محبت محض ایک جذبہ، ایک رومانوی وابستگی یا دو افراد کے درمیان تعلق کا نام نہیں، بلکہ یہ مطلق ایثار، کامل سپردگی اور اپنے آپ کو کسی عظیم مقصد، کسی اعلیٰ حقیقت یا کسی محبوب ہستی کے نام پر نذرِ آتش کرنے کی آمادگی کا نام ہے۔
عشق میں فنا ہونا کمزوری نہیں بلکہ اپنی ذات پر ایسی حاکمیت حاصل کرنا ہے جو ہر خوف، ہر مصلحت اور ہر دنیاوی لالچ سے بلند ہو جائے۔ یہ اقتدار کی اعلٰی ترین شکل ہے ، حقیقی اقتدار ہے ہی وہی جس میں محبت کا عنصر شامل ہو ۔
مرد کی سب سے بڑی خوبی یہ نہیں کہ وہ غالب آ جائے، دولت حاصل کر لے یا دنیا کو فتح کر لے۔ اس کی سب سے عظیم خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے کسی ذاتی نفع یا لالچ کے بغیر بھی اپنی جان دے سکتا ہے۔
عورت اس حقیقت کو شاید کبھی پوری طرح نہ سمجھ سکے، اور تاریخ میں اس نے اکثر ایسے پُرجوش مردوں کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی جو اپنی جان کسی نظریے، عقیدے، محبت یا عظیم مقصد کے لیے قربان کرتے آئے ہیں۔
خالص ایثار، وہ ایثار جو خاندان، قبیلے، نسل یا جائیداد کے ہتھیانے سے ماورا ہو، موت کو معنی عطا کرتا ہے۔ اور موت پھر زندگی کو معنی بخشتی ہے۔
مرد کی محبت میں کہیں حاکمیت یا غلبے کا تاثر بھی سامنے آتا ہے، مرد اگر " تربیت یافتہ " نہ ہو تو باقاعدہ اذیت پسندی ( masochism) کی طرف جھکاؤ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ، اذیت ہسندی یعنی تکلیف میں لذت تلاش کرنا، اُس جذبۂ ایثار سے اتنی ہی دور ہے جتنا زمین آسمان سے۔ کیونکہ شہادت، قربانی اور موت کی وہ خواہش جو عشقِ خالص کا مرکزی جوہر ہے، دراصل مطلق اقتدار اور کامل حاکمیت کی خواہش بھی ہے۔ اقتدار جبر یا غلبے کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک آتشیں پھول ہے جو محبت کی حرارت سے جنم لیتا ہے۔ محبت کے بغیر اقتدار محض تسلط ہے، لیکن محبت سے پیدا ہونے والا اقتدار ایک روحانی قوت بن جاتا ہے اور " تربیت یافتہ" مرد اگر اپنے محبوب پہ حاکمیت کی خواہش پالتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ اسی روحانی قوت کا حصول ہے نہ کہ اذیت پسندی ۔
عورت مگر مرد کے برعکس زندگی کی خالص تصویر ہے۔ وہ زندگی کو اس کی فطری روانی، زرخیزی اور بقا کے اصول میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اسی لیے اس کے لیے زندگی کی حدود سے باہر نکلنے کا تصور مشکل ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پسندیدہ عورت مرد کے لیے محض ایک فرد نہیں ہوتی؛ وہ زندگی کی ایک علامت بن جاتی ہے۔ گویا قسمت کے پہیے، یا تقدیر کی دیوی کی مانند، جو زندگی کی عطا اور محرومی دونوں کا سرچشمہ ہے۔
شاید اسی حقیقت سے جیلیسی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
جب مرد اپنی محبوبہ کی بے وفائی دریافت کرتا ہے تو اس کے باطن میں یہ احساس جنم لیتا ہے کہ گویا خود زندگی نے اسے مسترد کر دیا ہے ، اسی لئے جیلیسی کی گہری ترین تہہ میں موت کا خوف پوشیدہ ہوتا ہے۔
ہمیں لیکن یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مرد اور عورت کے تعلق کی بنیاد محض محبت، رفاقت یا باہمی کشش پر قائم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک ازلی اور خاموش اصنافی تضاد بھی کارفرما ہے ۔
اس تضاد کا مطلب نفرت یا دشمنی نہیں، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ مرد اور عورت اپنی فطرت میں ایسے مقاصد اور اقدار کی طرف مائل ہوتے ہیں جنہیں مکمل طور پر ایک دوسرے میں ضم نہیں کیا جا سکتا۔
عورت بنیادی طور پر سلامتی، تحفظ اور استحکام کی خواہاں ہوتی ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا چاہتی ہے جس میں غیر متوقع خطرات کم سے کم ہوں، جہاں زندگی اپنے توازن اور سکون کے ساتھ جاری رہ سکے۔ اس کی مثالی دنیا ایک ایسا ہم آہنگ نظام ہے جس میں ہر اُس عنصر کو ختم کر دیا گیا ہو جو اضطراب، بے یقینی یا تباہی کا باعث بن سکتا ہو۔
مرد کا بنیادی اصول اس کے برعکس ہے۔
اس کی روح جدوجہد میں اپنی تکمیل پاتی ہے۔ اس کا فطری میلان مقابلے، آزمائش اور فتح کی طرف ہوتا ہے۔ مرد اپنے آپ کو خطرات سے محفوظ رکھنے میں نہیں، بلکہ اُن کا سامنا کرنے میں پہچانتا ہے، گویا کہ پلٹنا جھپٹنا مرد کی فطرت ثانیہ ہے ۔
لیکن یہاں خود مردوں کے درمیان بھی ایک بنیادی تقسیم پیدا ہو جاتی ہے۔
ایک قسم کے مرد وہ ہیں جن کے لیے صرف دنیاوی فتوحات قابلِ فہم ہیں۔ وہ ایسی کامیابی چاہتے ہیں جس کے ثمرات سے وہ خود فائدہ اٹھا سکیں، ایسی فتح جس کے بعد وہ اُس نئی دنیا میں زندگی گزار سکیں جو اُن کی جدوجہد نے پیدا کی ہے۔
یہ وہ فاتح ہیں جو دشمن کی سرزمین فتح کرتے ہیں اور پھر اُس کی دولت، زمین اور وسائل سے لطف اندوز ہوتے ہیں، آج کے دور میں کہا جائے تو ایک بڑا کیریئر بنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔
یہ کامیاب مردوں کی وہ قسم ہے جسے عورت بھی سمجھ سکتی ہے، کیونکہ اس کے نتائج کو خاندان، معاشرے اور روزمرہ زندگی کے ساتھ بانٹا جا سکتا ہے۔
لیکن ایک اور قسم کی فتح بھی ہے، جو اس سے کہیں زیادہ گہری اور ہولناک ہے۔
یہ "مطلق فتح" ہے۔
مطلق فتح دراصل فاتح کا اختتام ہے۔
ایسی فتح کے بعد مرد پھر وہ انسان باقی نہیں رہتا جس نے جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔
یہ کسی علاقے یا سلطنت پر قبضہ حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس میں انسان اپنی سابقہ شناخت سے آگے نکل جاتا ہے۔
یہ ایک نئی وجودی منزل میں داخل ہونے کا عمل ہے، ایک ایسی منزل جو اُس شخص کے لیے نہیں جو پہلے تھا، بلکہ اُس نئی ہستی کے لیے ہے جو جدوجہد کے اختتام پر سامنے آیا ۔
اس کے وجود میں ہمیشہ ایک ایسا حصہ باقی رہتا ہے جو کسی بلند تر مقصد، کسی ماورائی حقیقت یا کسی نامعلوم افق کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
اسی داخلی آزادی اور اسی روحانی فاصلہ رکھنے کی صلاحیت سے وہ اُس محبت تک پہنچ سکتا ہے جو محض خواہش نہیں بلکہ قربانی بن جاتی ہے، اور محض تعلق نہیں بلکہ تقدیر بن جاتی ہے، یہ محبت آج کے دور میں نایاب ہے ۔ بالخصوص پوسٹ ماڈرنزم ( مابعد جدیدیت )نے مردوں سے یہ صلاحیت چھین لی ہے، بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ مردوں کی اس صلاحیت سے دستبردار ہونے سے ہی پوسٹ ماڈرنزم یعنی مابعد جدیدیت کا آغاز ہوا ۔
سارہ الفاظ میں مابعد جدیدیت دراصل مردانہ اصول ( masculine principle ) کی شکست کا نام ہے۔
یہ شکست اُس وقت شروع ہو گئی تھی جب "پوسٹ ماڈرنزم" کی اصطلاح ابھی فلسفیانہ لغت کا حصہ بھی نہیں بنی تھی۔ اس کی حقیقی ابتداء دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے ہوئی اور دنیا ایک نئے تاریخی دور میں داخل ہوئی۔
اس تبدیلی نے صرف سیاسی اور تہذیبی ڈھانچوں کو نہیں بدلا بلکہ انسان کی داخلی ساخت کو بھی متاثر کیا ، بیسویں صدی کے وسط کے بعد یورپ میں وہ روحانی اور حیاتیاتی قوت کمزور پڑنے لگی جسے مردانہ جوہر کا نام دیا جاتا ہے۔
جرمنی کی شکست صرف ایک قوم کی شکست نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے تصورِ حیات کا زوال بھی تھی جو خطرے، قربانی اور عظمت کے تصورات سے وابستہ تھا۔
صدیوں تک یورپ کو مردانہ تہذیبی قوت کا ایک مرکز سمجھا جاتا رہا ، لیکن اب صورتِ حال مکمل بدل چکی ، اگرچہ آج بھی دنیا میں چند ایسے خطے باقی ہیں جہاں قدیم شجاعت، قبائلی وقار اور روایتی مردانگی کے آثار ملتے ہیں جیسے کوہ قاف ، افغانستان وغیرہ کے خطے، لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ یہاں کے مردوں کی اکثریت " تربیت یافتہ " نہیں تو وہ محبت میں حاکمیت کو لے کر کسی روحانی قوت کی بجائے اذیت پسندی پہ جا رکتا ہے۔ مردانہ اصول کی یہی باقیات جدید دور کیلئے ایک خطرہ بھی تصور کی جاتی ہیں کہ پوسٹ ماڈرنزم میں مرد کی تعریف بس چکنے لونڈے یا pookie boy تک ہی محدود ہے۔
مابعد جدیدیت کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ علامات اور معانی کو الٹ دیتی ہے۔ جو چیز پہلے ایک معنی رکھتی تھی، اب وہی چیز اس کے بالکل برعکس معنی اختیار کر لیتی ہے۔ مثال کے طور پر جس چیز کو آج "سول سوسائٹی" کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت قدیم یونانی شہری روایت کی وارث ہے، جو اپنی اصل میں نہایت فعال، جری اور سیاسی تھی لیکن جدید شعور نے اسے محض سماجی خدمت، حقوق کی تحریکوں اور اخلاقی احتجاج تک محدود کر دیا ہے۔ مابعد جدید دور کا سب سے طاقتور نمائندہ خود جدید ریاست ہے۔
آج ریاست کسی بنیادی اصول، کسی ایک نظریے یا کسی ایک روحانی مرکز سے وابستہ نہیں رہی ، وہ بیک وقت مختلف اور متضاد علامتوں کو استعمال کرتی ہے، روایتی مفاہیم کو ریاست نے بدل کر رکھ دیا ہے، اور مسلسل نئے بیانیے تخلیق کرتی آ رہی ہے جو بے بنیاد اور بے پایاں ہیں ، جدید ریاست کا حقیقی ہدف کسی سوفسطائی کی مانند الفاظ سے کھیلنا ہے اور حقیقت کو مسلسل نئے سانچوں میں ڈھالتے رہنا ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام الفاظ سمجھنے کے باوجود وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کی بات ہم میں سے کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ یا کیا کہنا چاہ رہے ہیں، یہ اور بات کہ دانشمند کا دکھاوا کرتے ہوئے ہم یوں سر ہلاتے ہیں کہ ہم ان کی بات سمجھ رہے ہیں، ورنہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے الفاظ و بیان انسانوں کے اجتماعی شعور کی توہین سے زیادہ کچھ نہیں ۔
مابعد جدیدیت کی ریاست اُن تمام عظیم تصورات سے خوف زدہ ہے جو انسان کو اس کی روزمرہ محدودات سے اوپر اٹھا سکتے ہیں۔ اس لیے فرد کی آزاد اور منفرد ہستی کے ساتھ اس کا رویہ بعض اوقات اُس ماہرِ نفسیات جیسا ہوتا ہے جو ہر غیر معمولی رویے کو بیماری سمجھتا ہے۔
مابعد جدید ذہن کے نزدیک ہر ایسا نظریہ جو انسان سے ایثار، وفاداری، قربانی یا عظمت کا مطالبہ کرے، مشکوک بن جاتا ہے۔ لیکن ہر تاریکی کے اندر ایک غیر متوقع اور روشن امکان موجود رہتا ہے۔ کیا بعید کہ پوسٹ ماڈرنزم کے اس دور میں خود عورتوں کے درمیان سے ایسی شخصیات ابھریں جو مردوں کو جھنجھوڑتے ہوئے عظمت، شجاعت اور روحانی اقتدار کی اقدار کو زندہ کریں ، چاندی کی زرہ میں ملبوس ایتھینا دیوی کی مانند یہ عورتیں دانائی اور قوت کا ایسا امتزاج پیش کریں گی جو انحطاط کے سیلاب کے سامنے بند باندھ دے ، وہ روایتی نسوانیت کی نفی نہیں کریں گی، بلکہ اس کے اندر سے ایک نئی روحانی جہت کو بیدار کریں گی۔ اور کیا معلوم کہ انہی کے گرد ایک ایسا ثقافتی اور روحانی میدان تشکیل پائے جس میں ایک نئے شہسوار، ایک نئے مجاہد اور ایک نئے مردانہ نمونے کا ظہور ممکن ہو سکے ، ایسا مرد جو نہ محض غلبے کا خواہاں ہو اور نہ صرف دنیاوی کامیابی کا ، بلکہ وہ محبت، قربانی، آزادی اور روحانی اقتدار کو ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو سمجھے ،،،، کیا معلوم !
