امیر زادہ( افسانہ)۔۔۔ لہر نیازی

  
جھاڑیوں میں الجھتا گرتا پڑتا امیر زادہ اندھا دھند دوڑے جا رہا تھا۔ رات اندھیری تھی اور تھیلے میں بھاری بھرکم نوٹ تھے۔ دولت کے لٹ جانے کے ڈر سے مختصر راستہ اختیار کیا تھا مگر کار جلد بازی میں درخت سے جا ٹکرائی تھی۔امیر زادے کے سر میں چوٹیں آئیں مگر حواس درست رکھے اور کار سے بمشکل باہر نکلا۔ کار کے اندر بتی روشن تھی مگر باہر گھپ اندھیرا تھا۔ کار جدید دور کی مہنگی ترین تھی جس کا اے سی کار کے اندر کے موسم کو موسم بہار بناۓ ہوۓ تھا۔ مگر باہر بلا کی سردی اور خنکی تھی۔
 امیر زادے کو دھند کی وجہ سے درخت نظر نہ آیا تھا اور کار کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔ دوران سفر کار میں موسیقی من کو بھا رہی تھی۔ اگلے ہی لمحے سب منظر بدل چکا تھا۔ باہر رات کی سائیں سائیں اور گیدڑوں کے غل غپاڑہ دل کو دہلا رہا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا، ہمت باندھی اور جان و مال بچانے کی خاطر ایک پگڈنڈی پر دوڑ پڑا۔ دھند میں پگڈنڈی جو کبھی نظر آ جاتی تو کبھی اندازے سے اس کے قدم اٹھ رہے تھے۔ آسمان پر کالے بادلوں کی چادر میں چاند کبھی نظر آتا تو کبھی کچھ لمحوں کے لیے بالکل غائب ہو جاتا۔ چاند کی تانک جھانک میں کبھی پگڈنڈی آگے جھاڑیوں میں جاتی نظر آ جاتی کبھی چاند غائب ہو جاتا تو اندازے سے قدم آگے رکھنا پڑتے۔ بڑی بڑی جنگلی گھاس اور گھاس پر پانی کے قطرے پاؤں کو چھوتے تو عجیب سی سردی پورے جسم میں دوڑ جاتی۔ امیر زادہ سڑک کنارے پہاڑی کی ڈھلوانوں پر اس ویران سی پگڈنڈی پر چل نکلا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ معمول سے ہٹ کر چلنا محفوظ رہے گا کیونکہ راہزن کار کی طرف رخ کریں گے یا پھر وہ سیدھے راستے کی طرف چل نکلیں گے مگر اس پگڈنڈی کا انہیں کبھی خیال نہیں آ پائے گا۔ اس وقت بڑی رقم امیر زادے کے لیے وبال جان بنی ہوئی تھی۔ اس نے اخباروں میں کئی ایسی خبریں پڑھ رکھی تھیں جس میں رقم کی لٹنے کے ساتھ ساتھ مسافر بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ خوف کا عالم تھا کہ سردی کی شدت میں بھی پسینے چھوٹ رہے تھے۔ پہاڑی کی ڈھلوان پگڈنڈی پر خشک پتے پاؤں کے نیچے آتے ہی چڑیل کی سی بھیانک آوازیں نکال رہے تھے۔ ہر جھاڑی دور سے بھوت کا لبادہ اوڑھے معلوم ہوتی تھی مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ پیچھے ان دیکھا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا اور سامنے رات کے دھندلکے اور پراسرار آوازیں تھیں۔ اچانک افتاد ان پڑی تھی موبائل فون اجلت میں گاڑی ہی میں پڑا رہ گیا تھا۔ اب واپسی ممکن نہ تھی۔ اس ویرانے میں دور سے گھروں کی قمقمیں ستاروں کی مانند جھل ملاتی دکھائی دے رہی تھیں۔ کہاں بجلی کی رنگ برنگی قمقموں کی روشنی اور کہاں اندھیری سرد رات میں ستاروں کی چمک دمک، چاند تھا کہ صحن میں لگے بڑے بلب کی طرح دمک رہا تھا مگر سیاہ بادل تھے کہ ویرانی پھیلا رہے تھے۔ چاند کسی چڑیل کے گھنے بالوں میں جکڑا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ رات کے اندھیرے میں جنگل کے پرانے پیڑوں میں چھپے الوؤں کی چیخیں فضا میں سحر اور دہشت پھیلاۓ ہوئے تھیں۔
جانے کیا امید تھی کہ دل آگے ہی جانے کو کہہ رہا تھا۔ وہ تھیلا تھامے اندھا دھند بھاگے جا رہا تھا۔ جھاڑیوں سے الجھتا امیر زادہ پہلی بار زندگی کے اس بھیانک پہلو سے روشناس ہو رہا تھا۔
 زندگی اور موت کی کشمکش جاری تھی۔ ان دیکھا خوف اسے پیچھے مڑ کر دیکھنے نہیں دے پا رہا تھا۔ کہاں اس کا شاندار بنگلہ، نوکر چاکر اور رنگ برنگی روشنی اور کہاں بھیانک آوازوں میں ڈوبا یہ ویرانہ۔ اسے زندگی پیاری تھی۔ اس کی رگوں میں خون تھا کہ گرم سے گرم تر ہوا جاتا تھا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ موسم کی شدت کی پرواہ نہ تھی۔ ان دیکھا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا۔ بارہا کسی گرے پڑے پرانے تنے سے پاؤں اٹکے اور اوندھے منہ گر پڑا، پھر اٹھا دولت کی گٹھری سنبھالی اور پھر ہانپتے کانپتے قدم آگے کو بڑھا لیے۔ زندگی اور موت کا رقص جاری تھا۔ رات تھی کہ طویل تر ہوتی جا رہی تھی۔ کہیں سے روشنی کی رمک دکھائی نہیں پڑتی تھی۔ مگر جینے کی امید تھی قدم اگے کو اٹھتے جاتے تھے۔
 امیر زادے کو وہ لمحے بہت یاد آرہے تھے جب گھوڑ دور کے دوران وہ گھوڑے پر رقم لگاتا اور جب تک گھوڑا جیت نہ جاتا وہ بے چین رہتا تھا۔ آج خود وہ اسی گھوڑ دوڑ کا حصہ بن چکا تھا اور اس پر بھی آج قسمت نے کوئی بازی لگا رکھی تھی۔ پہاڑی کی ڈھلوان پر دوڑ کا میدان سج چکا تھا۔ اس گھوڑ دوڑ کو دیکھنے والے کوئی انسان نہ تھے بلکہ بھیانک منظر، قدیم درختوں کی گھناونی جڑیں، اندھے گڑھے اور جانے کیا کیا رکاوٹیں سامنے تھیں۔ اس گھوڑ دوڑ کا آغاز الوؤں کی چیختی سیٹیوں سے ہوا تھا۔ تماشائیوں میں جنگلی چمگادڑوں کی چیخیں امیر زادے کو حواس باختہ کیے جا رہی تھیں۔
 اندھیری رات خوفناک ناگن کے ایسے پھن پھیلائے سائیں سائیں کر رہی تھی۔ امیر زادے کو زندگی کی سانسیں چلتی رکھنی تھیں اس لیے اندھا دھند بھاگنے ہی میں عافیت تھی۔ موسم کے تیور بدلے تو بارش کے چھینٹے ٹپ ٹپ کرتے گرنے لگے۔ یوں رات کا منظر اور بھیانک بن گیا۔
امیر زادے کا دولت کو سینے سے لگائے اندھیری راہوں پر بھاگتے بھاگتے سانس اکھڑ چکا تھا۔ بارش نے پگڈنڈی کو بھگونا شروع کر دیا تو امیر زادہ پھسل پھسل کر لڑکھڑاتا دور جا گرا۔
امیر زادے کو اب احساس ہونے لگا کہ جس دولت نے اس کے لیے آسانیاں اور راحت مہیا کرنا تھی وہی دولت اب اس کے لیے وبال جان بن گئی تھی۔ زندگی کے اس بڑے راز کو امیر زادے نے پا لیا تھا۔
درختوں کی گھنی شاخیں سر پر ناگن بن کر منڈلا رہی تھیں۔ اس نے دولت سے بھرا بیگ پھینک دیا اور اب احتیاط سے قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا۔ ایک تنگ سی گھاٹی اس نے آرام سے عبور کر لی۔ وہ اب ایک آبادی میں جا نکلا تھا۔ سامنے چند گھر نظر آۓ جن کی کھڑکیوں میں سے روشنی چھن چھن کر امید کی کرن بن کر باہر آ رہی تھی۔ اس روشنی کو دیکھتے ہی امیر زادے کے چہرے پر زندگی لوٹ آئی۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !