موسم تھا۔ آج تو سردی خوب پڑ رہی تھی۔ گاؤں میں ویسے بھی ٹھنڈک کا احساس زیادہ ہو رہا تھا۔ وہ شخص پھٹے پرانے کمبل کو کندھوں پر لٹکاۓ ہوۓ تھا۔
اس کا چہرہ مجھے کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔ تھوڑا غور کیا تو اس کے چہرے کے خد و خال اور واضح ہو گئے۔ "کلیم" میرے منہ سے بے اختیار اس کا نام نکل گیا۔ میں جھٹ سے آگے بڑھا تو وہ شخص ڈر گیا۔ میں نے اس کا نام پکارا، "کلیم! میرے یار کلیم. یہ تم ہی ہو نا؟" کلیم نے میری طرف آنکھیں پھیر کر دیکھا اور روٹی کا ٹکڑا منہ میں دباتے ہوئے ٹوٹی ہوئی دیوار پھلانگ کر کھیتوں کی طرف نکل گیا۔ مجھے اس گھر کی پرانی رونقیں یاد آنے لگیں۔ گھر کے صحن کے سب درخت آندھیوں سے ٹوٹ کر ادھر ادھر گرے پڑے تھے۔ ہر طرف جھاڑیوں کا جنگل نظر آرہا تھا۔ میں یہ سب کچھ دیکھ کر جگر تھام کر رہ گیا۔ میں یہ سب منظر دیکھ کر بت بنا کھڑا رہ گیا۔ مجھے رانو کا خیال آیا کہ جانے وہ اب کہاں اور کیسی ہوگی۔ کلیم کو یہ کیا ہوا اور یہ سب کیسے ہوا۔ انہی سوالوں کو لے کر میں اس اجڑے دیار سے نکلا ہی تھا کہ مجھے ٹاہلی کا ٹوٹا ہوا سوکھا درخت نظر آیا جس پر کبھی میں کلیم اور رانوں جھولا جھولا کرتے تھے۔ آج یہ درخت جو کبھی بہت ہی ہرا بھرا ہوا کرتا تھا آج ٹوٹے سوکھے تنے کے سہارے دن پورے کر رہا تھا۔ مجھے ماسٹر جی کے الفاظ یاد آ رہے تھے، "بیٹا جب وقت بدلتا ہے تو بہت کچھ بدلتا ہے۔" واقعی آج وقت نے بہت کچھ بدل ڈالا تھا۔ گرے ہوۓ مکان کی دیواروں پر کہیں کہیں کوے ایک دوسرے پر جھپٹتے دکھائی دیئے۔ میں ابھی مڑا ہی تھا کہ ایک مریل سی بلی ٹوٹی ہوئی دیوار پھلانگ کر باہر کو بھاگی۔ میں نے بلی کو جاتا غور سے دیکھا اور بھاری دل کے ساتھ میں بوجھل قدموں سے وہاں سے چلا آیا۔ میں خیالوں میں کھویا
گلی میں چلا آرہا تھا کہ مجھے کسی نے سلام کیا۔ میں نے کچھ توقف کے بعد وعلیکم السلام کہہ کر جو دیکھا تو وہ مولوی امام دین صاحب کا بیٹا تھا۔ جو اب اپنے والد کی جگہ گاؤں کی مسجد میں امامت کراتا تھا۔ مولوی صاحب نے مجھے پہچان لیا اور خیر و عافیت دریافت کرنے لگا۔ میں نے مولوی صاحب سے عرض کی قبلہ یہ ابھی ایک پاگل شخص کھیتوں کی طرف جا رہا تھا آپ اس کے بارے میں کچھ بتائیں گے۔ "وہ پاگل شخص کلیم تھا" مولوی صاحب بولے. "اس کی یہ حالت کیسے ہوئی۔" مولوی صاحب کو میں نے کریدنا چاہا تو وہ لمبی آہ بھر کر بولے، "رانو باپ کی لاڈلی بیٹی تھی۔ تتلی کی طرح اڑتی پھرتی تھی۔ ایک دن
ایک رشتہ دار خاتون نے اس کے والدین سے اپنے بیٹے کے لیے رانو کا رشتہ مانگا۔ اس کے والدہ نے کہا, "ابھی رانو چھوٹی ہے. جب وقت آئے گا تب دیکھا جائے گا۔" رانو کی اماں نے بہانے سے اس رشتہ سے انکار کر دیا تھا۔
کچھ دن گزرے تھے کہ رانو کی اماں نے اپنے بھانجے سے رانو کی نسبت طے کر دی۔ اس بدبخت عورت کو اس بات کا رنج تھا۔ ایک دن رانو کھیتوں سے گزر رہی تھی کہ اس عورت نے اس پر بد چلنی کی تہمت لگا دی اور رانو کے بھائی کلیم کے کان بھر دیے۔ بس پھر قیامت کو آتے دیر ہی کیا تھی۔ کلیم نے گھر آتے ہی رانوں کو پیٹنا شروع کر دیا۔ بھائی غصے میں بپھرا ہوا تھا اس شدت سے رانو کو دھکا دیا کہ دھکا لگنے سے رانو دور جا گری۔ رانو کے سر پر ایسی چوٹ لگی کہ کچھ دن بعد وہ اس دنیا سے ہی رخصت ہو گئی۔ یہ کہہ کر مولوی صاحب خاموش ہو گئے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ آگے بولے تو آنسو بہ نکلیں گے۔ میری حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ عصر کی اذان کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ میں اور مولوی صاحب کچھ دیر خاموش کھڑے رہ گئے۔ ہم دونوں کے پاس کچھ کہنے کے لیے الفاظ نہ تھے۔
ہم دونوں خاموشی سے چل پڑے۔ جب مسجد قریب آئی تو مولوی صاحب نے کہا، "احمد بابو! یہ دنیا بہت ظالم ہے۔ ایک تیر سے کئی شکار کرتی ہے۔ رانوں کی موت کا صدمہ اس کی اماں اور ابا کو چارپائی سے لگا گیا۔ تھوڑے دن ہی جی پائے۔ پل بھر میں ہنستا بستا گھر ایسا اجڑا کہ اب وہاں جاتے ہوئے دل میں ہول اٹھنے لگتا ہے۔"
مولوی صاحب بولتے جارہے تھے اور میری روح میں طوفان برپا ہوتا جارہا تھا۔
گلی کا نکڑ مرتے ہوئے مولوی صاحب پھر سے بولے، "کلیم اس دنیا میں تنہا رہ گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد کلیم کی حالت غیر ہونے لگی۔ بال بکھرے ہوئے، آنکھیں سوجھی ہوئی، اور پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے، ایسا لگتا تھا جیسے اس کی نیندیں اڑ چکی تھیں۔ دن رات رانو کی گلابی چنری اپنے گلے میں لپیٹے رانو, رانو پکارتا ادھر ادھر دوڑتا پھرتا۔ اب کافی عرصہ سے اسے چپ لگ گئی تھی۔ وہ اب انسانوں سے ڈرتا رہتا تھا۔ اجڑے ہوئے گھر کے کونے کھدرے میں پڑا رہتا یا پھر کھیتوں کی طرف نکل جاتا۔"
مولوی صاحب کی آنکھوں سے آنسو چھلک رہے تھے۔ اس نے عینک اتاری اور رومال سے عینک کے شیشے صاف کرتے ہوئے بولا، "عورت بیچاری کانچ کی گڑیا ہی تو ہے۔ ایک دفعہ ٹھوکر لگ گئی تو پھر عمر بھر چٹخ کر رہ جاتی ہے۔ کلیم کے کانوں میں ایسا زہر گھول دیا گیا تھا کہ اس نے رانو کی ایک نہ سنی تھی۔ وہ چیختی چلاتی رہی مگر اس کی صفائی کسی نے نہ مانی۔"
اسی دوران اذان ہونے لگتی ہے۔ مولوی صاحب اجازت لے کر مسجد میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور میں انتہائی رنجیدہ کیفیت میں مبتلا ہو کر رانو اور کلیم کو ہی سوچتا رہ گیا۔
