فرینڈز ناٹ ماسٹرز (تبصرہ)۔۔۔ صاحبزادہ روفی سرکار

 (ایک سیاسی و تاریخی جائزہ)
پاکستان کے سابق صدر اور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی سیاسی خود نوشت "Friends Not Masters" ملکی تاریخ کا ایک ایسا اہم اور متنازع باب ہے جو اپنے اندر نصف صدی سے زائد کا سیاسی و عسکری منظرنامہ سمیٹے ہوئے ہے۔ سن 1967ء میں شائع ہونے والی یہ کتاب محض ایک فرد کی بائیو گرافی نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے اس تشکیلی دور کی کہانی ہے جب ملک میں پہلی بار براہِ راست عسکری مداخلت کی بنیاد رکھی گئی۔ کتاب کا عنوان ہی اپنے اندر ایک گہرا سفارتی اور قوم پرست نظریہ چھپائے ہوئے ہے، جس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ پاکستان اور اس جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک کو عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات "آقاؤں اور ماتحتوں" کے بجائے ہمیشہ برابری اور "دوستوں" کی بنیاد پر استوار کرنے چاہئیں تاکہ قومی خودمختاری پر کبھی حرف نہ آئے۔
ایوب خان نے اپنی داستانِ حیات کا آغاز اپنی دیہاتی زندگی کے سادہ نقش و نگار، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حاصل کردہ تعلیم اور برطانوی ہند کی عسکری ملازمت کے احوال سے کیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب وہ ملک کے پہلے مقامی کمانڈر انچیف بنے، تو وہاں سے ان کی نظر ملکی سیاست کے مدوجزر پر گہری ہوتی چلی گئی۔ وہ کتاب میں پاکستان کے ابتدائی دور کے شدید سیاسی بحرانوں، جمہوری حکومتوں کی پے در پے ناکامیوں اور انتظامی و معاشی ابتری کا تفصیل سے نقشہ کھینچتے ہیں۔ مصنف کے مطابق یہ وہ ناگزیر حالات تھے جنہوں نے بالآخر اکتوبر 1958ء میں ملک کے پہلے مارشل لا کے نفاذ کی راہ ہموار کی، جسے وہ ایک آئینی ضرورت اور ملکی بقا کا واحد راستہ قرار دیتے ہیں۔
کتاب کا ایک بڑا حصہ ایوب دور میں نافذ کی جانے والی اصلاحات کے دفاع اور ان کی تفصیلات پر مبنی ہے۔ انہوں نے اپنے متعارف کردہ "بنیادی جمہوریتوں کے نظام" (Basic Democracies) کو پاکستان کے مزاج کے مطابق ایک بہترین متبادل کے طور پر پیش کیا، جس پر اس دور میں سخت تنقید بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے پنج سالہ منصوبوں، صنعتی انقلاب اور زرعی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا دورِ حکومت پاکستان کی معاشی خوشحالی کا سنہرا دور تھا۔ خارجہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے وہ سرد جنگ کے اس دور میں بھارت کے ساتھ روایتی تنازعات، امریکہ کے ساتھ پیچیدہ سٹریٹجک تعلقات، اور چین و سوویت یونین کے ساتھ سفارتی توازن قائم کرنے کی اپنی کامیاب کوششوں کو بڑی چابکدستی سے بیان کرتے ہیں۔
تاریخ دانوں اور سیاسی ناقدین کے نزدیک اس تصنیف کی علمی و تاریخی حیثیت دوطرفہ اور منقسم ہے۔ جہاں محققین کا ایک بڑا طبقہ اسے سرد جنگ اور پاکستانی سیاست کے ایک اہم ترین دور کو سمجھنے کے لیے ایک ناگزیر دستاویزی ماخذ مانتا ہے، وہاں ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کتاب معروضی حقائق سے زیادہ ایوب خان کے ذاتی نقطۂ نظر کی ترجمانی کرتی ہے۔ ان پر یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس تحریر کے ذریعے اپنے تمام تر غیر آئینی اقدامات، مارشل لا کے نفاذ اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی دانستہ کوشش کی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگرچہ اس کتاب پر مصنف کی ذاتی جانبداری اور اپنے اقدامات کے دفاع کا رنگ نمایاں ہے، لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان کی سیاسی، عسکری اور خارجہ پالیسی کے اتار چڑھاؤ کو گہرائی سے جاننے کے لیے ایک کلیدی ماخذ ہے۔ یہ کتاب آج بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنی اپنی اشاعت کے وقت تھی، کیونکہ یہ قاری کو اس دور کے حکمران کی سوچ اور فیصلوں کے پسِ پردہ محرکات کو براہِ راست سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !