ہمارے سماج میں آج تک پسند کی شادی کو ایک ناپسندیدہ عمل قرار دیا جاتا ہے ۔اگرچہ اس ضمن میں افراد معاشرہ میں کہیں کہیں کسی حد تک لچک کا مظاہرہ بھی نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود تواتر کے ساتھ ایسے دردناک واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں اپنی مرضی سے ازدواجی بندھن میں بندھنے والے جوڑوں کو بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔اور ایسا جرم کرنے والے کوئی غیر نہیں اپنے ہی پیارے خون کے رشتے ہوتے ہیں ۔ ماضی سے لے کر آج کے جدید ترقی یافتہ دور تک لاتعداد انسانوں کو محض اپنی پسند کا شریک حیات چننے پر اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے گویا انہوں نے کسی سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا جس کی پاداش میں انہیں سزائے موت دے دی گئی ۔
محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ایک شادی کی کامیابی کے لیے بنیاد کا کام کرتا ہے ۔ مگر ہمارے ہاں عام طور پر اپنی اولاد کی شادی کے معاملات والدین خود طے کرنا چاہتے ہیں ۔اور اس ضمن میں نوجوانوں کی جنس مخالف کے ساتھ ذہنی و جذباتی وابستگی کو اکثر غیر ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔ دوسری جانب ایک دوجے سے محبت کرنے والے دو بالغ افراد زندگی بھر ساتھ نبھانے کا فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں ۔جب بڑے ان کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں تو بعض اوقات دو چاہنے والوں کے لیے واپس پلٹنا ممکن نہیں ہوتا۔ سو وہ سب کی ناراضگی مول لے کر شادی کر لیتے ہیں ۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب دو بالغ انسان اپنی مرضی سے اپنا شریک حیات منتخب کرنے کا اختیار رکھتے ہیں تو کیا پھر بھی ان کی مخالفت کی جانی چاہیے؟ اور کیا اس حد تک دشمنی نبھائی جائے کہ ان سے زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا جائے؟ پھر غیرت کے نام پر کیے گئے اس انتہائی اقدام کے نتائج جب سامنے آتے ہیں تو قاتل پھانسی کی سزا پاتے ہیں یا باقی تمام زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارتے ہیں ۔تمام حقائق کو جانتے ہوئے بھی ہمارے معاشرے میں آئے دن ایسے واقعات کا رونما ہونا ہم سب کے لیے لمحہ ء فکریہ ہے ۔خاص طور پر ماں باپ کو اپنی اولاد سے بہت قریب رہنا چاہیے ۔ تاکہ وہ ان کے خیالات اور احساسات سے واقف رہ سکیں ۔جوانی کا دور امنگوں اور جوش سے بھرا ہوتا ہے ۔اگر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے جوان بچے نے اپنی شادی کا خود فیصلہ کرکے کوئی بہت بڑی غلطی کر دی ہے تو انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بالغ شہری کو شرعی اور قانونی طور پر اپنی شادی کے معاملے میں پسند ناپسند کا حق حاصل ہے اور کوئی بھی بالغ فرد اپنا یہ حق استعمال کرکے کوئی سنگین جرم نہیں کرتا ہے کہ جس کی سزا کے طور پر اس کی زندگی چھین لی جائے ۔ محبت کی شادی کو غیرت کا مسئلہ بنا کر شادی شدہ جوڑوں کو بے رحمی سے مار ڈالنا ایک انسانیت سوز فعل ہے جس کی روک تھام کے لیے شعور پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ انسان کی جان اتنی ارزاں نہیں کہ اسے کوئی اپنی جھوٹی انا کی بھینٹ چڑھا دے ۔مر ضی سے شادی کرنے والوں سے شدید اختلاف کی صورت میں ان سے ناطہ توڑ لینا بہتر ہے بجائے اس کے ان کے اس فعل کو جرم قرار دے کر کوئی ان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے اور پھر قانون کے شکنجے میں جکڑ لیا جائے ۔
