اس کی اس خطرناک حد تک احمقانہ خود اعتمادی نے دو ماہرینِ نفسیات، ڈیوڈ ڈننگ اور جسٹن کروجر کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے اس رویے پر گہری تحقیق کی اور انسانی ذہن کے ایک انتہائی دلچسپ فریب کو دریافت کیا جسے آج نفسیات کی دنیا میں "ڈننگ-کروجر ایفیکٹ" (Dunning-Kruger Effect) کہا جاتا ہے۔ یہ ذہن کا وہ فریب ہے جس میں کم علم، ناتجربہ کار یا نااہل لوگ اپنی صلاحیتوں کا اندازہ حقیقت سے کہیں زیادہ لگاتے ہیں۔ آسان الفاظ میں، انسان کے پاس یہ جاننے کے لیے بھی تھوڑا سا علم درکار ہوتا ہے کہ وہ کس قدر ناواقف ہے۔ چونکہ ایسے لوگوں کو کسی بھی کام کی گہرائی، پیچیدگی اور مشکل کا اندازہ ہی نہیں ہوتا، اس لیے وہ خود کو بہت بڑا ماہر سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس، جو لوگ واقعی وسیع علم رکھتے ہیں اور ماہر ہوتے ہیں، وہ اکثر اپنی صلاحیتوں کو کم تر سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ابھی کتنا کچھ سیکھنا باقی ہے۔
یہ نفسیاتی رویہ ہمیں اپنے اردگرد روزمرہ زندگی میں بھی بکثرت نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص محض دس منٹ کی یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر کسی تجربہ کار ڈاکٹر یا انجینئر سے پورے اعتماد کے ساتھ بحث کرنے لگتا ہے، یا ٹی وی کے سامنے بیٹھا شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ گراؤنڈ میں موجود کھلاڑیوں سے کہیں بہتر کھیل سکتا ہے۔ اسی طرح، اکثر محفلوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے تمام پیچیدہ معاشی اور سیاسی مسائل چٹکی بجاتے حل کر سکتے ہیں۔ ہماری ثقافت میں اسی کیفیت کو "نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان" کے محاورے میں بخوبی سمویا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچا علم ہمیشہ انسان کو عاجز بناتا ہے، جبکہ جہالت انسان کو بلاوجہ کا اعتماد بخشتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ کبھی کسی نئے موضوع پر بہت جلدی اور حد سے زیادہ پر اعتماد ہو رہے ہوں، تو ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے ضرور پوچھیں کہ کیا آپ واقعی اس بارے میں اتنی گہری معلومات رکھتے ہیں، یا یہ محض آپ کے ذہن کا لیموں کا رس ہے؟
