چتر لیکھا۔۔۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر


جوگی بت کی طرح کھڑا تھا- چتر لیکھا نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے- جوگی کو ایک عجیب کپکپاہٹ کا احساس ہوا مگر وہ کپکپاہٹ بڑی مسرت آمیز تھی- "ہاں! میرا اور تمہارا ساتھ شاید ناممکن ہے- میں عورت ہوں اور تم مرد- میں رقاصہ ہوں اور تم جوگی- میرا میدان ہے نفس اور تمہارا میدان ہے، عبادت، دونوں میں دشمنی ہے- تم میری زندگی میں بگولے کی طرح آ کر نکلے جاتے ہو، ٹھیک ہی ہے!
کوشش کروں گی کہ مستقبل میں تم سے نہ ملوں- مگر اس سے پہلے کہ ہم دونوں علیحدہ ہوں، جوگی! میں تمہارے قدموں کی دھول اپنے ماتھے پر لگانا چاہتی ہوں-"
چتر لیکھا کمارگری کے پاوں پر گر پڑی-

  "یہ پھول کتنے نازک ہیں، ان کی خوشبو میں کتنی مستی ہے- یہ پرندوں کا چہچہانا کتنا میٹھا ہے- اس میں دل کو موہ لینے والا سنگیت ہے- کوئل کی آواز میں کتنی مٹھاس اور کتنا سوز ہے"
            " یہ پھول نازک ہیں؟ ٹھیک ہے، مگر ان میں کانٹے بھی تو ہیں- نجانے کتنے چھوٹے چھوٹے بھنگے ان پھولوں میں گھسے ہوئے ہیں- ان کی خوشبو عارضی ہے، پھر یہ کس کام کے- یہاں ویرانے میں اپنا حسن گنوا دیتے ہیں- اور ان پرندوں کی آواز میں مٹھاس ہو سکتی ہے- مگر سمجھی بوجھی زبان نہ ہونے کے کارن یہ آوازیں جذبات سے عاری ہیں- یہ اس سنگیت کی طرح ہیں، جس میں سروں کا اتار چڑھاو نہ ہو- اس سنگیت میں ساتوں ہی سر ایک ساتھ گونج اٹھتے ہیں_ ان کے چہچہانے سے کہیں زیادہ میٹھا انسان کے گلے سے نکلا ہوا سنگیت ہوتا ہے- اور کوئل کی آواز میں صرف پنچم ہے جسے زیادہ دیر تک سننے سے دل اکتا جاتا ہے- کوئل کیا کہتی ہے، یہ کوئ نہیں جانتا- شاید وہ کچھ نہیں کہتی "
ہمارا نوٹ۔۔۔
یہ اس عورت کی کہانی ہے جو نہایت حسین ہونے کے ساتھ رقص کے کامل فن پر بھی عبور رکھتی ہے اور اپنی ذہانت سے بھرے دربار میں جوگی کو ہرا کر اپنی فتح کا تاج پہن کر خود ہار جاتی ہے۔ بذلہ سنجی، حاضر جوابی، ذہانت، مکر و فریب اور ترچھی اداوں کے مہلک ہتھیاروں سے لیس وہ ایک جوگی کے من کو جیتنے کے لئے کتنا گر سکتی ہے۔ حرف حرف معطر ناول ختم کئے بنا چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ہم اسے اب امریکہ میں شاید پچاسویں بار پڑھ رہے ہیں۔ دسویں جماعت سے لے کر اب تک ہزاروں بار پڑھنے کے باوجود اس کی دلکشی مدہم نہیں پڑی۔۔۔

"شراب کے چھلکتے ہوئے پیالے کو چتر لیکھا کے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے بیج گپت نے کہا - "چتر لیکھا! جانتی ہو زندگی کا سکھ کیا ہے؟"
                    چتر لیکھا کی ادھ کھلی آنکھوں میں مستی تھی، اور سرخ گالوں پر خوشی ناچ رہی تھی- شباب کی ترنگ میں حسن کلیلیں بھر رہا تھا- بازوؤں کی گرفت میں پیار ہنس رہا تھا- چتر لیکھا نے شراب کا پیالہ ہونٹوں سے لگایا- اس کے بعد وہ مسکرائ- ایک لمحے کے لئے اس کے ہونٹوں نے بیج گپت کے ہونٹوں سے خاموش زبان میں کچھ بات کہی- پھر آہستہ سے اس نے جواب دیا, "مستی"

             پاٹلی پتر کی حسین رقاصہ کے اس کردار کو بھگوتی چرن شرما نے اپنی معرکتہ آرا کتاب میں امر کر دیا ہے۔ اردو میں اس کا انتہائ خوبصورت ترجمہ سوم آنند نے کیا ہے۔ یہ کتاب پیپلز پبلیشنگ ہاوس لاہور نے چھاپی ہے۔ 

            کیدار شرما صاحب(1999_1914) نے اس ناول پر دو بار فلم بنائ۔ پہلی فلم 1941 میں بنی۔ مہتاب اس کی ہیروئین تھیں۔ سنگیت کار مشکور ہندوستانی اور گائیک استاد جھنڈے خان۔ اس فلم کے سارے گانے راگ بھیرویں کی دھن میں بنائے گئے تھے اور بے حد پسند کئے گئے تھے۔
تم جاو- جاو- بھگوان بنو
انسان بنو تو جانوں 
بے حد مشہور گانا تھا۔ اس فلم میں ہندوستان کی فلم انڑسٹری میں پہلی بار سنسر بورڈ نے فلم کے کسی سین پر اعتراض کر کے اپنی قینچی چلائ تھی۔ یہ فلم اب ناپید ہے۔
            دوسری بار کیدار شرما نے ہی مینا کماری، پردیپ کمار اور دادا منی اشوک کمار کو لے کر بنائ۔ انتہائ خوبصورت فلم ہونے کے باوجود ناکام رہی تھی۔
           پاپ کیا ہیں اور پن کیا؟۔ اس سوال کا جواب اس ناول میں اتنی مہارت اور خوبصورتی سے دیا گیا ہے کہ یہ کتاب ہندی کلاسیکل ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
دوسری بار کی فلم میں یہ کردار محترمہ مینا کماری صاحبہ نے یوں نبھایا کہ سچ مچ اس میں ڈوب گئیں۔
شراب کے نشے میں چور اور شباب کے انوکھے گہنے سے سر تا پیر شرابور، گناہوں سے لت پت رقاصہ جو گیان دھیان میں وقت کے سب سے بڑے جوگی سے بھی زیادہ اونچے درجے پر فائز ہے کیونکہ وہ اپنا آپ مکمل طور پر پہچانتی ہے اور کہیں بھی دوغلہ پن یا دورنگی نہیں برت سکتی۔
اس فلم کا ایک بے حد پاور فل سین ہمیں بے حد پسند ہے جب مینا کماری ایک کلی کا زکر کرتی ہیں جو سیلاب میں بہتی بہاتی، گندگی اور کیچڑ میں لت پت ہو کر بھگوان کے چرنوں میں جا پڑتی ہے۔ ہنستے مسکراتے ہوئے یکدم جذبات کی رو میں بہہ کر یوں رو اٹھنا کہ اداسی نس نس میں اتر کر منجمد ہو جائے، مینا کماری کی بے حد موثر اداکاری کا وہ عروج ہے جسے اداکاری سکھانے کی اکیڈمیز میں یقینا پڑھایا جانا چاہیے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !