اپنوں کی یادیں تو کسی چیز کے ساتھ جب منسلک ہو جاتی ہیں تو وہ پھر یادیں ہمیشہ انسان کے دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں۔ جب جب وہ چیز سامنے آتی ہے تو انسان کو ایسا لگتا ہے جیسے اس کے پیارے اسے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی روحیں آس پاس بھٹک رہی ہیں۔ احساس کی دنیا دراصل دل کی دنیا ہے۔ انسان کے احساسات و جذبات جب ایک مجموعی شکل میں آتے ہیں تو وہ کسی نہ کسی ٹھوس چیز میں رچ بس جاتے ہیں۔ جونہی وہ ٹھوس چیز سامنے آتی ہے تو ہمیں وہ تمام نظارے پھر سے یاد آنے لگتے ہیں۔ وہ حسین منظر جو کبھی ہماری نظروں کے سامنے رہے تھے وہ پھر سے متحرک ہو جاتے ہیں۔
"اللہ میاں اسے کچھ نہ ہونے دینا، میں بے بس ہوں۔ اس تاریک رات میں کچھ کر بھی نہیں سکتی." عائشہ نے اپنے ڈوبٹے کے پلو سے اپنے آنسو خشک کرتے ہوئے دعا مانگی۔
وہ گائے کو بیٹھی دیکھے جا رہی تھی۔ اس کی گائے کو کوئی ایسی تکلیف تھی جس کی ابھی تک اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ یہ گاۓ اس کی کل کائنات تھی۔
اسے رہ رہ کر اماں کی یاد آ رہی تھی۔
یہ گائے وہ بچھیا تھی جسے اس کی اماں نے اپنے مرنے سے کچھ عرصہ قبل اس کے نام لگا دی تھی۔
اسے اماں کے الفاظ یاد آ رہے تھے۔ بچھیا کو دیکھ کر اماں نے کتنا خوش ہو کر کہا تھا، "یہ بچھیا تو میں اپنی عائشہ کو ہی دوں گی۔" وقت گزرتا رہا۔ اماں مر گئی اور بچھیا بڑی ہو کر بھوری رنگت کی گائے بن چکی تھی۔
ویسے تو عورت کو اپنے میکے کی ہر چیز پیاری لگتی ہے پر اماں ابا کے ہاتھ کا دیا تو اور بھی رومانیت سے بھرپور ہوا کرتا ہے۔ عائشہ کو بھی اپنی اس بھوری گائے سے کچھ ایسی ہی انسیت پیدا ہو چکی تھی۔ وہ کسی صورت بھی اس گاۓ کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ " ہش۔۔۔ ہش۔۔۔۔ میری رانی۔۔۔ جلدی ٹھیک ہو جا۔۔۔ اللہ تیرا حامی ہو۔۔۔۔ ہش۔۔۔ ہش۔۔۔" عائشہ نے گائے کو شفقت بھرے لہجے میں پچکار کر دعا دی۔ گا گائے پہلو بدلنے کی بیکار سی کوشش کی۔ عائشہ کے لیے اماں کی طرف سے ملنے والی یہ واحد نشانی تھی جسے وہ بڑے لاڈوں سے پال پوس رہی تھی۔ اب اس کی خواہش تھی کہ اس کا کوئی بچہ ہو اور اس کی نسل آگے بڑھے۔ عائشہ کا میکہ چند میل دور نہر تھل کنارے واقع تھا۔ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ موچھ گاؤں میں رہ رہی تھی۔ رات کافی بیت چکی تھی۔ اسی لمحے بجلی چلی گئی۔ عائشہ واپڈا والوں کو کوستی دوسرے کمرے کی طرف گئ۔ اندھیرے میں گاۓ نے بیٹھے بیٹھے اپنا پہلو بدلنے کی پھر سے کوشش کی۔ مگر ٹانگیں ادھر ادھر مار کر پھر سے ایک طرف لڑھک کر بیٹھ رہی۔ عائشہ جلدی جلدی لالٹین اٹھا کر آگے بڑھی۔ لالٹین کی روشنی میں گاۓ کو سنبھالا۔ گاۓ جگالی نہیں کر رہی تھی مگر اس کے منہ سے جھاگ ٹپک رہی تھی۔ "ہائے ربا۔۔۔ یہ کیا؟ میری گوری۔۔۔۔ کیا ہوا تجھ بے زبان کو۔۔۔۔ "
گائے کی حالت دیکھ کر عائشہ کے پسینے چھوٹنے لگے۔ عجب قیمت اور وسوسے پیدا ہونے لگے۔
مگر اگلے ہی لمحے خود کو دل ہی دل میں تسلی دی کہ چلو گوری آرام سے بیٹھ رہی ہے۔ گائے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور پھر گائے کے کمرے کی اندرونی دیواروں پر لٹکے پرانے ٹاٹ کے پردے درست کیے۔ سامنے والی دیوار کے ساتھ باجرے اور جوار کے خشک گھاس کے بڑے بڑے گٹھے دیوار کے ساتھ کھڑے کیے گئے تھے۔ وہ ابھی تک اسی طرح جڑے کھڑے تھے۔ ان کو ہاتھ لگا کر معلوم کیا کہ کہیں ان میں سے سرد ہوا تو نہیں آرہی۔ وہ گٹھے اپنی جگہ پر مضبوطی سے جڑے تھے۔ عائشہ لالٹین اٹھا کر واپس پلٹی۔ اسے دھڑکا سا لگا ہوا تھا۔ یہ گاۓ اس کے لیے ایسے تھی جیسے ماں نے اپنی کل پونجی اس کے حوالے کر رکھی ہو۔ جس کی حفاظت اس پر لازم تھی۔ حالانکہ اس کے ابا آٹھ قلعے کے مالک تھا۔ ابا نے ساری جائیداد اس کے بھائیوں کے نام کر دی تھی۔ لیکن پھر بھی عائشہ کو یہ بچھیا جو اب گوری گائے بن چکی تھی بہت ہی پیاری لگتی تھی۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے اماں ابا نے اس کے لیے بہت بڑی جائیداد اس کو ورثہ کر دی ہو۔ عائشہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ بجلی آگئی۔ دھوئیں اور مکڑی کے جالوں میں لپٹا بلب روشن ہوا۔ جس کی سرخ پیلی مدھم سی روشنی میں گائے صاف دکھائی دینے لگی۔ عائشہ نے جلدی سے اپنی لالٹین پھونک مار کر بجھا دی اور گائے کو ایک بار پھر تسلی سے دیکھنے قریب گئی۔ گائے اب آرام سے بیٹھی تھی۔ اس نے جاتے جاتے ایک بار پھر گائے پر ہاتھ پھیرا اور کمرے میں جا کر آرام سے لیٹ رہی۔نیند اس سے کوسوں دور تھی۔
