ڈننگ-کروجر ایفیکٹ۔۔۔۔ خالد عثمان

1995 میں امریکہ کے شہر پٹسبرگ میں ایک شخص میک آرتھر وہیلر نے دن دہاڑے دو بینک لوٹے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے چہرے پر کوئی ماسک نہیں پہنا تھا، کوئی بھیس نہیں بدلا تھا اور وہ بینک کے سیکیورٹی کیمروں کی طرف دیکھ کر مسکرا بھی رہا تھا۔ پولیس نے اسی رات اسے باآسانی گرفتار کر لیا، لیکن جب اسے کیمرے کی فوٹیج دکھائی گئی تو وہ حیرت سے چیخ پڑا کہ اس نے تو اپنے چہرے پر لیموں کا رس لگایا تھا۔ دراصل، وہیلر کو کہیں سے پتا چلا تھا کہ لیموں کے رس کو خفیہ خطوط لکھنے کے لیے "پوشیدہ سیاہی" (Invisible Ink) کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس سے اس نے یہ احمقانہ منطق نکالی کہ چہرے پر لیموں کا رس ملنے سے وہ سیکیورٹی کیمروں کی نظروں سے بالکل غائب ہو جائے گا۔ وہ اپنی اس منطق پر اتنا زیادہ پر اعتماد تھا کہ اس نے دن کے اجالے میں بغیر منہ چھپائے چوری کا خطرہ مول لے لیا۔
اس کی اس خطرناک حد تک احمقانہ خود اعتمادی نے دو ماہرینِ نفسیات، ڈیوڈ ڈننگ اور جسٹن کروجر کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے اس رویے پر گہری تحقیق کی اور انسانی ذہن کے ایک انتہائی دلچسپ فریب کو دریافت کیا جسے آج نفسیات کی دنیا میں "ڈننگ-کروجر ایفیکٹ" (Dunning-Kruger Effect) کہا جاتا ہے۔ یہ ذہن کا وہ فریب ہے جس میں کم علم، ناتجربہ کار یا نااہل لوگ اپنی صلاحیتوں کا اندازہ حقیقت سے کہیں زیادہ لگاتے ہیں۔ آسان الفاظ میں، انسان کے پاس یہ جاننے کے لیے بھی تھوڑا سا علم درکار ہوتا ہے کہ وہ کس قدر ناواقف ہے۔ چونکہ ایسے لوگوں کو کسی بھی کام کی گہرائی، پیچیدگی اور مشکل کا اندازہ ہی نہیں ہوتا، اس لیے وہ خود کو بہت بڑا ماہر سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس، جو لوگ واقعی وسیع علم رکھتے ہیں اور ماہر ہوتے ہیں، وہ اکثر اپنی صلاحیتوں کو کم تر سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ابھی کتنا کچھ سیکھنا باقی ہے۔
یہ نفسیاتی رویہ ہمیں اپنے اردگرد روزمرہ زندگی میں بھی بکثرت نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص محض دس منٹ کی یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر کسی تجربہ کار ڈاکٹر یا انجینئر سے پورے اعتماد کے ساتھ بحث کرنے لگتا ہے، یا ٹی وی کے سامنے بیٹھا شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ گراؤنڈ میں موجود کھلاڑیوں سے کہیں بہتر کھیل سکتا ہے۔ اسی طرح، اکثر محفلوں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے تمام پیچیدہ معاشی اور سیاسی مسائل چٹکی بجاتے حل کر سکتے ہیں۔ ہماری ثقافت میں اسی کیفیت کو "نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان" کے محاورے میں بخوبی سمویا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچا علم ہمیشہ انسان کو عاجز بناتا ہے، جبکہ جہالت انسان کو بلاوجہ کا اعتماد بخشتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ کبھی کسی نئے موضوع پر بہت جلدی اور حد سے زیادہ پر اعتماد ہو رہے ہوں، تو ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے ضرور پوچھیں کہ کیا آپ واقعی اس بارے میں اتنی گہری معلومات رکھتے ہیں، یا یہ محض آپ کے ذہن کا لیموں کا رس ہے؟
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !