فورٹی رولز آف لو۔۔۔۔ رفاقت علی رانجھا

کسی بھی کتاب کیلئے اپنی روانی بنانا اور برقرار رکھنا بہت اہم ہوتی ہے۔ جب 24 اپریل کو اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو ابتدائیے سے جو رفتار بنی اس سے تو ایسا لگتا تھا کہ چند نشستوں میں یہ کتاب ختم ہو جائے گی۔ جیسے جیسے بات مگر آگے بڑھی تو ساڑھے تین سو صفحات پر محیط ناول کا مطالعہ خود پر زبردستی کرنے کے باوجود بھی تقریباً ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصہ لے گیا کیونکہ کتاب کا تسلسل بتدریج سست روی کا شکار ہوتا گیا۔ وجوہات پر آگے بات ہو گی۔ 

 تصوف اور صوفی ازم پر مبنی اس ناول میں بنیادی طور پر مولانا جلال الدین رومی اور شمس تبریز کے سفر، ان کی مولانا رومی سے ملاقات اور رومی کی شخصیت اور شاعری پر شمس تبریز کا اثر دکھایا گیا ہے۔ محبت، روحانیت، برداشت، عاجزی وغیرہ پر گھومتی کہانی میں محبت کے چالیس قوانین کا برموقع و محل ذکر کیا گیا ہے۔ طویل فلسفیانہ مباحث، کہانی اور کرداروں کی طوالت کے ساتھ کچھ کچھ ایسا بھی ہے جو شاید عام مذہبی ذہن کیلئے بلاسفیمی سمجھا جائے۔ 

یہاں متوازی ایک امریکی خاتون کی کہانی بھی ہے جو ایک ناول کے مسودہ Sweet Blasphemy پر کام کرتے ہوئے لکھاری کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ یہاں سے اس کی لکھاری کے ساتھ محبت اور روحانی سفر کی کہانی ایسے ہی چلتی ہے جیسے شمس تبریز اور مولانا رومی کی چلتی ہے۔ کہانی میں بنیادی چیز محبت اور انسانیت ہے جو کسی بھی طرح کے مذہبی ضوابط کو ثانوی اہمیت دیتی ہے۔ 

تصوف اور اس کے مزاج کو سمجھنے کے لیے اچھی کتاب ہے۔ چالیس قوانین بھی دل کو محبت کی طرف کھینچتے ہیں۔ پڑھنے والے کے دل میں صوفی وائبز بھی ضرور پیدا ہوتی ہیں مگر بنیادی مسئلہ دو غیر متعلق کہانیوں کا متوازی چلانا ہے۔ ایلف شفق کے قد کاٹھ اور اس کی مقبولیت سے متاثر ہوئے بغیر دیکھا جائے اور تنقید کیلئے اپنے قد کو عارضی طور پر بڑا فرض کر لیا جائے تو تو محترم مصنفہ سے فصول میں متوازی کہانی چلانے پر اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ متبادل کہانی نے ناول کو بے جا طوالت دی ہے اور اس کے آغاز میں تیز رو میں بہتے قاری کو بعد کی سست روی نے جھِلا کے رکھ دیا ہے۔ 

اگر محض رومی، شمس، اور اس وقت کے کونیا کے تمام کرداروں پر کہانی چلتی تو شاندار رہتی۔ بار بار تیرہویں صدی کے صوفی ماحول سے نکل کر امریکی خاتون پر شفٹ ہونا سارا تسلسل خراب کر دیتا ہے۔ تصوف اور روحانیت کو سمجھنے کیلئے یہ ناول بہترین دستاویز ہے مگر یہ صرف رومی اور شمس پر رہتا تو اور بہتر ہوتا۔ میری تنقید پر مت جائیے گا یہ ناول آج بھی سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے سو ناولوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کا چالیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ایلا یعنی امریکی خاتون کو زبردستی ڈالنے کے پیچھے بھی شاید یہی مقصد تھا کہ اس ناول کو محض صوفی ازم یا اسلام کے قاری تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ایک عام آدمی کی زندگی میں روحانیت کی ضرورت و افادیت تک لے جایا جائے۔ اب اس کے پیچھے مصنفہ کی مادی یا روحانی خواہش جو بھی تھی وہ کامیاب ہوئی۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !