توکل کا ہمارا نظریہ۔۔۔ اسماعیل حسنی

میرے پاس ایک پختہ عمر (جس کی داڑھی میں سیاہی سفیدی برابر) کا آدمی لگاتار آتا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی فرمائش لے کر آتا ہے۔ کبھی قرض مانگتا ہے، میرے پاس ہوتا ہے تو دے دیتا ہوں۔ کم رقم کی واپسی طلب کرنا بذات خود باعثِ شرم ہے۔ کبھی کوئی سریا یا دروازہ مانگتا ہے، کبھی چادر، کبھی بجلی کا تار۔

میں اس کی مدد کرتا رہا، مگر دل میں ایک کھچاؤ تھا۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ یہ بیچارہ مریض ہے اور کام کاج بھی نہیں کرتا۔ یہ سن کر میرا دل مزید دکھا۔ میں اس فکر میں مبتلا ہوگیا کہ نہ جانے کتنے بچے ہوں گے اس کے اور کیسے پلتے ہوں گے۔

کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ اس کے ۱۳ بچے ہیں۔ ان میں سن رسیدہ بھی ہیں اور دودھ پیتے بھی۔ یعنی وہ شاید مزید بچے پیدا کرنے کا جذبہ بھی رکھتا ہے۔ یہ دیکھ کر میری حیرت اور افسوس دونوں بڑھ گئے۔

ایک روز وہ حسبِ معمول آیا اور کہنے لگا: 

”سردی آرہی ہے، بچوں کے لیے کمرہ تو بنا لیا ہے، اب دروازہ درکار ہے۔ اگر آپ کے پاس ہو تو...“ 
میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک طرف لے جا کر پوچھا: 
”آپ کو ٹی بی کا مرض کب سے ہے؟“ 
اس نے کہا: 
”بہت پرانے، بلکہ عین جوانی سے۔“ 
(شاید غربت کی وجہ سے ہی علاج نہ کر پائے ہوں گے۔)

میں نے پوچھا: 
”تب سے آپ کام نہیں کر سکتے؟“ 
اس نے کہا: 
”جی ہاں۔“ 
میں نے کہا: 
”خدا کا بندہ جب صحت کا یہ حال ہے تو اتنے سارے بچے ماشاءاللہ سے کیوں پیدا کیے؟“ 
وہ جھٹ سے بولا: 
”خدا نے پیدا کیے، وہی اب پالے گا۔“

میں نے کہا: 
”خدا آپ کی شادی سے پہلے کیوں نہیں پیدا کرتا تھا؟ خدا کا بندہ، کچھ احتیاط کرو۔“ 
میں نے اسے سمجھایا کہ توکل کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ذمہ داری سے غافل ہو جائیں۔ خدا نے ہمیں عقل دی ہے، ہمیں اپنی استطاعت کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

قرآن میں واضح ہے: لَا یُکَلِّفُ اللَّہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا اللہ کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہر انسان اپنی طاقت کا مکلف ہے، نہ کہ غیر محدود خواہشات کا۔

آج کے دور میں سنجیدہ انسان ضرورت سے زیادہ بچے پیدا کر کے معاشرے کو ستانے کے لیے گلیوں میں نہیں چھوڑتا۔ نہ ہی وہ اپنی بیوی کو بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھتا ہے۔ ایک بچہ اپنی ماں کی جوانی اور زندگی کا پانچ کامل برس کھاتا ہے۔ اولاد رحمت ہے، لیکن بے ضابطگی سے پیدا کرنا اس رحمت کو عذاب میں بدل دینا ہے۔

شرعی اعتبار سے بھی انسان کو اپنی صحت، وسائل، اور ذہنی صلاحیت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ بچوں کی تربیت، تعلیم، صحت اور مستقبل، یہ سب والدین کی ذمہ داری ہے، نہ کہ محض ”خدا دے گا“ کے جملے پر چھوڑ دینا۔

میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ حقیقی توکل یہ ہے کہ تم اسباب کو اختیار کرو، پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔ نہ کہ اسباب کو ہی ترک کر دو اور پھر معجزے کا انتظار کرو۔ یہ توکل نہیں، غفلت ہے۔

سردی کے آغاز سے اب تک وہ دوبارہ طلب کی غرض سے میرے سامنے نہیں آیا۔ شاید میرے الفاظ نے اس کے سوچنے کا زاویہ بدل دیا۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ اسے اور اس کے بچوں کو آسانیاں عطا فرمائے، اور ہمیں بھی دین و دنیا کی سمجھ عطا کرے۔

ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے لوگوں کی رہنمائی کرنی چاہیے، نہ کہ صرف ان کی مدد کر کے چپ رہ جائیں۔ کیونکہ اصل احسان انہیں صحیح راستہ دکھانا ہے، تاکہ وہ اور ان کے بچے مستقبل میں کسی کے محتاج نہ رہیں۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !