طلب کی بات۔۔۔ سہیل طفیل

بھوک ختم ہو جائے تو حرکت بھی ختم ہو جاتی ہے
دو ہزار دس میں برٹش کونسل کی ایک ٹریننگ میں یوکے سے آئے ہوئے ایک ٹرینر نے ایک بہت گہری بات کی تھی۔
انہوں نے کہا:
انسان اس وقت تک حرکت میں نہیں آتا جب تک اسے بھوک نہ لگے۔
یہ بھوک صرف پیٹ کی نہیں ہوتی۔
ایک علمی بھوک ہوتی ہے۔
ایک روحانی بھوک ہوتی ہے۔
ایک جذباتی بھوک ہوتی ہے۔
ایک شناخت بنانے کی بھوک ہوتی ہے۔
ایک کچھ کر دکھانے کی بھوک ہوتی ہے۔
جب انسان کے اندر یہ بھوک زندہ ہو تو وہ سیکھتا ہے، محنت کرتا ہے، خطرہ لیتا ہے، ناکامی برداشت کرتا ہے، اور اپنے آپ کو بہتر بناتا ہے۔
لیکن جب بھوک مر جائے تو انسان زندہ ہوتے ہوئے بھی اندر سے سست ہو جاتا ہے۔
یہی مسئلہ بہت سے خاندانی کاروباروں کی دوسری اور تیسری نسل میں نظر آتا ہے۔
پہلی نسل نے بھوک دیکھی ہوتی ہے۔
کمی دیکھی ہوتی ہے۔
بازار کے دھکے کھائے ہوتے ہیں۔
ادھار مانگا ہوتا ہے۔
لوگوں کی باتیں سنی ہوتی ہیں۔
راتوں کو جاگ کر کاروبار کھڑا کیا ہوتا ہے۔
اس لیے پہلی نسل کے اندر آگ ہوتی ہے۔
مگر دوسری یا تیسری نسل اکثر تیار گھر، تیار گاڑی، تیار دفتر، تیار عزت، اور تیار آمدنی میں آنکھ کھولتی ہے۔
ان کے پاس سہولت ہوتی ہے، مگر مقصد نہیں ہوتا۔
وسائل ہوتے ہیں، مگر اضطراب نہیں ہوتا۔
آرام ہوتا ہے، مگر اندر کی بھوک نہیں ہوتی۔
پھر دن نیٹ فلکس، فلموں، دوستوں کی محفلوں، موبائل، سوشل میڈیا، اور بے مقصد مصروفیات میں گزرنے لگتا ہے۔
وہ کاروبار میں بیٹھتے ضرور ہیں، مگر کاروبار کے اندر نہیں اترتے۔
وہ مالک کہلاتے ہیں، مگر ذمہ داری نہیں اٹھاتے۔
وہ فیصلوں میں رائے دیتے ہیں، مگر بازار کی دھول نہیں کھاتے۔
وہ منافع چاہتے ہیں، مگر محنت کی قیمت نہیں سمجھتے۔
خاندانی کاروباروں کا اصل بحران کبھی کبھی سرمایہ، مارکیٹ، ٹیکس یا مقابلہ نہیں ہوتا۔
اصل بحران یہ ہوتا ہے کہ اگلی نسل کے اندر بھوک ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
اور جس نسل کے اندر بھوک ختم ہو جائے، وہ کاروبار کو آگے نہیں بڑھاتی۔
وہ صرف پچھلی نسل کی کمائی کو آہستہ آہستہ خرچ کرتی ہے۔
خاندانی کاروبار بچانے کے لیے صرف succession planning کافی نہیں۔
صرف shares کی تقسیم کافی نہیں۔
صرف office میں chair دینا کافی نہیں۔
اگلی نسل کے اندر دوبارہ بھوک پیدا کرنی پڑتی ہے۔
سیکھنے کی بھوک۔
اپنی شناخت بنانے کی بھوک۔
کاروبار کو نیا رخ دینے کی بھوک۔
اپنے والد یا دادا کی legacy کو ضائع نہ کرنے کی بھوک۔
اور سب سے بڑھ کر یہ احساس کہ:
میں صرف وارث نہیں ہوں، میں ذمہ دار بھی ہوں۔
جس دن یہ احساس جاگ جائے، اسی دن اگلی نسل صرف owner نہیں رہتی۔
وہ builder بن جاتی ہے۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !