ہوش سنبھالتے ہی ہم نے محرم میں عزادری اور ماتمی جلوس نکلتے دیکھے تھے مجالس بھی برپا ہوتی تھیں مجالس میں تلاوت کے علاوہ سوز خوانی کرنے والے وہی تھے جو یوپی سے آئے تھے زاکری سرائیکی اور پنجابی میں ہوتی تھی آخری تقریر کسی عالم کی اُردو بولنے والے عالم کی ہوتی تھی بعد ازاں ان میں پنجابی عالم بھی شامل ہوئے تقریر اُردو ہی میں ہوتی تھی علامہ رشید ترابی ، طالب جوہری ، علامہ محمد بشیر انصاری ، گلفام حسین ہاشمی ، تجمل حسین تجمل، مولوی اسمعیل دیوبندی اور بہت سے علما یہاں مجالس سے خطاب کرتے رہے۔
ہمیں شعر اچھے لگتے تھے ہمارے ساتھ چندا تھا جو نعت خوان بننا چاہتا تھا شفقت وجاہت دو بھائی ہمارے چچا ذاد تھے ہمارا لڑکپن انہی گلیوں میں گزرا یونہی گلیوں میں پھرتے پھراتے کبھی کسی جگہ کبھی کسی جگہ ہم نے بہت سے شاعروں کو امام باڑوں میں پڑھتے سنا ان کا پڑھنے کا انداز ، ادائگی ، تلفظ، ڈرامائی انداز، لہجے کا اتار چڑھاؤ اور اس پہ داد دل کو کھینچتے تھے شاید مرثیہ پڑھنے والے پنجاب یا لاہور میں یہی لوگ آخری تھے ہماری ہی سڑک یعنی گورو تیغ بہادرروڈ پہ بلاک سیداں نامی امام باڑہ تھا اب وہاں دکانیں بن گئی ہیں ان دکانوں کی جگہ صحن تھا ارد گرد چار دیواری ٹیڑی میڑھی تھی صحن کے بعد برآمدہ تھا جس کے ستون ہمارے گھر کی طرح تھے اور فرش بھی ویسا ہی سُرخ تھا یہ ہمارے گھر کا ایک چھوٹا ماڈل لگتا تھا اس میں لکڑی کے دو دروازے سڑک کے رُخ تھے یہ دروازے لکڑی کے تھے بلکہ ٹوٹے پھوٹےتھے ہم اسی دروازے میں کھڑے رہتے تھے یہاں لوگ بہت زیادہ نہ ہوتے تھے یہاں مجلس شام سے شروع ہوتی اور مغرب پہ اختتام پزیر ہوتی یہیں ہم نے جناب قیصر بارہوی کو مرثیہ پڑھتے دیکھاایک دو با ر نہیں متعدد بار دیکھا کمال مرثیہ پڑھتے تھےیہ یاد نہیں وحید الحسن ہاشمی صاحب کو کہاں مرثیہ پڑھتے دیکھا اور سُنا۔ویصر بارہوی مرثیہ پڑھ کے ٹوپی ہٹھ میں لیے پیدل ہئ چل پڑتے تھئ آج کے زاکروں کا پروٹوکول بھی دیکھیے- یہیں ہم نے مولوی اسمعیل دیوبندی کو بھی مجلس پڑھتے دیکھا مولوی صاحب منبر پہ نہ بیٹھتے تھے بلکہ کھڑے ہو کے مجلس پڑتے تھے ان کے سر پہ تلے والا نوک دار کلاہ تھا جس پہ سفید ململ کا صافہ لپیٹا جاتا تھا یہی کلاہ عموما اہلِ سنت مساجد کے مولوی پہنا کرتے تھے قراقلی ٹوپی جناح کیپ بنی اور پھر فیشن ایبل مولیوں نے اسی کو پہننا شروع کردیا ۔
بلاک سیداں کے متولی کو پھلو شاہ کہتے تھے امام باڑے کے عقب میں دور چار گھرایسے تھے جہاں صحن میں یا بیٹھک میں شعری محافل منعقد ہوتی تھی جنہیں مسالمہ بعد میں کہا گیا یہیں ہم نے جناب احسان دانش کو بھی دیکھا یہاں بیٹھے شعرا کو دیکھا تو پہلے ہی تھا مگر ان کی پہچان بعد میں ہوئی یہ شعرا وہ تھے جن میں سے اکثر کا تعلق کرشن نگر سے تھا جناب زیبا ناروی ، وحید خیال ، مطلوب احمد خان مطلوب ، مختار بخاری، سلامت علی خیال ، مسعود رضا خاکی ، نگہت صاحب تھے ، جناب سیف زلفی کو ان مجالس میں اور جلوس میں بھی دیکھا ۔ آٹھ محرم کا جلوس تیسرے پہر بلاک سیداں سے نکلتا اور ہمارے گھر کے سامنے والی گلی سے ہوتا ہوا عمر روڈ حیدر روڈ ااسلام پورہ بازار سےہوتا ہوا واپس وہیں ّآکے اختتام پزیر ہوتا
ہمارا گھر چونکہ کرشن نگر کے مین بازار میں تھا اور ہمارے گھر کے عقب میں عزا خانہ پانڈو سٹریٹ تھا اس لیے ہمیں بچپن میں گلیوں میں پھرتے پھراتے ہر بات کی خبر رہتی تھی اُس زمانے میں بچوں اور بڑوں کے پاس وقت ہی وقت ہوتا تھا جو شہر یا علاقے میں ہونے والی تقریبات ، عبادات ، رسومات کی معلومات اکٹھی کرنے کی طرف متوجہ کرتاتھا ہمیں اسکول ، کالج ، کاروبار نوکری کے علاوہ کتابیں پڑھنے اور لوگوں میں گھومنے پھرنے کی ہڑک ستائے رکھتی تھی۔
پانڈواسٹریٹ والے نہال نقوی کسی دفتر میں ملازم تھےیہ امروہے کے تھے منحنی ،خشخشی داڑھی ، قراقلی ٹوپی اور سائکل کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھے آتے جاتے دکھتے یہ امام باڑہ نقوی کے امام باڑے کے نام سے مشہور تھا نقوی تمام انتظامات کرتے امام باڑہ کی دیواریں قدِ آدم جتنی بھی اُونچی نہ تھیں اور ایسی تھیں کہ ہاتھ لگاؤ تو گر جائیں بلکہ گر بھی جاتی تھیں ان کا گھر آج بھی ویسا ہی ہے بغیر پلسترکے کھنڈر نمامگر امام باڑے کے دونوں حصے اب ماربل سے سج چکے۔ یہاں ہونے والی مجالس میں ہم نے عزیز میاں قوال ، سیف زلفی اورجناب انتظار حسین کو علاوہ بہت سے معروف لوگوں کو مجالس سنتے دیکھا۔
ہم سب دوست مجلسیں تو سنتے تھے مگر باہر کھڑے ہوکے پھر پورے گروپ نے طے کیا کہ امام باڑے کے اند ر جائیں گےپہلے شامِ غریباں کی مجلس سنی پھر روشنیوں کا گُل ہونا اور مصائب کا پڑھے جانا ٹیلی ویژن پہ کچھ اور تاثر بناتا ہے یہاں کچھ اوربعد میں ٹیلی ویثر ن پہ سنا تھا مگر یہیں پہلی مرتبہ گھبرائے گی زینب اور سلامِ آخر سنا ۔
محرم سے پہلا تعارف بچپن میںرات گئے کے خوف اور پراسراریت سے ہوارفتہ رفتہ یہ پردے ہٹتے گئے دنیا دیکھنے سے ہی پتا چلتا ہے جب مجلسیں ہوتی تھیں اور ہم کرشن نگر کی گلیوں میں پھرتے تھے بارہ چودہ پندرہ برس کے ہوں گے تب ایک مرتبہ سیاہ بُرقعے میں انتہائی فربہ معزز خاتون سامنے والی گلی میں کسی گھر کیسی تھڑی پہ بیٹھی روتی دکھائی دیں پوچھنے پہ پتا چلا کہ گھر والوں سے بچھڑ گئی ہیں ہم نے ان کے گھر کی نشانی پوچھی تو یہ کاکا پان شاپ والی گلی اسلام پورہ بازار کی بنتی تھی ہم انہیں لے کے چلے بزرگ خاتون نے ہمارا ہاتھ تھام رکھا تھا کہ سہارے کے بنا چل نہیں سکتی تھیںتب ہی انہوں نےپوچھا شیعہ ہو ہم نے کہا نہیں ! بزرگ خاتون کی ہمارے ہاتھ پہ گرفت ڈھیلی پڑ گئی پھر یکدم دوبارہ ہمارے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کے فرمانے لگیں کوئی بات نہیں اُمتِ رسول تو ہو۔
ایک مرتبہ گلی کے لونڈےلپاڑے جنہیں کچھ تاریخ کی خبر تھی انہوں نے مولانا غُلام حسین آف ساہیوال کی کسی تقریر پہ اعترض کیا نقوی صاحب نے جھٹ نوجوانوں کو مولاناکے سامنے بٹھا دیامولانا تقریباً نابینا تھے ہم بھی سب کے ساتھ تھے حوالے دیے گئے نوجوان مطمعن نہیں ہورہے تھے نقوی صاحب فرمانے لگے مولانا ان بچوں کو مطمٗن کیجے آپ نے چلے جانا ہے ہم نے یہیں رہنا ہے ایسے لوگ تھے جب ۔
نقوی صاحب کے نویں کےجلوس میں ایک تو وہی علم تھا ساداتِ بارہہ کا جو اب بھی ہے مگر شاید اس کی اونچائی کچھ کم ہو گئی ہو گی جب یہ جلوس نیلی بار بینک کے قریب پہنچتا تو اسی علم کے تلے ایک ادھیڑ عمردبلا پتلا سا شخص نوحہ پڑھتا تھا اس کے گرد ماتمی کم ہی ہوتے نہ زوروں کا ماتم ہوتا بس یہ پڑھتا رہتا اس کے اشعار کسی پرانےلکھنوی استاد کے ہوں گے اُردو بھی نہایت شُستہ تھی آواز بھی صاف تھی ہم اور چنداسے سننے ضرور جاتے۔
اس جلوس میں گہورۂ علی اصغر ، تابوت، تعزیہ ، ہوتا یہ تعزیہ اب دیکھیں تو بس واجبی سا ہی ہے لکڑی اوررنگین شیشوں سے بناکم نما سا اس میں روایتی تعزیے کی کوئی جمالیاتی خوبی ہمیں تو نہیں لگی۔ اسی جلوس میں موقع بہ موقع اعلان کرنے اور مختلف شعرا کو کلام پڑھنے کا موقع دیا جاتا مختلف نوحہ خواں پڑھتے ، یہ جلوس صبح سے نکل کے رات بارہ بجے اختتام پزیر ہوتاہے ۔
نقوی کے امام باڑے کے کے باہر تین زندہ ہستیاں موجود رہتی تھیں ایک دلدل ، دوسرے نقوی صاحب کے والد جنہیں بڈھا ندیم کہتے تھے یہ بڑے میاں گلی میں بیٹھے رہتے یا امام باڑے میں جس کے در وا رہتے ایک نقوی کا بیٹا جو پیدائشی ابنارمل تھا اور جس کے پاوں میں زنجیر پڑی ہوتی تھی پھرتینوں نہ رہے۔
چھ محرم کو رسالہ بازار پرانی انارکلی سے ایک تعزیہ سنہرے رنگ کا عزا خانہ پانڈو اسٹریٹ تک آتا تھا رسالہ بازار کسی زمانے میں قابلِ ذکر محلہ تھا بعد ازاں بس اسی تعزیے سے اس کا نام رہ گیا فلم اسٹار منور سعید اس کے ساتھ ساتھ آتے تھے شاید یہ ان کے خاندان سے کوئی تعلق تھا اس تعزیے کا
پیک ؛ ہمارے بچپن لڑکپن میں بہت سے سنی گھرانوں میں کسی بیٹے کو پیک بنایا جاتا تھا پاک ٹی ہاوس کا ایک بیرا رفیع بھی پیک بنتا تھا شاید یہ کوئی منت تھی جسے پورا کیا جاتا تھا سبز لباس میں ملبوس ہاتھ میںچھوٹاسا سبز علم لیے اپنی دھن میں سیدھے چلے کئی ایک پیک دیکھے تھے جو صرف یہ پڑھتے جاتے ۔۔۔علیؑ کا لاڈلا حسین ، شہیدِ کربلا حسین ،، حسین حسین ، حسین حسینؑ۔۔وقت کے ساتھ یہ بھی کہیں دکھائی نہیں دیا۔۔
دسویں محرم کو امام باڑہ کانگڑہ سے تعزیہ کا جلوس نکلتاان کا گھر بھی بڑے سے صحن والا تھا جو کچا تھا ایک طرف دو چار کمرے تھے یہ لوگ محنت کش تھے کوئی جوتیاں گانٹھتا تھا کوئی چنے دال وغیرہ کی پھیری لگاتا تھا یہ محنت کش جو تعزیہ بناتے تھے وہ وہی روایتی تھا بانس کی کھپچیوں ، رنگین ،گڈی کاٹ کاغذوں، پنیوں جھالروںسے بنا ہوا یہ تعزیہ دیکھنے کے لائق تھا ہم مہینہ پہلے ہی اسے بنتے ہوئے دیکھ پہنچ جاتے اور اسے بڑے بڑے بانسوں سے باندھ کے لایا جاتا تھا یہ لوگ چونکہ مزدور اور محنت کش طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ان کے ہاں کوئی بڑے علامہ یا زاکر نہیں ہوتا تھا بس یہ لوگ خود ہی پڑھتے پڑھاتے تھے یا شیعہ جامع مسجد کے امام تعزیہ برآمد کرواتے تھے پہلے مولانا جعفر حسین ہوتے تھے بعد ازاں جو بھی شیعہ مسجد کا خطیب ہوتا یہاں مجلس پڑھتا ۔۔
کانگڑہ ایک ویلی ہے جو پنجاب میں ہے یہ لوگ وہیں کے تھے ان کی زنجیر زنی مشہور تھی جو اسلام پورہ بازار میں ہوتی تھی گرمیوں میں یہ لوگ جب واپس آتے تو خواجوں والی گلی میں ان کے کئی عزادار بے ہوش ہو کے گر جاتے جنہیں بوری کا اسٹیچر بنا کے اٹھا لے جایا جاتا ۔
اب ان کے گھر تقسیم ہوگئے سب کے اُونچے اونچے گیٹ لگ گئے اور ماربل سے سج گئے یہ جلوس نیل بار بینک تک جاکے شام تک واپس آجاتا مگر انہوں نے اب عرصہ دراز سے جو ایک تعزیہ بنا رکھا ہے اسی کو برآمد کرتے ہیں وہ جو ہر سال نیاتعزیہ بنتا تھا وہ بات ختم ہو گئی
کرشن نگر کے کچھ معروف لوگوں کاذکر رہ گیا جیسے حافظ تصدق حُسین جو انتہائی جوشیلے مقرر ہیں شیعہ مسجد کے عقب میں رہائیش پزیرہیں شیعہ مسجد میں مولانہ جعفر حُسین بھی عرصہ دراز خطیب رہے جنہیں کسی شقی القلب نے مفتی جعفر حُسین گجرانوالہ کے نام کی شباہت میں قتل کر دیا نہایت دھیمے مزاج کے شریف النفس انسان تھے ان کے بعد ابوالحسن آئے تو قائم نقوی کے بڑے بھائی تھے یہ بھی بہت ملنسار حلیم طبع تھے رضا کاظمی جو نوجوانی میں ہمارے ساتھ پھرا کرتے تھے وہی نویں کے جلوس کے اعلانات کرتے تھے بعد ازاں ریڈیو پروڈیوسر ہوگئے پھر ہمارا تعلق سلام دُعا تک رہ گیا ۔خواجہ علی محمد کرشن نگر کی نئی آبادیوں کے مکین بنے یعنی وہ انصاری روڈ پہ آکے آباد ہوئے لمبے تڑنگے خواجہ علی محمد موچی دروازے کے تھے لاہور اومنی بس سروس میں ملازم تھے کبڈی کے کھلاڑی رہے ہوں گے کبڈی ایسوسی ایشن کے صدر ررہے نوازشرف کے قریب ساتھی بنے ان کا سارا خاندان انصاری روڈ پہ آباد تھا انہوں نے انصاری روڈ پہ پہلے مجالس پھر جلوس نکالے اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے سو اُس زمانے میں ہم اپنےآخری بس اسٹاپ کے مولاناکے ساتھ اس مجلس میں شریک ہوئے جہاں مولانا مشتاق الرحمٰن ہاشمی نے تقری کی یہ واقعہ مولانا کے متعلق مضمون میں ہے خواجہ صاحب آخر بس اسٹاپ کی مسجد میں بھی آئے تھے اتحاد بین المسلمین کے لیے ہم تب مسجد کمیٹی کے کرتادھرتا تھے ۔۔۔۔۔
ہم سارے دوست جن میں چندا، بلو، وجاہت نو اور دس محرم کی رات اندرون شہر گزارتے یوں تو عرسِ سید علی ہجویری اور عیدِ میلاد النبی کی راتیں بھی وہیں گزرتی تھی مگر یہ رات بہت عجیب ہوتی تھی رات گئے نثار حویلی سے نکلنے والا جلوس دیکھنے کے بجائے ہم شہر کی گلیوں میں پھرتے کہیں سے حلیم کہیں سے کھیر ، کہیں حلوہ کھاتے میٹھی نیاز اہلِ سنت کی ہوتی البتہ آخری پہر میں اذانِ علی اکبر سننے جاتے تھے جہاں زبردست زنجیر زنی ی ہوتی اور ہم دیکھتے ۔پہلی مرتبہ ان چھوٹی چھوٹی گلیوں میں ہم پہنچ گئے چھوٹی چھوٹی گلیوں میں سب لوگ زمین پہ بیٹھیے تھے ااذان ہورہی تھی ایک دوسرے میں دھنسے ہوئے سب گریہ کر رہے تھے ہم نے اذان بھی سُنی رقت بھی طاری بھی ہوئی اور ہوتی ہوئی بھی دیکھی مگر حی علی الفلا ح پہ جو زنجیر چلی ہے کہ یکدم بیٹھا گریہ کرتا مجمع اُٹھا اور زنجیر زنی ہوئی تو جس کے جدھر سینگ سمائے بھاگ لیا ہم سب بھی بچھڑ گئے کوئی موچی دروازے کے باہر ملا کوئی مسجد شب بھر کے پاس واپسی تانگے پہ ہوتی تھی چار آنے سواری۔ اگلے دن ہم دوپہر اس وقت پہنچتے جب جلوس اونچی مسجد پہنچ چکا ہوتا اور اس کا ایک سراسنہری مسجدکے پاس ہوتا بھاٹی گیٹ کے باہر گامے شاہ سے پہلے چوک میں زنجیر زنی ہوتی یہیں ہم نے مظہر شاہ جو بہت بڑا ویلن تھا اسے زنجیر زنی کرتے دیکھا بعد ازاں اقبال حسن جو بہت کامیاب ہیرو تھا اور ہیرو بھی ایسا کہ جیسے کوئی آجکل کے بڑے ہیرو کو عام سڑک پہ دیکھ لے اسُے بھی زنجیر زنی کرتے دیکھااقبال حسن مرحوم زرالوگوں پہ دھونس جماتے تھے لوگوں کو قریب نہ پھٹکنے دیتے تھے لوگ بھی ہیرو کو دیکھنا چاہتے تھے ۔سو یہ قدیمی ذولجناح نویں کی رات کو برآمد ہوکے دسویں کی شام گامے شاہ میں اختتام پزیر ہوتا ہم ایک مرتبہ گامے شاہ کے اندر تک چلے گئے جہاں سانس لینا محال ہوگیا پھر اند ر نہ جانے کا عہد کیا رش ہی ایسا تھا ۔
اندروں لاہور سے سُنی تعزیہ بھی نکلتا تھا یہ دس محرم کو نکلتا تھا غالباً لوہاری اندر وں سے نکلتاتھا اب وہ محلے یاد نہیں رہے جہاں جہاں سے یہ گزرتا تھادس محرم کی دوپہر میں ہم اس میں بھی جاتے تھے یہ تعزیہ شاید چونے یا کسی ٹھوس چیز سے بنا تھا اس کے مینار اور چھوٹا سا گنبد تھا اُ س زمانے میں لاہور کے گلی کوچوں میں گائیں بھینسیں عام کھلی پھرتی تھیں گوالے انہی گلیوں میں رہتے تھے شام میں یہ جانور اپنے گھروں کو آجاتے تھے ایک مرتبہ اندروں شہر میں پھرنے والی ایک گائے بپھر گئی اور ہجوم میں گھُس گئی سو جس کے جدھر سینگ سمائے بھاگ اُٹھاہم سب دوست ایک مکان کی سیڑھیوں پہ کھڑے تھے بھگدڑ مچی تو ہم سب دروازے کو دھکا دے کے اُوپر چڑھ گئے جہاں پردہ دار خواتین بیٹھیں تھیں جوسب سے پہلے اُوپر پہنچا وہ اللہ بخشے بلو تھا جسے گھر والوں نے خوب سنائیں بلکہ بے بہا سُنائیں نیچے والے ہم سب دم دبا کے نیچے اُتر آئے ۔
اس سُنی تعزیے کے ساتھ چلنے والے صرف پڑھتے تھے اور ساتھ ساتھ چلتے تھے ان میں مصائب کے کم اور فضائل کے اشعار زیادہ ہوتے تھے اس تعزیہ میں ترنم سے پڑھنے والا اقبال بٹ تھا جو ایبک کے مزار کے سامنے میوزک اکیڈمی چلاتا تھا ہم بھی وہاں جاتے رہے تھے ۔ بقول محشر زیدی کہ جب ہندومسلم اکھٹے تھے تب ان کے سامنے بہادری کے شعر پڑھے جاتے
تھے کہ ع؛؛؛
؛تلوار چلاتے تھے اکبر ہر وار پہ کہتے جاتے تھے ۔۔۔۔۔تلوار ہمارا زیور ہے رہتے ہیں سدا تلواروں میں
یہ قدیمی تعزیہ بند ہو گیا ۔ چونکہ ہماری ماں دس محرم کے دن ایک بالٹی میں شربت بنا کے دیتی تھیں جو ہم گلی سے گزرنے والوں کو پلاتے تھے پھر جب ہم کسی قابل ہوئے تو ہم بھی اپنے گھر کے باہر پانی اور شربت کی سبیل لگایا کرتے جو کسی فساد کی نذر ہو گئی پھر ہم سب دوست بڑے ہوگئے او ر اور پھر جدا ہو گئے ۔
