جیمز جوائس کے شہرۂ آفاق ناول یولیسس کا پہلا مکمل اور غیر محذوف فارسی ترجمہ(بغیر سنسرشپ) لندن سے شائع ہوا. جو "ناشر نوگام" "چوتھے تہران بک فیئر میں پیش کیا۔
اسی طرح سنسرشپ کے خطرات سے بچنے کے لیے ہی جیمز جوائس نے اپنے شہرۂ آفاق ناول یولیسس کو 1922ء میں اپنے وطن آئرلینڈ کے بجائے پیرس میں شائع کیا۔ یہ ایک ایسی غیر معمولی ادبی کاوش تھی جسے انہوں نے جدید ناول کی ہیئت، زبان اور امکانات کو ازسرِ نو متعین کرنے کے بلند حوصلہ ارادے کے ساتھ تخلیق کیا تھا۔
جیمز جوائس نے ایک موقع پر کہا تھا کہ انہوں نے یولیسس میں اتنی گتھیاں، اشارے اور فکری پیچیدگیاں سمو دی ہیں کہ ناقدین اور محققین آئندہ تین سو برس تک اس کی تشریح و تعبیر میں مصروف رہیں گے۔
ڈاکٹر اکرم پدرامنیا نے اس دشوار اور پیچیدہ ادبی شاہکار کے ترجمے کا آغاز 2014ء میں کیا۔ تاہم اس سے قبل انہوں نے ایک سے دو سال تک ناول، اس کے تاریخی، ادبی اور اساطیری پس منظر، نیز اس پر لکھی گئی تنقیدی و تحقیقی تحریروں کا گہرا مطالعہ کیا، تاکہ ترجمے کے اس عظیم اور کٹھن سفر کا آغاز پوری علمی تیاری کے ساتھ کیا جا سکے۔
پورے ناول میں 18 ابواب ہیں، اور اس کے فارسی ترجمے کی پہلی جلد میں کتاب کے پہلے چھ ابواب شامل ہیں، اس کے علاوہ ہر باب کے آخر میں کبھی کبھی تفصیلی اور کبھی مختصر فوٹ نوٹ شامل ہیں۔ یہ کتاب 570 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں سے تقریباً پانچواں حصہ اصل متن ہے، اور باقی مترجم کے حاشیہ اور تعارف پر مشتمل ہے۔ بہت سے معاملات میں، مصنف کے اسلوب اور زبان کا شفاف ترجمہ کرنے کے لیے نسبتاً مفصل فوٹ نوٹ ضروری تھے۔
بعض صورتوں میں، فوٹ نوٹ زبانی پیچیدگیوں، اشاروں اور حوالہ جات، ثقافتی تہوں، تاریخی واقعات، دیگر متون کے حوالے اور اشارے، اور دوسری زبانوں کے بے شمار جملوں کو واضح کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔
" دوسری صورتوں میں، جہاں کسی تصور پر اہل علم کا اتفاق نہیں ہے، میں نے متعلقہ حاشیہ میں مختلف تشریحات شامل کی ہیں"
درحقیقت جیمز جوائس کے ناول یولیسس کا ترجمہ دنیا کے دیگر ادبی متون کے تراجم سے یکسر مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ اسے محض دو زبانوں کی خواندگی یا دو ثقافتوں کے عمومی علم کی بنیاد پر آسانی سے ترجمہ نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے نہایت وسیع اور گہرا علمی پس منظر درکار ہوتا ہے۔ مترجم کو نہ صرف دونوں زبانوں پر مضبوط گرفت ہونی چاہیے بلکہ مصنف کے دیگر کاموں اور اس کے فکری و اسلوبیاتی نظام سے بھی مکمل آگاہی ضروری ہے۔
اس نوعیت کے ترجمے کے لیے ایک وسیع مطالعاتی دائرہ ناگزیر ہے، جس میں ہومر کی تخلیقات، دانتے کی الہی کامیڈی، شیکسپیئر کا مکمل ادبی ذخیرہ، اور آئرلینڈ و اسکاٹ لینڈ کی ادبی روایات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ارسطو، ابنِ رشد، یہودی عالم میمونائڈز اور دیگر فلسفیوں اور مذہبی مفکرین کی تحریروں کا مطالعہ بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
مزید برآں، ہائبرنو-انگلش (آئرش انگریزی) کی لسانی ساخت اور اس کے مخصوص لہجوں کی درست فہم بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ اس کے بغیر متن کے متعدد مقامات پر معنی کی باریکیوں اور اسلوبی اشاروں کو درست طور پر سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ اسی طرح آئرلینڈ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی کی تاریخ اور ثقافتی پس منظر سے آگاہی بھی ایک بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ناول مختلف تہذیبی حوالوں اور تاریخی پرتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔"
اکرم کے مطابق ان کے ترجمے کی ایک بنیادی خصوصیت مصنف کے اسلوب اور سیاق و سباق کے ساتھ سخت وفاداری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تجرباتی تکنیکوں، لسانی و ادبی وسائل اور بیانیہ اسلوب کو نہایت باریک بینی سے منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح متن کی صوتی ساخت، انسانی تجربے کی جہات، مقامی بولیوں کے اثرات اور دیگر لطیف مگر اہم لسانی و فنی پہلوؤں کو بھی خصوصی توجہ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔
"میرے ترجمے کی ایک اہم خصوصیت مصنف کے اسلوب اور سیاق و سباق، تجرباتی تکنیک، زبان اور ادبی آلات، اور بیانیہ اسلوب، لکیری اور صوتیاتی پن، بشریت، مقامی بولیوں، اور بہت سے دوسرے چھوٹے موٹے نکات سے سخت وفاداری ہے۔
دوسرے لفظوں میں اس تصنیف کے ہر لفظ اور جملے کے ترجمہ میں خاص احتیاط اور احتیاط برتی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر اصل متن میں اس دور کا کوئی متروک یا بول چال کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو میں نے اسے فارسی میں اسی دور کے متروک اور تقریباً بول چال کے لفظ سے بدل دیا ہے۔
میں نے ان حصوں کا ترجمہ کیا ہے جو مختلف ادوار کے پرانے فارسی تحریری انداز کو استعمال کرتے ہوئے پرانی انگریزی تحریروں کے مختلف ادوار کی تقلید میں لکھے گئے تھے، لسانی پیچیدگیوں کو برقرار رکھتے ہوئے ہدف کی زبان میں منتقل کیا، جوائس کے ایجاد کردہ الفاظ اور محاورات کو فارسی میں دوبارہ تخلیق کیا، اور یہاں تک کہ رموزِ اوقاف کا مشاہدہ کرتے ہوئے اصل متن کے ساتھ وفادار رہنے کی کوشش کی ہے جو انگریزی میں رموزِ اوقاف کے اصول نہیں ہیں۔
مرکزی متن میں پیچیدہ جملوں اور فقروں کو آسان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ حاشیہ میں بیان کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو ان کے معنی سمجھنے میں مدد ملے، علماء اور جوائس اسکالرز کے نقطہ نظر کا استعمال کرتے ہوئے اور درست ذرائع کا حوالہ دیا جائے۔
اس طرح قاری متن کے اندر غور و فکر کرنے، تحقیق کرنے اور دریافت کرنے کے موقع سے محروم نہیں رہتا۔ مجموعی طور پر، میری پوری کوشش ہے کہ اس کام کا فارسی قاری متن کا تجربہ اسی طرح کرے جس طرح انگریزی پڑھنے والے کو ہوتا ہے۔"
ڈاکٹر اکرم کے انٹرویو سے (رضا شکر اللہ)2019
زیورخ میں "جیمز جوائس فاؤنڈیشن" میں دو ماہ کی ریسرچ فیلوشپ پر)
