قند-تاشقند -02 :پچاس برس کی ضمانت!۔۔عارف انیس

میں تاشقند انٹرنیشنل انوسٹمنٹ فورم کے ہال میں موجود تھا اس ہال میں دو کہانیاں جگمگا رہی تھیں۔

ایک اسکرین پر لشکارے مارتی تاریخ تھی، 2076۔ دوسری پوڈیم پر کھڑا وہ شخص تھا جس کی اپنی کہانی اس تاریخ سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ پہلے ہال دیکھیے، پھر خطاب، پھر وہ آدمی، اور آخر میں وہ آئینہ جس سے میں پورے سفر میں نظریں چراتا رہا۔

16 سے 18 جون۔ تاشقند انٹرنیشنل انویسٹمنٹ فورم، پانچواں سال۔ میرشود شاکروف کے ساتھ پہنچا تو دروازے پر ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ کسی ابھرتے ہوئے ملک کی نمائش نہیں، ایک ملک کی اٹھان کا اعلانِ آمد ہے۔ ہال میں تقریباً 4 ہزار مندوبین، مجموعی رجسٹریشن 10 ہزار سے اوپر، اور 41 ملکوں سے 200 سے زائد غیر ملکی صحافی۔ بلومبرگ، رائٹرز، بی بی سی، نکی، سب کے کیمرے ایک قطار میں۔ راہداریوں میں عربی، چینی، روسی، انگریزی اور ازبک ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔خلیجی وفود کی سفید عبائیں، یورپی بینکاروں کے گہرے سوٹ، دنیا کے بڑے نشریاتی اداروں کے کیمرے، اور ان سب کے بیچ نوجوان ازبک رضاکار لڑکے، لڑکیاں ، جن کی رواں انگریزی خود ایک خبر تھی۔ اسٹیج پر کئی ملکوں کے سربراہانِ حکومت بیٹھے تھے۔ چھوٹے ملک ایسے اجتماع کے خواب دیکھتے ہیں، سنجیدہ ملک انہیں منعقد کر لیتے ہیں۔

پھر صدر شوکت مرزیایوف پوڈیم پر آئے، اور اگلے چند منٹ میں مجھ پر کھلا کہ قوموں کی تقریریں بھی ان کی بیلنس شیٹ ہوتی ہیں۔

انہوں نے وعدے نہیں گنوائے، حساب دیا۔ بتایا کہ گزشتہ برسوں میں ازبکستان 150 ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاری اپنی طرف کھینچ چکا ہے، جس میں سے 123 ارب صرف پچھلے 5 برسوں کے ہیں۔ پھر وہ جملہ آیا جس پر میں نے اپنی نشست پر پہلو بدلا۔ کہا کہ 4 برس پہلے، اسی فورم کے پہلے اجلاس میں، ہم نے ہدف رکھا تھا کہ 2026 کے آخر تک ہماری معیشت 100 ارب ڈالر کی ہو جائے گی، اور اب توقع ہے کہ اسی برس ہم 180 ارب سے تجاوز کر جائیں گے۔

اس جملے پر رکیے۔ ایک قوم نے سب کے سامنے ہدف لکھا، پھر ہدف کو تقریباً 80 فیصد پیچھے چھوڑ دیا۔ ہم جیسے ملکوں میں منصوبے اکثر اس لیے مبہم رکھے جاتے ہیں کہ کل کوئی حساب نہ مانگ لے۔ یہاں منصوبہ اس یقین سے اعلان ہوا تھا کہ ناپا جا سکے۔ خواب اور منصوبے میں یہی فرق ہے۔ خواب گواہ نہیں مانگتا، منصوبہ مانگتا ہے۔

اعداد کی قطار آگے بڑھی۔ پچھلے برس معیشت 7.7 فیصد بڑھی۔ ایک ہی برس میں 43 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔ بین الاقوامی ذخائر 70 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ معاشی آزادی کے عالمی انڈیکس میں ملک 14 درجے چڑھا اور پہلی بار معتدل آزاد معیشتوں کی صف میں جا کھڑا ہوا۔ پھر انہوں نے آنے والے برسوں کا نقشہ کھینچا۔ سرمایہ کار کے قانونی تحفظ سے لے کر کیپٹل مارکیٹ تک، اعلیٰ قدر کی صنعت سے گرین انرجی اور مصنوعی ذہانت تک، علاقائی راہداریوں سے نئے شہروں تک۔ زمین کے نیچے 3 ہزار ارب ڈالر کی معدنی دولت کا ذکر آیا، اور تاشقند اور سمرقند میں مستقبل کی دھاتوں کے ٹیکنو پارکس کا اعلان ہوا۔

مگر ایک اعلان ایسا تھا جس پر شاید کم نظریں رکیں، اور میرا دل رک گیا۔ قراقلپاقستان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کا ایسا زون بنے گا جو 2040 تک ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گا۔ قراقلپاقستان وہی خطہ ہے جہاں کپاس کی پیاس نے پورا سمندر پی لیا تھا اور موئناق کی کشتیاں آج بھی ریت پر کھڑی ہیں۔ جس سرزمین سے پرانا نظام پانی لے گیا تھا، نیا نظام وہیں مستقبل رکھ رہا ہے۔ قومیں معافی ایسے بھی مانگتی ہیں۔
خطاب کے آخر میں ان کا لہجہ سوداگر کا نہیں، میزبان کا تھا۔ کہا کہ ہم ہر اس سرمایہ کار کے لیے کھلے ہیں جو برابری اور باہمی فائدے کی شراکت چاہتا ہے، اور بڑے منصوبوں کا سب سے اہم شراکت دار وہ ہے جو نیک نیتی سے آئے۔ سرمایہ کاری کو انہوں نے محض پیسہ نہیں، ٹیکنالوجی، علم اور روزگار کا دروازہ کہا۔ اور پورے خطاب کا حاصل وہی ایک سطر تھی جو اس سیریز کا مرکزی دھاگہ ہے۔ دروازے کھلے ہیں، اور کھلے رہیں گے۔
اب وہ آدمی، کیونکہ تقریر تب وزن پکڑتی ہے جب بولنے والے کی اپنی کہانی اس کی ضامن ہو۔

شوکت مرزیایوف 1957 میں جیزخ کے علاقے ظامین میں پیدا ہوئے۔ دارالحکومت کے شاندار محلوں میں نہیں، اندرونِ ملک۔ پیشے کے اعتبار سے وہ سیاست دان بعد میں ہیں، پہلے آب پاشی کے انجینئر ہیں۔ تعلیم انہوں نے تاشقند کے اس ادارے سے پائی جو سوکھی زمینوں تک پانی پہنچانے کا علم سکھاتا ہے۔ سوچیے، جس ملک کا سب سے بڑا زخم ہی پانی ہے، وہاں مقدر نے قیادت کے لیے پانی کا انجینئر چنا۔ پھر وہ جیزخ کے گورنر رہے، پھر سمرقند کے، اسی سمرقند کے جہاں تیمور اور الغ بیگ آسودہ ہیں۔ اور پھر پورے 13 برس، 2003 سے 2016 تک، وہ اسی بند نظام کے وزیراعظم رہے جس کے قصے اس سیریز میں آگے آئیں گے۔

یہی اس کہانی کا سب سے الجھا ہوا اور سب سے سبق آموز موڑ ہے۔ یہ کوئی باہر سے آیا ہوا انقلابی نہیں۔ یہ اس بند گھر کا اپنا منتظم تھا۔ اور 2016 میں جب چابیاں اس کے ہاتھ آئیں تو اس نے وہ کیا جو اندر کے آدمی کم ہی کر پاتے ہیں۔ کھڑکیاں کھول دیں۔ کرنسی، ویزے، سرحدیں، ہمسائے، ایک ایک کر کے۔ دیواروں کو سب سے بہتر وہی گراتا ہے جس نے عمر ان کے اندر گزاری ہو، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی اینٹ نکالنے سے پوری دیوار بیٹھ جاتی ہے۔

اسی خطاب میں اس اسکرین والی تاریخ کی وضاحت بھی تھی جو میرے لیے سب سے حیران کن اعلان تھا۔ تاشقند انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قیام کا اعلان۔اس اعلان کا وزن سمجھنا ہو تو پہلے سرمائے کا پہلا سوال سن لیجیے۔ سرمایہ منافع بعد میں پوچھتا ہے۔ پہلے یہ پوچھتا ہے کہ جھگڑا ہوا تو فیصلہ کون کرے گا، اور کس قانون پر۔ جس سرزمین پر اس سوال کا جواب دھندلا ہو، وہاں پیسہ سیر کرنے آتا ہے، بسنے نہیں۔ اسی لیے دبئی نے 2004 میں اور سنگاپور نے اپنے انداز میں اپنے اندر انگریزی کامن لا کے جزیرے بنائے۔ جانا پہچانا قانون، الگ ریگولیٹر، الگ ثالثی۔ دنیا کا سرمایہ انہی جزیروں پر اترتا ہے۔ 

 انگریزی کامن لا کے اصولوں پر خصوصی قانونی نظام، اپنا الگ آئینی قانون، اور کارپوریٹ ٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی، چاروں صفر، ابتدائی 50 برس کے لیے۔ سرمائے کا پہلا سوال منافع نہیں ہوتا۔ پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ جھگڑا ہوا تو فیصلہ کس قانون پر ہو گا۔ دبئی اور سنگاپور نے اسی سوال کے جواب میں اپنے اندر کامن لا کے جزیرے بنائے تھے، پڑوس میں آستانہ بنا چکا۔ تاشقند نے اب اسی بساط پر اپنا مہرہ رکھ دیا ہے، اور مدت لکھی ہے 2076۔ آج پیدا ہونے والا ازبک بچہ اپنی عمر کی گولڈن جوبلی تک یہ رعایت دیکھے گا۔ حکومتیں انتخابات تک سوچتی ہیں۔ یہاں ایک ریاست نے نصف صدی کا وعدہ لکھ کر دستخط کر دیے۔

اور اب وہ آئینہ، جس میں ازبکستان کی جھلک دیکھتے، پاکستان کا چہرہ نظر آتا ہے.

یہ ملک 1991 میں بنا۔ عمر 35 برس۔ میرا وطن 1947 میں بنا۔ عمر 79 برس۔ اور دیانت کا تقاضا ہے کہ پہلے یہ لکھوں کہ 35 برس کی عمر میں پاکستان بھی ستارہ تھا۔ 1980 کی دہائی کا پاکستان تقریباً 6 فیصد کی رفتار سے بڑھنے والی معیشت تھا جس کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ سو فرق پیدائش کا نہیں۔ فرق اس بات کا ہے کہ اگلے چالیس برس کس نے کیسے برتے۔
اب آج کے اعداد آمنے سامنے رکھیے۔ یہ کسی مخالف کے گھڑے ہوئے نہیں، دونوں دارالحکومتوں کے اپنے سرکاری کھاتوں کے ہیں۔

رفتار۔ ازبکستان پچھلے برس 7.7 فیصد بڑھا۔ پاکستان اس مالی سال 3.7 فیصد بڑھا ہے، اور ہمارے ہاں یہ خبر جشن کے ساتھ چھپی ہے کہ یہ 4 برس کی بلند ترین رفتار ہے۔ جو ان کا معمول ہے، وہ ہماری خوشخبری کا دگنا ہے۔

ذخائر۔ اور یہاں قلم رکتا ہے۔ ازبکستان کے بین الاقوامی ذخائر 70 ارب ڈالر سے اوپر ہیں، آبادی تقریباً پونے 4 کروڑ۔ پاکستان کے مجموعی ذخائر انہی دنوں تقریباً ساڑھے 21 ارب ڈالر تھے، آبادی تقریباً ساڑھے 24 کروڑ۔ فی کس حساب کیجیے تو ان کے پاس ہر شہری کے پیچھے تقریباً 19 سو ڈالر کھڑے ہیں، ہمارے پاس تقریباً 88 ڈالر۔ فرق لگ بھگ 22 گنا۔

اور ستم ظریفی یہ کہ سمندر ہمارے پاس ہے۔ ہزار کلومیٹر کا ساحل، گہرے پانی کی بندرگاہ۔ ادھر دنیا میں صرف 2 ملک ایسے ہیں جن کے سارے ہمسائے بھی خشکی میں بند ہیں، ایک ننھا سا لیختن اسٹائن، دوسرا ازبکستان۔ یعنی سمندر تک پہنچنے کے لیے اسے 2 سرحدیں پار کرنی پڑتی ہیں۔ سمندر والے قرض گن رہے ہیں، اور بے سمندر سونا تول رہا ہے۔

قرض کا ذکر آیا ہے تو یہ بھی سن لیجیے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے اپنے کھاتے کے مطابق پاکستان 1950 میں اس کا رکن بنا اور اب تک اس کے ساتھ 25 پروگرام کر چکا ہے۔ 76 برس، 25 معاہدے۔ اوسط نکالیے تو ہر تیسرے برس ایک۔ ہم نے قسط کو منصوبہ سمجھ لیا اور پروگرام کی مدت کو وژن۔ ہمارے ہاں بھی وژن آتے رہے، کبھی 2010 کا، کبھی 2025 کا، مگر ہر نئی حکومت نے پچھلی کی فائل الٹ دی۔ ہم فخر سے یہ قصہ بھی سناتے ہیں کہ کوریا نے کبھی ہمارا پانچ سالہ منصوبہ نقل کیا تھا۔ مؤرخ اس روایت پر بحث کرتے ہیں، مگر المیہ قصے کی صحت نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ساٹھ برس سے ہمارے پاس سنانے کو نیا قصہ نہیں۔ ادھر ایک 35 سالہ ملک 2040 کے مصنوعی ذہانت زون اور 2076 کی ٹیکس چھوٹ کے کاغذوں پر دستخط کر رہا ہے۔
اور حکمتِ عملی کا فرق ایک ہی منظر میں دیکھ لیجیے۔ صدر نے اپنے خطاب میں جن راہداریوں کا ذکر کیا ان میں ایک ٹرانس افغان کوریڈور ہے، جو ازبکستان کو جنوب کی بندرگاہوں تک لے جائے گا۔ جنوب کی بندرگاہیں یعنی ہمارے ساحل۔ بے سمندر ملک نے سمندر تک پہنچنے کا نقشہ بنا لیا ہے، اور نقشے کا راستہ ہم ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ جس کے دروازے پر قافلہ آ رہا ہے، وہ سرائے تیار کر رہا ہے یا سو رہا ہے۔

انصاف کی خاطر تین باتیں اور۔ مجموعی معیشت ہماری اب بھی ان سے ڈھائی گنا بڑی ہے، آبادی چھ سات گنا جو ہے۔ پاکستان کی سمت اس برس بہتر ہوئی ہے، برسوں بعد جاری کھاتہ فاضل میں آیا ہے۔ اور ازبک ماڈل کوئی جمہوری آدرش نہیں، سو یہ سبق سیاسی نظام کا نہیں، استقامتِ سمت کا ہے۔ مگر فی کس آمدنی میں وہ ہم سے تقریباً ڈھائی گنا آگے نکل چکے ہیں، اور دس برس پہلے یہ فاصلہ موجود نہ تھا۔

اپنے خطاب میں میں نے وہی کہا جو یہ موازنہ چیخ چیخ کر کہتا ہے۔ قوموں کا اصل اثاثہ تیل نہیں، سونا نہیں، سمندر بھی نہیں۔ اصل اثاثہ فیصلہ ہے، اور فیصلے پر دس برس قائم رہنے کی ہمت۔ دنیا آپ کو وہیں بٹھاتی ہے جہاں آپ خود کو بٹھاتے ہیں۔

تاشقند فورم کا نتیجہ تین دن میں سامنے آ گیا۔ 166 معاہدے ہوئے، مجموعی مالیت 43 ارب ڈالر سے زائد۔ اوسط نکالیے تو ہر دن تقریباً 14 ارب ڈالر۔ اور تناسب دیکھنا ہو تو یوں دیکھیے کہ یہ رقم اس ملک کی اپنی پوری سالانہ معیشت کے تقریباً تیسرے حصے کے برابر بنتی ہے۔ تین دن میں تہائی معیشت جتنے وعدے۔ دستخطوں کی روشنائی خشک ہونے کی رفتار سے قوم کا مستقبل لکھا جا رہا تھا۔

شام کو میرشود کی ٹیم مجھے شہر کے قلب کی طرف لے چلی۔ وہاں کانسی کا بنا ایک گھڑسوار میرا منتظر تھا۔

اور اس کے چبوترے میں وہ کہانی دفن تھی جو کسی سرکاری بروشر میں نہیں چھپتی۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !